اردو
Monday 24th of April 2017
code: 83625
آل فقاہت و شہادت کی ایک کڑی، گلستان حکیم کا ایک پھول

سید افتخار علی جعفری

آیۃ اللہ سید محمد باقر حکیم
ایک رجب ۱۴۲۴ ہجری قمری کو امام محمد باقر علیہ السلام کی ولادت کے روز آپ کی نسل پاک سے آپ کا ہمنام ایک فرزند ملکوت اعلیٰ کی طرف پرواز کر گیا اور اپنے محبوب کے دیار میں اطمینان قلب کے ساتھ حاضرہوگیا۔ اس سید بزرگوار نے اپنے نیک افکار اور صالح کردار سے الٰہی فرائض کو انجام دیا اور راہ محبوب میں اپنی ہجرت، مجاہدت اور تلاش وکوشش کا اجر اسی روز مولائے متقیان علی علیہ السلام کے مقدس روضے کے جوار میں حاصل کر لیا۔ اور ان کی پاک روح انکے شہید بھائیوں اور اجداد سے ملحق ہو گئی۔ شہید آیت اللہ محمد باقر حکیم کی یہ معراج مبارک باد۔

گلستان حکیم کا ایک پھول
خاندان حکیم کا شمار اپنے زمانے کے نیک اور باکردارلوگوں میں ہوتا تھا۔ فقاہت اور شہادت اس خاندان کا طرّء امتیاز تھا۔ آیت اللہ حکیم ، مرجع تقلید آیت اللہ سید محسن حکیم (رہ) کے فرزند ارجمند تھے کہ جو ۲۵ جمادی الاول سن ۱۳۵۸ ق (۱۹۳۰م) کونجف اشرف میں ایک باتقویٰ اور  اہل علم و ادب خاندان میں پیدا ہوئے آپ کے والد بزرگوار جدید تفکر کے مالک اور سیاسی و سماجی معلومات رکھنے کے حوالے سے مشہور تھے۔ سید محسن حکیم کی زیادہ تر اولاد اور رشتہ دار ۳۴ سالہ عراق کے حزب بعث کی حکومت کے دوران یا قید رہے یا شہید کر دئے گئے۔ اور خود انہیں بھی  زندگی کے آخری سالوں میں بعثی لشکر نے شدید شکنجوں میں گرفتار کیا۔ ۱۳۶۰ ھ کی ابتداء میں حکیم خاندان کے دسیوں افراد کو گولیوں سے چھلنی کر دیا لیکن شہید محمد باقر حکیم نے جہاد اور مزاحمت کے دشوار راستے کا انتخاب کرکے عراقی جوانوں کو بعثی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کرنا شروع کر دیا۔

حضرت امام خمینی (رہ) کی حکیم خاندان کی طرف خاص توجہ
امام خمینی (رہ) حکیم خاندان اور انکی عراق میں جد وجہد اور مجاہدت کی طرف خاص توجہ رکھتے تھے۔ اور مختلف مناسبتوں سے اپنی تقاریر اور بیانات میں ان کا تذکرہ کر کے اسلامی سماج کے اندر ان کی یادوں کا زندہ رکھتے تھے۔ امام نے اپنے ایک بیان کے اندر حکیم خاندان کو " آل شہادت اور فقاہت " کے لقب سے یاد کیا ہے۔ اور ایک دوسرے پیغام میں فرمایا: ہم اور آپ سب گواہ رہے ہیں کہ اس فاسد گروہ (بعثی) نے آیت اللہ حکیم اور انکے خاندان کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا اور آخری عمر میں یہ سید بزرگوار اور مظلوم کس خونی دل کے ساتھ اپنے اجداد سے ملحق ہوئے اور انکی اولاد کے اوپر ڈھائے گئے مصائب ، آلام اور مشکلات کے بھی آپ شاہد اور گواہ ہیں"۔۔۔۔

