اردو
Tuesday 24th of October 2017
code: 83707
احادیث رضوی کے آینہ میں امام مہدی (عج)

امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کے وجود مبارک اور ان کی باعظمت شخصیت کے حوالے سے پیغمبر اسلام اور ائمہ اھل بیت رسول علیھم السلام سے منقول تمام تر احادیث ہم آھنگ اور ملتی جلتی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روز اول سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ اور ان کے برحق معصوم جانشین ائمہ اھل بیت علیھم السلام امام مہدی(عج) اور ان کے ذریعہ سارے جہان پر اسلام کے غلبے والے مسئلہ پر خصوصی عنایت رکھتے تھے اور چاہتے تھے کہ اپنے پیروکاروں کو بھی اس اہم موضوع سے بھی صحیح طریقے سے باخبر کریں۔
بڑے بڑے محدثین اور مصنفین جیسے حمیری قرب الاسناد میں، محمد یعقوب کلینی کافی میں، محمد بن علی صدوق عیون اخبار الرضا میں، ابو جعفر محمد بن حسن طوسی کتاب غیبت میں اور مکتب امامت اھل بیت کے دیگر علماء فضلاء کرام نے امام رضاعلیہ السلام سے مہدی موعود(عج) اور قائم آل محمد کے بارے میں بہت سی احادیث نقل فرمائیں، مسند الامام الرضا کے مصنف کے مطابق امام رضا علیہ السلام سے امام مہدی(عج) کے بار ے میں تقریبا پینتیس احادیث منقول ہوئی ہیں امام ہشتم نے امام زمانہ(عج) کے حوالے مختلف نکات پر گفتگو کی ہے ان کی شخصیت پر، ان کی صفات و خصوصیات پر، ان کی طول غیبت پر، ان کے انتظار اور ان کے ظہور کے علامات پر.....
امام زمانہ(عج) کے حوالے سے ان گرانبہا احادیث کو چند اھم نکات میں تقسیم کرتے ہوئے ترتیب سے بیان کرتے ہیں۔

 
1. زمین حجت خدا سے خالی نہیں

سب سے پہلا نکتہ ان احادیث مبارک سے یہ ملتا ہے کہ زمین پر امام اور حجت خدا کا وجود ضروری ہے خواہ وہ انسانوں کی نگاہوں سے دور ہی کیوں نہ ہو۔
سلیمان بن جعفر حمیری کہتے ہیں سئلت الرضا علیه السلام فقلت تخلوا الارض من حجة فقال علیه السلام لو خلت الارض طرفة عین من حجة لساخت باهلها 1
راوی کہتا ہے کہ میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا آیا زمین حجت خدا کے بغیر رہ سکتی ہے تو امام علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر زمین پلک جھپکنے کے عرصہ کے برابر حجت خدا سے خالی رہ جائے تو وہ اپنے اوپر سب رہنے والوں کو نگل لے گی۔
حدیث کے راوی سلیمان بن جعفر حمیری جناب عبد اللہ بن جعفر طیار کی نسل مبارک سے تعلق رکھتے ہیں اپنے زمانہ کے اعلی پائے کے مصنف، محدث اور ثقہ تھے، شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے انہیں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام اور حضرت امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں سے شمار کیا ہے، یہ حدیث اور بھی راویوں سے نقل ہوئی ہے اگرچہ الفاظ میں کچھ حد تک اختلاف ہے لیکن معنی اور مضمون کے اعتبار سے یہی معنی دے رہی ہے، البتہ یہ توجہ رہے کہ ہمیں اپنے عقائد اور تاریخ کے مسائل میں فورا فیصلہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ تامل اور دقت کے ساتھ ان پر توجہ دینی چاہئے اب اسی مطلب کے حوالے سے ہمیں پہلے غور کرنا چاہئے کہ تخلیق اور مخلوقات کی بقا یا فنا کی کلید پروردگار کے ہاتھ میں ہے، کائنات کا نظام اس خالق حکیم کے ازلی و ابدی ارادے کے تحت چل رہا ہے جب تک اس قادر مطلق کی منشا مرضی ہے اس کرہ خاکی پر حیات ہے اور مخلوقات اور پروردگار کے درمیان حجت خدا کا پرفیض وجود بھی ہے اور اگر کسی لمحہ یہ وجود مبارک حجت زمین پر نہ رہے تو یہ سمجھ لیا جائے کہ اس خالق مطلق کی منشاء یہ ہے کہ اس کرہ خاکی پر اب حیات نہ رہے۔

