اردو
Wednesday 16th of August 2017
code: 83566
حقيقي اور خيالي حق

مرد و عورت کے لئے بيان کئے جانے والے حقوق کو ان کي فطري تخليق، طبيعت و مزاج اور ان کي طبيعي ساخت کے بالکل عين مطابق ہونا چاہيے۔

آج کي دنيا کے فيمنسٹ يا حقوق نسواں کے ادارے کہ جو ہر قسم کے اہلِ مغرب، حقوقِ نسواں کے نام پر کتنا شور و غوغا اور جنجال برپا کرتے ہيں اور ان کي پريشاني کا سبب بھي يہي چيز ہے۔ کہتے ہيں کہ صرف ہم ہيں جو مقام زن کا پاس رکھتے ہيں۔ بہت خوب جناب ! يہ لوگ مقامِ زن کا اپني رسمي محافل، ميٹنگوں، خريد و فروخت کے مراکز اور سڑکوں پر خيال رکھتے ہيں اور وہ بھي اس سے صرف لذّت حاصل کرنے کے لئے ! ليکن کيا گھر ميں شوہر اپني بيوي کے ساتھ ايسا ہي ہے کہ جيسا باہر ہے؟ وہاں خواتين کو دي جانے والي اذيت و آزار، مردوں کے ہاتھوں خواتين کي مار پيٹ، گھر کي چار ديواري ميں اُس کا بُرا حال اور زُور و زبردستي کي حکمراني و غيرہ کتني زيادہ ہے؟ !

user comment
 

latest article

  قرآن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ(چہارم)
  قرآن نہج البلاغہ کے آئینے میں
  قرآن اور عقل
  قرآن و علم
  اہمیت شہادت؛ قرآن وحدیث کی روشنی میں
  قرآن مجید اور خواتین
  قرآن کےبارےمیں قرآن کی زبانی (دوم)
  چھوڑکے قرآن جہلِ جہاں پر کتنے برس برباد کئے
  قرآن مجید اور اخلاقی تربیت
  نور علی نور ، قرآن اورنماز کا باہمی رابطہ