شہید حکیم کی علمی کاوشیں
شہید محمد باقر حکیم نے اپنی علمی کوششوں اور کاوشوں کے ذریعے ۱۳۸۵ق (۱۹۶۵م) میں فقہ و اصول اور تعلیمات قرآنی میں درجہ اجتہاد پر فائز ہو کر ایک نئے دور میں قدم رکھا۔ ۱۹۶۴ اور ۶۵ میں قرآنی علوم کی تعلیم اور تدریس کے عنوان سے بغداد کی الٰہیات یونیورسٹی میں استاد مقرر ہوئے۔ شہید اپنی مختلف سیاسی مجاہدات کے باوجود علم و دانش سے کنارہ کش نہیں ہوئے۔ اور اپنی علمی زحمتوں کے نتیجے میں ۶۰ کتابوں کے مصنف اور مختلف علوم میں منجملہ فقہ، اصول، قرآن ، تفسیر، اقتصاد، تاریخ وغیرہ میں رسالوں کو تحریر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کے نامور اساتید میں آیت اللہ سید یوسف حکیم، سید ابوالقاسم الخوئی، سید محمد باقر صدر اور کچھ دوسرے حوزہ علمیہ نجف کے بزرگان بھی شامل ہیں۔

سیاسی اور اجتماعی سرگرمیاں
شہید آیت اللہ محمد باقر حکیم نے ۱۹۵۷ء میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور ۱۹۵۹ء میں اپنے والد کے زیر نگرانی " حزب الدعوۃ الاسلامیۃ" کی تاسیس میں حصہ لیا۔ ۱۹۷۰ میں دوبارہ قید ہو گئے۔ آخری بار آزادی سے پہلے عراق کی خفیہ پولیس سے بچ کر عراق چھوڑنے اور شام کی طرف حرکت کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ۱۹۸۰ء میں انکے ساتھی شہید باقر صدر کی شہادت کے دوران ایران میں پناہ لی۔ سن ۱۹۸۲ء میں آپ کے خاندان کے ۱۲۵ افراد عراقی پولیس نے قید کرکے ان میں سے ۲۹ افراد کو شہید کر دیا ۔ سید مھدی حکیم، شہید حکیم کے بھائی بھی ۱۹۸۸ میں صدام کے اہلکاروں کے ذریعے سوڈان میں شہید کر دیئے گئے۔

مجلس اعلیٰ اور لشکر بدر کی تشکیل
شہید آیت اللہ محمد باقر حکیم نے اپنے دوستوں کے تعاون اور حمایت سے ۱۹۸۳ء میں عراق کے اسلامی انقلاب کی مجلس اعلی کو ایران میں تاسیس کیا۔ آپ سب سے پہلے اس مجلس میں اسپیکر کے عنوان سے مقرر ہوئے۔ اور چار سال اس ذمہ داری کو انجام دینے کے بعد ۱۹۸۷ میں مجلس اعلی کے سربراہ منتخب ہوئے۔ تقریبا اسی سال مجلس اعلی کی ایک فوجی شاخ کے عنوان سے لشکر بدر بھی تشکیل پایا۔ شہید حکیم نے بذات خود اس لشکر کی سربراہی اپنے ہاتھ میں لی۔ آیت اللہ حکیم اس ۲۲ سالہ ملک بدر کی مدت میں سات مرتبہ بعثیوں کی طرف سے کئے گئے حملات سے بال بال بچے۔

علمی میدان میں جہاد
شہید محمد باقر حکیم نے اپنی سیاسی اور سماجی مجاہدات کے علاوہ علمی میدان میں بھی انتھک زحمتیں اٹھائیں۔اور شہید سید عبد الصاحب حکیم، شہید سید عباس موسوی، اور حجۃ الاسلام محمد باقر مھری جیسے شاگردوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ مختلف کتابوں کو تالیف کرنے میں بھی کامیاب ہوئے۔ اسلامی اور سیاسی علوم میں چھپنے والی آپ کی ۲۲ عدد کتابوں میں سے ، علوم القرآن، تاثیر اہلبیت(ع) امت اسلامی کی تشکیل میں، اسلام کی نظر میں حقوق انسانی، حکومت اسلامی تھیوری اور واقعیت کے درمیان، کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔
 