 
2. امام قائم (عج) کا اھل بیت پیغمبر سے ہونا

احادیث رضوی میں دوسرا نکتہ یہ ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام جو کہ قائم آل محمد کے لقب سے معروف ہیں وہ اہل بیت پیغمبر(ص) سے امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی نسل سے اور امام حسین بن علی علیہ السلام کی اولاد سے ہیں ۔
حسین بن خالد حضرت امام رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ اپنے آباو اجداد کے پاکیزہ سلسلہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: میں کائنات کا سردار اور پروردگار کی مخلوقات کا سرور و آقا ہوں میں جبرائیل، میکائیل، اسرافیل، حاملان عرش اور تمام تر فرشتوں کی نسبت پروردگار کا مقرب ہوں تمام انبیاء مرسلین سے افضل ہوں، میں صاحب شفاعت اور صاحب حوض شریف ہوں، میں اور علی میری اس امت کے دو باپ ہیں جس نے ہماری معرفت پیدا کی اللہ تعالی کی معرفت پیدا کی اور جو ہمارا منکر بنا وہ اللہ تعالی کا منکر بنا، امت کے سبط اور جنت کے جوانوں کے سردار علی کے دونوں فرزند ہیں اور حسین کی نسل سے نو امام ہیں ان کی اطاعت میری اطاعت ہے اور ان کی نافرمانی میری نافرمانی ہے اور ان میں سے نواں قائم اور مہدی ہے 2 ایک اور حدیث میں امام رضا علیہ السلام اور ان کے آباؤ و اجداد کے پاکیزہ سلسلہ کے ذریعہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے امام حسین علیہ السلام سے فرمایا التاسع من ولدک یا حسین هو القائم بالحق المظهر للدین والباسط للعدل...... 3
اے حسین تمہارا نواں فرزند وہی ہے کہ جو حق کے ساتھ قیام کرے گا دین کو ظاھر کرے گا اور عدل و انصاف کو وسعت دے گا۔ ۔ ۔ ۔
تیسری حدیث میں حسن بن عبد اللہ تمیمی امام رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ا پنے آباؤ و ا جداد کے پاکیزہ سلسلہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ فرماتے ہیں لاتقدم الساعة حتی یقوم القائم للحق منا و ذلک حین باذن الله عزوجل و من تبعه نجی و من تخلف عند هلک 4
جب تک ہمارے خاندان سے حق کا قائم قیام نہیں کرے گا قیامت بپا نہ ہوگی اور یہ اس وقت ہوگا جب اللہ تعالی اجازت مرحمت فرمائے گا اور جس نے بھی اس کی پیروی کی وہ نجات پاجائے گا اور جس نے اس کی نافرمانی کی وہ ھلاک ہوجائے گا ۔
چوتھی حدیث بھی اسی طرح امام رضا علیہ السلام اور ان کے آباؤ و اجداد کے پاکیزہ سلسلہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا آئمہ حسین کی نسل سے ہیں جس نے ان کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالی کی اطاعت کی جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے اللہ تعالی کی معصیت کی، وہ عروۃ الوثقی اور اللہ تعالی کے ساتھ ملا ہوا رابطہ ہیں 5
پہلی دونوں حدیثوں کے راوی جناب حسین بن خالد اور باقی دونوں حدیثوں کے راوی جناب حسین بن عبداللہ تمیمی ہیں کہ دونوں امام رضا علیہ السلام کے اصحاب ہیں اور علم رجال کے ماہرین دونوں کی توثیق کرتے ہیں 6

