اردو
Monday 29th of May 2023
0
نفر 0

اگر کوئی شخص رقوم شرعیہ سھم امام علیہ السلام اور ان اموال سے جن کا مصرف کسی مرجع تقلید کی اجازت سے معین ھوچکا ھے، دینی مدرسہ یا امام بارگاہ بنوائے تو کیا اس شخص کو یہ حق حاصل ھے کہ اس مال کو جو اس نے اپنے ذمہ واجب حقوق شرعیہ کی ادائیگی کے طور پر خرچ کیا ھ

 اگر اس نے مدرسہ وغیرہ کی تاسیس میں اپنے ان اموال کو جن کی ادائیگی رقوم شرعیہ کی صورت میں اس پر واجب تھی ایسے مرجع تقلید کی اجازت اور اپنے ذمہ واجب حقوق کی ادائیگی کی نیت سے خرچ کیا ھے جس کو یہ رقوم شرعیہ دینا واجب تھا تو اس کی واپس لینے کا حق نھیں ھے اور نہ اس میں مالک کی طرح تصرف کرنے کا حق ھے۔


source : http://www.al-hadj.com
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

مسلمانوں کے نزدیک رسول خدا کے مرقد مطہر کی زیارت ...
گانا گانا اور سننا حرام کیوں ہے؟
صفات جمال و جلال سے کیا مراد ہے؟
اولیاء اللہ علیہم السلام سے توسل - 1
خدا كی بارگاہ میں مناجات كا كیا فلسفہ ہے؟
اسلام کیا ہے؟
قسم کھانے کے کیا احکامات ہیں؟
سوال کا متن: سلام عليکم. يا علي ع مدد. ....مولا علي ...
کربلا سے عبرت لينے کا کيا مطلب ہے؟
کیا انبیاء اور اولیاء (علیہم السلام) کی قبروں کی ...

 
user comment