دوسری ذمہ داریاں
شہید آیۃ اللہ محمد باقر حکیم بہت زیادہ زحمت کش اور محنتی انسان تھے مختلف میدانوں میں علمی اور عملی سرگرمیاں انجام دیتے تھے۔ عراق کی مجلس اعلی انقلاب اسلامی کی صدارت اور لشکر بدر کی سربراہی کے علاوہ مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کی اعلی کونسل کے سربراہ،  مجمع جہانی اہلبیت(ع) کی اعلی کونسل کے سربراہ، مذاہب اسلامی یونیورسٹی کی مجلس امناء کے رکن، اور نیز مؤسسہ " دار الحکمہ" کی سرپرستی کے فرائض بھی انجام دیتے تھے۔ مؤسسہ شہید صدر کی تاسیس، مرکز اسناد حقوق بشر، ہوسپیٹل، عراق کے مجاہد علماء کی جماعت کی تاسیس اور دسیوں دوسری فعالیتیں اس سید بزرگوار کی زحمات کا ایک گوشہ ہیں۔

وطن کے لیے منصوبہ بندی
آیت اللہ حکیم نے ایران میں موجودگی کے آخری دن بتاریخ ۳مئی ۲۰۰۳ کو نماز جمعہ  کے خطبات سے پہلے تقریر میں عراق کے مستقبل کے بارے میں تیار کئے گئے پروگراموں کے بارے میں یوں فرمایا: ’’میں اسلام کے لیے اس ملک کے اندر روشن مستقبل دیکھ رہا ہوں عراق کی آزادی اور استقلال ہمارا اصلی ہدف ہے اس عزم و ارادہ کو عملی جامہ پہنانے میں پورے طریقے سے کوشاں ہیں۔ عراق کی آزادی کے علاوہ عراق کے لوگوں کی مختلف امور میں قوت ارادہ کو محکم بنانے کے لیے بھی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ عراق میں عدالت نافذ ہونا چاہیے وہ عدالت کہ جو عراق سے کلی طور پر مفقود ہو چکی ہے۔ اور اس کے بعد عراق کی تعمیر نو کے بارے میں کوشش کریں گے۔ اور عراق کو انشاء اللہ اس کی اصلی اور معمولی حالت میں پلٹانے کی کوشش کریں گے۔ اور اس کا رابطہ اپنے ہمسایہ ممالک سے اور اپنے بھائیوں اور دوستوں سے بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔ خدا وند عالم سے مدد اور نصرت کی دعا ہے‘‘۔

ایران حکیم کی نظرمیں
شہید حکیم نے ایران میں موجودگی کے آخری دن تہران میں نماز جمعہ کے خطبات سے پہلے اپنی تقریر کے دوران ایرانیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنے ایران کے اندر گذارے ہوئے ایام کے ثمرات کے بارے میں فرمایا: ’’ان تمام سالوں میں جو میں نے اس مقدس سرزمین پر گزارے ہیں، علماء اعلام اور شہداء عظام کے ساتھ سانسیں لی ہیں، امام خمینی (رہ) اور دوسرے بزرگ ہستیوں مجاہدوں سے درس حاصل کیا ہے اور ایک ایسی دنیا کے اندر زندگی گزاری ہے کہ جس کے بارے میں ان چند لمحوں کے اندر بیان کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ ایسی دنیا کہ جو جانفشانی، فداکاری، شجاعت، صبر و استقامت اور الٰہی کامیابی سے ہمکنار تھی اور ایسی دنیا کہ جو عزت و کرامت کا ملک، اسلام و اہلبیت (ع)کا ملک، امام و عاشقان حسینی کا ملک ہے۔ میں نے اس تمام مدت میں عزت و کرامت کے ساتھ عشق و مہربانی کے ساتھ زندگی گزاری ہے۔

ایک مشترکہ امتیاز
شہید آیت اللہ حکیم نے ۳ مئی ۲۰۰۳ کونماز جمعہ  سے پہلے اپنی تقریر کے دوران ایرانی قوم اور عراقی مجاہدین کے درمیان ایک مشترک امتیاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:’’ہمارے اور آپ کے لیے یہ بات باعث فخر ہے کہ ہم نے اپنے شہیدوں کو ستاروں کی طرح آسمان کی بلندیوں اور خدا وند عالم کی طرف معراج بخشی ہے۔ اور اس عظیم نعمت کے لیے جو خداوندعالم نے ہمیں عطا کی اس کے شکرگزار ہیں‘‘۔