 
3. صبر اور انتظار فرج

احادیث رضوی میں امام مہدی عج کے حوالے سے تیسرا نکتہ صبر اور ان کا انتظار ہے یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ صبر کرنا سخت اور کسی کا انتظار بہت ہی دشوار ہے۔ بالخصوص وقت کے امام کی غیبت میں صبر اور ان کی انتظار کے لئے بہت وسیع حوصلہ اور محکم ایمان چاہئے اسی پچھلی حدیث میں کہ جس کے راوی خالد ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کو امام حسین علیہ السلام کے نواں فرزند کے حوالے سے تعارف کروایا گیا ہے اسی حدیث میں بعد میں امام حسین علیہ السلام اپنے والد بزرگوار امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے پوچھتے ہیں کہ والد محترم اے امیر المومنین آیا ایسا ہوگا؟ تو امیر المومنین فرماتے ہیں! کیوں نہیں قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کو مقام نبوت پر فائز کیا اور انہیں تمام مخلوقات پر فضیلت بخشی یقینا ایسا ہی ہوگا لیکن ان کی غیبت کے بعد وہ مخلصین کہ جن کے سینوں میں روح یقین ہوگی ان کے علاوہ کوئی بھی اپنے دین پر ثابت قدم نہیں رہے گا یہ وہ مخلص لوگ ہوں گے کہ اللہ تعالی نے ان سے ہماری ولایت کا محکم پیمان کی طرح عہد لیا ہے اور ان کے دلوں پر ایمان تحریر کیا ہے۔....... 7 انتظار کی اہمیت قدر و قیمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کو ان کے انتظار کی بدولت صادق الوعد کا لقب دیا سلیمان جعفری نے امام رضا علیہ السلام سے حدیث نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کیا تم لوگ جانتے ہو کہ اللہ تعالی نے حضرت اسماعیل کو کیوں صادق الوعد کا لقب دیا؟ کیونکہ انہوں نے ایک شخص کو وعدہ دیا تھا اور ایک سال تک اس کے انتظار میں بیٹھے رہے 8 احمد بن محمد بن ابی نصیر روایت کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ما احسن الصبر وانتظار الفرج..... 9 صبر و انتظار کس قدر بہتر ہے آیا آپ نے یہ سنا کہ عبد صالح نے کہا فارتقبوا انی معکم رقیب 10 تم نگرانی کرو میں بھی تمہارے ساتھ نگرانی کرتا ہوں وانتظرو انی معکم من المنتظرین 11 تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں پس تم پر ضروری ہے کہ صبر کرو کہ ناامیدی کے بعد رہائی ہے تم سے پہلے والے لوگوں کا صبر تم سے زیادہ تھا، یہی راوی امام رضا علیہ السلام سے ایک اور حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اما والله لایکون الذی تمدون الیه اعینکم حتی تمیزوا او تمحصوا حتی لم یبق منکم الا الاندرتم تلا ام حسبتم ان تترکوا و لما یعلم الله الذین جاهدوا منکم و یعلم الصابرین؟ 12 اللہ کی قسم جس چیز پر تم نے آنکھیں لگائی ہیں وہ یہیں رہے گی یہاں تک کہ تم یا مخلص ہوجاؤ گے یا اس طرح آپس میں جدا جدا ہوجاؤ گے کہ سوائے کچھ لوگوں کے تم میں سے کچھ باقی نہ رہے گا پھر آپ نے یہ تلاوت فرمائی یا تم سمجھتے ہو کہ چھوٹ جاؤگے اور اللہ تعالی تم میں سے مجاھدین اور صابرین کو نہ پہچانے گا؟
ایک اور حدیث میں حسن بن جھم فرج کی حقیقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو امام رضاعلیہ السلام جواب فرماتے ہیں اولست تعلم ان انتظار الفرج من الفرج 13 آیا تم نہیں جانتے کہ فرج کا انتظارکرنا بذات خود فرج و گشایش ہے ۔
پانچویں حدیث میں امام رضا علیہ السلام اپنے اباو و اجداد کے سلسلہ الذھب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا افضل اعمال امتی انتظار فرج اللہ میری امت کا سب سے زیادہ فضیلت والا عمل الہی فرج (وسعت) کا انتظار کرنا ہے۔ 14
یہ بہت گہری بات ہے ایسی چیز کے لئے روح بزرگ اور مقام کمال انسانی چاہئے، جس طرح کہ صبر و حوصلہ کی کمی انسان کے وجود میں نقص و ضعف کی علامت ہے اس کے برعکس صبر و تحمل کی قوت اور پھر حوصلہ مندی سے مزین ہونا ہی انسان میں ایسی حالت پیدا کرتا ہے گویا کہ اسے فرج اور وسعت حاصل ہوچکی ہے، کیونکہ ظہور کے وقت انسان مومن خدمت کے لئے تیار ہو اور ہر قسم کی مالی و جانی قربانی دینے پر مصمم ہو اور جس وقت انسان اپنے امام کے بارے میں صحیح معرفت پیدا کرلیتا ہے تو پھر وہ ہر لمحہ اس کی خدمت یا اس کے انتظار میں ہوگا، البتہ نہ وہ انتظار کہ جو عام سے مفہوم رکھتا ہے بلکہ روحی طور پر ایسی حالت میں ہونا کہ اگر صاحب الامر ظہور فرمائیں اور اللہ تعالی اس کے لئے فرج و گشایش لے آئے تو اس کی تیاری میں کوئی مانع نہ ہو بلکہ وہ تو شروع ہی سے گویا مکمل طور پر ہر حوالے سے آمادہ تھا۔

پس گویا دو نکتوں پر توجہ رہے:
1. فرج کا انتظار افضل ترین عمل ہے۔
2. حقیقی معنوں میں انتظار بذات خود فرج ہے دوسرے لفظوں میں اس کا فرج سے کوئی فاصلہ نہیں ہے۔

 
4. ظہور کی علامات

جیسا کہ پہلے عرض کرچکے ہیں کہ جہاں تک خود امام زمانہ(عج) کے وجود مبارک اور ان کے ظہور مقدس کا تعلق ہے جو احادیث اس حوالے سے محمد و آل محمد علیھم السلام سے نقل ہوئی ہیں ان میں کوئی اساسی اختلاف نہیں ہے سب معنی اور مضمون کے اعتبار سے ایک جیسی ہیں، لیکن جہاں تک ان کے ظہور کی علامات کا تعلق ہے وہ کافی حد تک مشتبہ ہیں دوسرے لفظوں میں ان کی سند اور ان کے مضمون میں کچھ حد تک ضعف ہے، کیونکہ بہت سے تاریخی واقعات شاھد ہیں کہ بڑے بڑے مقتدر خلفاء اور ظالم و جابر حکمران امام زمانہ(عج) کے قیام کے حوالے سے روایات سے بہت ھراساں تھے اور ان کے لئے یہ حساس ترین مسائل میں سے تھا، تو انہوں نے زر و دنیا کے ھوس زدہ اپنے درباری محدثین اور علماء نما لوگوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسی احادیث کو تحریف سے آلودہ کیا، مگر اس کے باوجود وہ احادیث جو امام رضا علیہ السلام سے ہم تک پہنچی ہیں ان میں پھر بھی ہمارے لئے بہت خوبصورت اور قابل توجہ نکات موجود ہیں۔
ریان بن صلت کہتے ہیں: کہ امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ آیا آپ صاحب الامر ہیں؟ تو امام رضا علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کیوں نہیں میں صاحب الامر ہوں لیکن وہ صاحب الامر کہ جو ظلم و ستم سے بھری ہوئی زمین کو عدل و انصاف سے پر کرےگا وہ میں نہیں ہوں میں کیسے وہ امام ہوسکتا ہوں حالانکہ تو دیکھ رہا کہ میں جسمانی طور پر ناتوان ہوں امام قائم وہ ہے کہ جب ظہور کرے گا وہ جوان ہوگا اگرچہ عمر کے اعتبار سے وہ جوان نہیں ہوگا اس کے اعضاء طاقتور ہوں گے کہ اگر کسی درخت پر اپنا ہاتھ رکھے تو اسے جڑ سے اکھاڑ دے گا اگر پہاڑوں کے درمیان آواز بلند کرے تو پتھر اپنی جگہ سے اکھڑ جائیں گے ہاتھ میں عصائے موسی انگلی میں سلیمان کی انگوٹھی ہوگی اور وہ میرا (نسل کے اعتبارسے) چوتھا فرزند ہوگا اللہ تعالی اسے پس پردہ جس قدر چاہے گا پوشیدہ رکھے گا پھر اسے ظاھر کرے گا وہ زمین جو کہ ظلم و ستم سے پر ہوچکی ہوگی وہ اسے عدل و انصاف سے پر کرے گا 15
ایک اور حدیث کہ جس کے راوی حسن بن محبوب ہیں امام رضا علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں ینادون فی رجب ثلاثة اصوات من السماء صوتا فیها الا لعنة الله علی الظالمین والصوت الثانی ازفت الازفة یا معشر المومنین والصوت الثالث یرون بدنا بارزا نحو عین الشمس هذا امیر المومنین قد کر فی هلاک الظالمین 16
لوگ تین بلند آوازیں سنیں گے ان میں سے ایک یہ آواز ہوگی جان لو کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے دوسری آواز یہ ہوگی اے مومنین قیامت نزدیک آگئی ہے تیسری آواز میں ایسے بدن کو دیکھیں گے کہ جو سورج کے چشمہ کی طرح ظاھر ہوگا یہ امیر المومنین ہیں انہوں نے ظالموں کی ہلاکت کے قصد سے حملہ کا آغاز کردیا ہے۔