ایرانی عوام کا شکریہ
ایرانی عوام کے مہمان، شہید آیت اللہ حکیم (رہ) نے اپنی ایران کی چند سالہ مہمانی کے آخری روز نماز جمعہ سے پہلے والی تقریر میں ایران کے سرفراز اور سربلند لوگوں سے اس طرح خطاب کیا: ’’ہم یعنی تمام عراقی اور عراقی مجاہدین کہ جو اس ملک کے اندر شہیدوں کی معطر سانسوں کو محسوس کرتے رہے ہیں اور ان سے درس لیتے رہے ہیں اور انہیں اپنا نمونہ عمل قرار دیتے رہے ہیں ہم سب آپ کی تمام محبتوں اور عنائتوں کا شکر گزار ہیں''۔ شہید حکیم اس حال میں کہ انکی آوازدکھ سے گلے میں گھٹ رہی تھی اپنے آنسؤں کا سہارا لیتے ہوئے اس طرح سے فرمانے لگے: ’’آج ہم اس مدت کے آخری مرحلہ پر کھڑے ہیں لیکن میں خداوند عالم سے دعاگو ہوں کہ یہ میرا آپ لوگوں کے ساتھ آخری دیدار نہ ہو۔ اور دوبارہ آپ لوگوں سے ملاقات کر سکوں‘‘۔

وطن کی طرف واپسی
شہید آیت اللہ حکیم کئی سال ہجرت اور وطن سے دوری کے بعد ۱۰ مئی ۲۰۰۳ کو بصرہ کے راستے سے اپنے وطن وارد ہوئے۔ جبکہ امریکیوں نے سپاہ بدر کا عراق میں جانا ممنوع کر رکھا تھا۔ اس کے باوجود عراقی عوام نے شہید کا بے نظیر استقبال کیا۔ اور ان کے اس استقبال اور نجف اشرف کے اندر ثابت قدم ہونے نے مغرب کی سیاسی محفلوں کو نگراں کر دیا اور ان کی طرف سے عراق کے ستمدیدہ اور مظلوم لوگوں کے لیے بنائے گئے پروگراموں کے اعلان نے عراق پر ناجائز قابض افراد کے خوف و ہراس میں اضافہ کر دیا۔ نماز جمعہ میں نماز گزاروں کا جم غفیر جو شہید حکیم کی امامت میں نماز جمعہ ادا کر رہا تھا اور شہید کے عراق کی موجودہ صورت حال اور مشکلات پر غور و خوض اور ان کے برطرف کرنے کے لیے راہ حل کی تلاش میں کوشاں رہنے اور عراق کے لوگوں کی سیاسی اور سماجی  محرومیت کو درکنار کرنے کے لیے شہید کے عزم محکم کو دیکھ کر عراق کے جدید حاکموں کی نگاہوں سے مخفی نہیں کر سکا۔

حکیم عراقی لوگوں کے دلوں میں
آیت اللہ حکیم کی بے انتہا محبوبیت عراقیوں کے دلوں میں اور دشمن کی تیز اور چالاک نگاہوں نے عراقی شیعیوں کو امریکیوں کے خلاف قیام کرنے پر مجبور کر دیا۔ اور یہی وجہ تھی کہ عراق پر قابض امریکی آپ کے خاتمہ کے بارے میں سوچنے لگے تا کہ عراقی عوام اپنے رہبر کے وجود سے محروم ہو جائیں۔ تمام نگاہیں اس رہبرعظیم کی طرف مجذوب تھیں جبکہ دشمن انہیں دہشت گردانہ حملہ کا نشانہ بنانے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔

آخری لمحوں تک ثابت قدمی
شہید آیت اللہ حکیم نے زندگی کے آخری لمحوں تک ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور ایک لمحہ کے لیے بھی ان کے ارادوں میں لغزش نہیں آئی۔ اپنی شہادت سے چند منٹ پہلے نجف اشرف کے اندر نماز جمعہ میں دشمنوں کے خلاف صدائے اعتراض بلند کرتے ہوئے فرمایا: ’’ناجائز قابض فوجیوں نے اپنی ذمہ داری پردرست عمل نہیں کیا ہے ہم انہیں اور انکے طرز عمل کو محکوم کرتے ہیں بلکہ ہم ان کو عراق کے اندر بد امنی کا باعث سمجھتے ہیں  ہم نے تو پہلے سے ہی اعلان کیا کہ امریکی فوجیوں کو چاہیے کہ امنیت کے مسئلے کو خود عراقی عوام کے سپرد کر دیں۔ تا کہ وہ خود اپنے ملک کی امنیت اور سالمیت کو بحال کر سکیں اور ہم نے کہا تھا عراقی مومنین کا ایک فوجی لشکر تشکیل دیا جائے تا کہ وہ عراق کے مقدس مقامات کی امنیت کو بحال کرسکیں۔ اس لیے کہ امریکی فوج  کو ان مقامات کے قریب جانے کا حق حاصل نہیں ہے‘‘۔

آخری وصیت
آیت اللہ حکیم نے اپنی زندگی کے آخری لمحوں میں نماز جمعہ کے دوران امیر المومنین (ع) کے صحن مبارک میں اپنے ملک کے افراد کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:’’عراق کے لوگ اتحاد اور بھائی چارگی کے ساتھ اپنے ملک کے اندر صلح اور امن و امان برقرار کر سکتے ہیں" اس ملک کے آئندہ وزیر کے انتخاب کے لیے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: ’’عراق کے مستقبل وزراء کو نیک و صالح افراد میں سے ہونا چاہیے اور تمام گروہوں اور اقوام سے منتخب کیے جائیں تاکہ اپنی تمام کو ششوں سے عراق کے لوگوں کی مشکلات حل کرسکیں‘‘۔

آخری پرواز
عالم ملکوت کی طرف پرواز کا وقت پہنچ چکا تھا نماز گذاروں کی پاکیزہ روحیں بھی آہستہ آہستہ  اپنے رہبر اور رہنما کے ساتھ پرواز کرنے کے لیے آمادہ ہو رہی تھیں عروج اور بلندی کے لمحات قریب  تھے اور وہ خبر آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے :’’نجف اشرف میں امام علی علیہ السلام کے حرم مطہر کے پاس  ایک شدید کار بم دھماکے کی وجہ سے آیت اللہ  سید محمد باقر حکیم اور ان کے ساتھ ۷۲ جانثار نمازی شہید ہو گئے اور ۲۳۰ لوگ زخمی ہو گئے۔ اور مرقد مطہر امام علی علیہ السلام  کی دیوار کا ایک حصہ بھی مسمار کر دیا گیا۔ اور بہت سارے نماز گذار اس کے نیچے دب گئے۔ دھماکہ خیز مواد سے بھری کار روضہ امام(ع) کے جنوبی حصہ کی طرف پارک تھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دشمن آیت اللہ حکیم کے اس دروازے سے رفت و آمد کی پوری اطلاع رکھتے تھے۔

user comment
 

latest article

  نائیجیرین فورس کا پرامن مظاہرین پر تشدد، اسلامی تحریک کا ...
  اہل سنت رکن پارلیمنٹ کا شامی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی
  یمنی رضاکاروں نے سعودی فوجی ہیلی کاپٹر مار گرا کر ۱۲ سعودی ...
  ایران کے بعض مشرقی صوبوں میں آئے سیلاب سے متاثر افراد سے ...
  شام، فوعہ اور کفریا کے باشندوں کو منتقل کرنے والی بسوں پر ...
  مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام منعقدہ کنونشن کی اختتامی ...
  آل فقاہت و شہادت کی ایک کڑی، گلستان حکیم کا ایک پھول
  حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت پر سعودی خاتون کو عدالت کے ...
  داعش کے کیمیاوی ہتھیاروں کے گودام پر امریکی حملہ! یا پھر شام ...
  نائیجیریا میں دہشتگرد گروہ بوکو حرام کے 57 دہشتگرد ہلاک