 
5. ظہور کا زمانہ

امام رضا علیہ السلام کی احادیث میں ظہور کے زمانہ اور امام زمانہ(عج) کی بعض خصوصیات ذکر ہوئی ہیں در حقیقت ان احادیث نے دنیا پرست اور جھوٹے دعوی مہدی کرنے والوں کے ناپاک عزائم ناکام کردے ہیں۔
حسین بن خالد روایت کرتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا جس کے پاس تقوی اور پرہیزگاری نہ ہو اس کے پاس دین نہیں ہے اور جس کے پاس تقیہ نہ ہو اس کے پاس ایمان نہیں ہے تم میں سے اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ احترام والا وہ ہے کہ جو سب سے زیادہ تقیہ پر عمل کرے۔
امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا اے فرزند رسول تقیہ کب تک ہے تو آپ نے فرمایا: وقت معلوم کے دن تک اور وہ دن ہم اہل بیت کے قائم کا دن ہے پس جس نے ہمارے قائم کے خروج سے پہلے تقیہ چھوڑ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور امام رضا علیہ السلام نے فرمایا میرا چوتھا (نسل کے اعتبار سے) فرزند کنیزوں کی سردار کا فرزند ہوگاکہ اللہ تعالی اس کے ذریعہ زمین کو ظلم و جور کی آلودگی سے پاک فرمائے گااور وہ امام ہے کہ بعض اس کی ولادت میں شک رکھیں گے اور ظہور کرنے سے پہلے طویل عرصہ تک غائب رہے گا اور جب ظہور کرے گا تو زمین اس کے وجود کے نور سے روشن ہوجائے گی لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کا ترازو رکھا جائے گا پس کوئی کسی پر ظلم نہ کرے گا، وہ ایسا امام ہوگا کہ زمین اس کے پاؤں کے نیچے روشن نظر آئے گی اور اس کا جسم سایہ کے بغیر ہوگا اور وہی ہوگا کہ آسمانی آواز جسے سب سنیں گے اس کی طرف بلائے گی اور کہے گی جان لو کہ حجت خدا بیت اللہ کے پاس ظاھر ہوگئی ہے اس کی طرف چل پڑو کہ حق اس کے ساتھ ہے اور اس کے وجود میں ہے اور یہ اللہ کی کلام ہے کہ اس نے فرمایا ان نشا تنزل علیهم السماء آیة فظلت اعناقهم لها خاضعین کہ اگر ہم چاہیں ان پر آسمان سے آیت نازل کریں تو ان کی گردنیں اس آیت کی خاطر جھک جائیں گی 17
ایک اور حدیث میں آپ کے بعض شاگرد آپ سے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں سوال و جواب کرتے ہیں تو امام فرماتے ہیں: قائم کا مسئلہ پروردگار کی طرف سے یقینی ہے جس طرح کہ سفیانی بھی خروج کرے گا، تو ایک شخص نے پوچھا کیا اس سال ہوگا آپ نے فرمایا ماشاء اللہ جیسا اللہ چاہے پھر اس نے پوچھا آیندہ سال؟ آپ نے فرمایا یفعل الله ما شاء الله جو چاہے وہی کرتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہ امام علیہ السلام کے ظہور کو سفیانی کے خروج سمیت ایک یقینی بات فرماتے ہیں لیکن ظہور کے زمانہ کے بارے میں وضاحت نہیں فرماتے، اس چیز کو اللہ تعالی کی مشیت و مرضی پر چھوڑ دیتے ہیں، حدیث دعبل میں کہ جب قائم آل محمد علیھم السلام کا ذکر آتا ہے تو ان کا نام، ان کی علامات اور ان کی بعض خصوصیات کے بارے میں دعبل کو بتاتے ہیں اور آخرمیں فرماتے ہیں کہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہ کب اور کس زمانے میں ظہور کریں گے یہ گویا ان کے وقت ظہور کی خبر ہے، میرے والد محترم اپنے والد محترم سے وہ اپنے آباؤ واجداد سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ اس سوال کے جواب میں کہ آیا قائم آپ کی ذریت اور نسل مبارک سے ہے اور کب ظہور کریں گے؟ فرماتے ہیں اس کی مثال قیامت کی مانند ہے کہ پروردگار فرماتاہے لایجلها لوقتها الا هو ثقلت فی السموات والارض لایاتیکم الا بغتة وہ (اللہ) اسے اپنے وقت پر ظاھر کرے گا مگر یہ کہ وہ (گھڑی) آسمانوں اور زمین پر بھاری ہوئی اور تم پر اچانک آجائے گی (اعراف، آیت ۱۸۷) 18

 
6. طولانی غیبت

عبد السلام بن صالح ھروی ایک حدیث میں امام رضا علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ اپنے اباؤ و اجداد کے پاکیزہ سلسلہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: قسم ہے اس پروردگار کی کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ بشیر بنا کر بھیجا، قائم میری اولاد میں سے ہے میری طرف سے اس پر عھد ہونے والی غیبت کی وجہ سے وہ پس پردہ رہیں گے اور یہ غیبت اس قدر طولانی ہوجائے گی کہ اکثر لوگ کہیں گے کہ اللہ تعالی کو آل محمد کی ضرورت نہیں ہے اور ایک گروہ ان کی ولادت کے بارے میں شک کرے گا، پس جو بھی ان کے زمانہ کو درک کرے تو اپنے دین کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے شک اور تردید کی وجہ سے شیطان کو اپنے اندر راستہ نہ دے کہ وہ اسے دین سے خارج کردے گا جس طرح کہ تمہارے ماں باپ (آدم وحوا) کو جنت سے نکالا تھا و ان الله عزوجل جعل الشیاطین اولیاء للذین لایومنون 19 یقینا اللہ تعالی عزوجل شیاطین کو ان لوگوں کا دوست اور سرپرست قرار دیتا ہے کہ جو ایمان نہیں رکھتے 20
اسی طرح یہی راوی عبد السلام بن صالح ھروی جو کہ محدث و مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ امام رضا علیہ السلام کے خادم بھی تھے ایک اور مفصل حدیث امام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ اپنے اباؤ و اجداد کے پاکیزہ سلسلہ کے وسیلہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا: فرایت اثنا عشر نورا فی کل نور سطر اخضر علیہ اسم وصی من اوصیای اولهم علی بن ابی طالب و آخرهم مهدی امتی فقلت یا رب هولاء اوصیائی من بعدی؟ .....
میں نے بارہ نور دیکھے کہ ہر نور میں گہرے سبز رنگ کی سطر تھی کہ جن پر میرے اوصیا میں سے کسی وصی کا نام لکھا تھا کہ ان میں پہلا نور علی ابن ابی طالب ہیں اور سب سے آخر والے میری امت کے مہدی ہیں تو میں نے پوچھا اے میرے پروردگار یہ میرے بعد میرے اوصیاء ہیں؟ آواز آئی اے محمد یہ میرے اولیاء اور لوگوں پر تمہارے بعد میری حجت ہیں یہ تمہارے جانشین اور اوصیا ہیں اور تمہارے بعد میری افضل ترین مخلوق ہیں، مجھے میری عزت و جلال کی قسم دین کو ان کے وسیلے سے فتح دوں گا اور اپنے کلمہ کو ان کے وسیلے سے بلند کروں گا اور ان میں سے آخری (مہدی علیہ السلام) کے ذریعہ زمین کو اپنے دشمنوں کی آلودگی سے پاک کردوں اور اور انہیں زمین کے مشارق و مغارب میں طاقت بخش دوں گا، ہوائیں اس کے لئے مسخر کردوں گا اور سخت ترین بادلوں کو اس کے لئے رام کردوں گا اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی نصرت کروں گا تاکہ میری دعوت ظاھر کرے اور لوگوں کو میری وحدانیت پر اکھٹا کرے، میں اس کی سلطنت و ملک کو دوام عطا کردوں گا۔ ۔ ۔ 21

 
7. ظالموں کی حکومت ابھی تک باقی ہے

امام رضا علیہ السلام کی امام مہدی عج کے بارے میں احادیث کے درمیان قابل توجہ نکات میں سے ایک نکتہ دنیا پر ظلم و ستم کے نظام کا غلبہ ہے اور یہی وجہ امام مہدی عج کی غیبت کی باعث ہے جب تک حالات مناسب نہیں ہوں گےاللہ تعالی اپنی حجت کو ظاھر نہیں فرمائے گا بعض یہ سمجھتے تھے کہ عباسیوں کی ظالمانہ حکومت ختم ہونے والی ہے ان کی شان و شوکت ختم ہوچکی ہے تو اب سفیانی کیوں نہیں خروج کررہا اور قائم آل محمد کے ظہور کا وقت کونسا ہے؟
حالانکہ یہ ظاھر میں دیکھ رہے ہیں کہ اگر ہم ان حکومتوں کی گہرائی میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ خاندان تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن حاکموں کو سوچ اور روش کبھی بھی وہ نہیں ہے کہ جس کا وحی اور کتاب الھی نے تقاضا کیا ہے۔
حسن بن جھم کہتے ہیں کہ امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا اللہ تعالی ہمارے کاموں کو پورا کرے، لوگ کہتے ہیں بنی عباس کی حکومت ختم ہوتے ہی سفیانی خروج کرے گا؟ امام نے فرمایا: کذبوا انه لیقوم و ان سلطانهم لقائم 22
وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ سفیانی خروج کرے گا جبکہ بنی عباس کی حکومت برپا ہوگی اس حدیث میں بہت اھم نکتہ ہے کہ اگرچہ صدیاں گزر گئیں بنی عباس کی حکومت ختم ہوگئی ہے لیکن ان کی جگہ جو حکومتیں آئیں وہ بھی انہی کی مانند ظلم و ستم کی بنیاد پر قائم ہیں اور خدا اور رسول کے فرامین کے خلاف چل رہی ہیں گویا کہ بنی عباس ہی کی حکومت باقی ہے۔

 
8. میں امام قائم نہیں ہوں

ان احادیث رضوی میں ایک خوبصورت نکتہ یہ ہے کہ ایک حدیث کے مطابق آپ کے بعض اصحاب نے چاہا کہ آپ کو قائم کے عنوان سے یاد کیا کریں لیکن امام معصوم نے ان کے اس خیال کی صراحت سے نفی کی ۔
ایوب بن نوح کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا مجھے امید ہے کہ آپ صاحب امر ہوں اللہ تعالی امامت و حکومت بغیر تلوار چلائے آپ کی طرف پلٹا دے کیونکہ (مامون کی طرف سے) آپ کی بیعت لی جاچکی ہے اور سکہ آپ کے نام سے چل رہا ہے تو امام نے جواب میں اس کی بات کی نفی فرمائی اور فرمایا: حتی یبعث الله عزوجل لندا الامر رجلا خفی المولد والمشاء غیر خفی فی نسبه حتی کہ اللہ تعالی ایسے شخص کو اس کام کے لئے اٹھائے گا کہ جس کی ولادت اور پرورش مخفی ہوگی لیکن اس کا نسب جانا پہچانا ہوگا 23

 
9. امام حسین(ع) کے قاتلوں سے انتقام

عبد السلام بن صالح ھروی روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ امام صادق علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ جب قائم عج قیام کریں گے اور ظہور فرمائیں گے تو امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی اولاد کو ان کے آباؤ و اجداد کے ظالمانہ کاموں کے بدلے میں قتل کریں گے؟
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالی کی تمام باتیں صحیح اور سچی ہیں لیکن نکتہ یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی اولاد اپنے اباؤ و اجداد کے اس فعل پر راضی ہے اور اس پر فخر کرتی ہے اور جو بھی کسی عمل پر راضی ہو گویا اس طرح ہے کہ اسے انجام دیا ہے اگرچہ کوئی شخص مشرق میں قتل ہو اور مغرب میں کوئی شخص اس کے اس فعل پر راضی اور خوش ہو تو اللہ کے نزدیک ایسا شخص قاتل کا شریک شمار ہوگا اور امام مہدی(عج) اسے لئے امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کی نسل کو قتل کریں گے کیونکہ وہ اپنے آباؤ واجداد کے کاموں پر راضی اور خوش ہوں گے۔ 24
--------------------
1. عیون اخبار الرضا، ج۱، ص ۲۷۲
2. کمال الدین، ج۱، ص ۲۶۱
3. کمال الدین، ج۱، ص ۳۰۴ - مسند امام الرضا، ج۱، ص ۲۲۱
4. عیون اخبار الرضا، ج۲، ص ۵۹
5. عیون اخبار الرضا، ج ۲، ص ۵۸
6. الجامع الرواۃ و اصحاب الامام الرضا، ج۱، ص ۲۴۴
7. کمال الدین، ج۱، ص ۳۰۴
8. عیون اخبار الرضا، ج۲، ص۷۹
9. مسند الرضا، ج۱، ص ۲۱۷
10. سورہ ھود، آیہ ۹۳
11. سورہ اعراف، آیہ ۱۷
12. کتاب الغیبۃ، س ۲۰۴
13. مسند الامام الرضا، ج۲، ص ۲۲۷
14. عیون اخبار الرضا، ج۲، ص ۳۶
15. کمال الدین، ص ۳۷۶
16. کتاب غیبت، ص ۲۶۸
17. کمال الدین، ص ۳۷۱
18. کمال الدین، ص ۳۷۳
19. اعراف، آیہ ۲۷
20. کمال الدین، ص ۵۱
21. علل الشرائع، ص۶
22. غیبت نعمانی، محمد بن ابراھیم نعمانی، ص ۳۰۳
23. کمال الدین، ص ۳۷۰
24. عیون اخبار الرضا، ج۱، ص

user comment
 

latest article

  حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی شخصیت اورعلمی فیوض کا ...
  امام محمد باقر علیہ السلام اور سیاسی مسائل
  امام محمدباقرعلیہ السلام
  حضرت علی(ع) کی نظر امامت کے
  نہج البلاغہ کی شرح
  خطبه شقشقیه کیتحلیل
  عقیدہ مہدویت کو لاحق خطرات
  حضرت علی علیه السلام کے چند منتخب خطبے
  امام علی(ع)اور آج کے مسلمانوں کے مسائل اور ان کا حل
  قراء سبعہ اور ان کی خصوصیات