اردو
Saturday 30th of September 2023
0
نفر 0

صراط مستقیم پر چلنا

پرور دگار کے سامنے اظہار تسلیم، اس کی ذات کی عبودیت ، اس سے طلب استعانت کے مرحلے تک پہنچ جانے کے بعد بندے کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اسے سیدھی راہ، پاکیزگی و نیکی کی راہ، عدل و داد کی راہ اور ایمان و عمل صالح کی ہدایت نصیب ہو۔ تاکہ خداجس نے اسے تمام نعمتوں سے نوازا ہے ہدایت سے بھی سرفراز فرمائے۔

اگر چہ یہ انسان ان حالات میں مومن ہے اور اپنے خدا کی معرفت رکھتا ہے لیکن یہ امکان ہے کہ کسی لحظے یہ نعمت کچھ عوامل کے باعث اس سے چھن جائے اور یہ صراط مستقیم سے منحرف اور گمراہ ہوجائے لہذا چاہئے کہ شب و روز میں دس مرتبہ اپنے خدا سے خواہش کرے کہ اسے کوئی لغزش و انحراف در پیش نہ ہو۔

یہ صراط مستقیم جو باالفاظ دیگر آئین و دستور حق ہے کے کئی مراتب و درجات ہں تمام افراد ان مدارج کو برابر طے نہیں کرتے انسان جس قدر ان درجات کو طے کرے اس سے بلند تر درجات موجود ہیں۔ پس صاحب ایمان کو چاہئے کہ وہ خدا سے خواہش و دعا کرے کہ وہ اسے ان درجات کی ہدایت کرے۔ 

یہاں یہ مشہور سوال سامنے آتا ہے کہ ہم ہمیشہ خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کی درخواست کرتے رہتے ہیں، کیا ہم گمراہ ہیں؟

اور اگر بالفرض یہ بات ہمارے لئے درست ہے تو پیغمبر اکرم(ص) اور ائمہ اہل بیت جو انسان کامل کا نمونہ ہیں ان کے لئے کیونکر صحیح ہے؟؟

اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں :

جیسے پہلے اشارہ کیا جاچکا ہے کہ انسان کے لئے راہ ہدایت میں ہر لمحہ لغزش و کجروی کا خوف ہے لہذا چاہئے کہ اپنے آپ کو پروردگار کے اختیار میں دیدے اور اس سے تقاضا کرے کہ وہ اسے سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھے۔ ہمیں فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ وجود ہستی اور دیگر تمام نعمات لمحہ بہ لمحہ اس مبداء عظیم ہی سے ہم تک پہنچی ہیں۔ اس سے قبل بھی کہا جا چکا ہے کہ ہماری اور تمام موجودات کی مثال بجلی کے بلب کی سی ہے اگر ہم دیکھیں کہ بلب کی روشنی مسلسل پھیل رہی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر لحظہ بجلی کے مرکز سے قوت حاصل کر رہی ہے کیونکہ بجلی کے مرکز سے ہر لحظہ نئی روشنی کی تولید جاری ہے اور یہ مربوط تاروں کے ذریعہ اسے بلب تک پہنچاتا ہے ہمارا وجود بھی بلب کی روشنی کی طرح جو بظاہر ایک مستقل پھیلے ہوئے وجود کی طرح ہے لیکن حقیقت میں ہمیں مرکز ہستی، آفریدگار فیاض سے ہر لحظہ ایک نیا وجود ملتا رہتا ہے۔ چونکہ ہمیں ہر لمحہ ایک تازہ وجود میسر آتا ہے اس لئے ہر لمحہ ہم نئی ہدایت کے محتاج ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ خدا اور ہمارے درمیان رابطے کی معنوی تاروںمیںاگر کوئی مانع پیدا ہوجائے مثلا بے راہ روی، ظلم، ناپاکی وغیرہ تو اس سے منبع ہدایت کے ساتھ ہمارا رابطہ منقطع ہوجائے گا اور یوں ہم صراط مستقیم سے منحرف ہوجائیں گے۔ ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ہمیں یہ موانع پیش نہ آئیں اور ہم صراط مستقیم پر ثابت قدم رہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہدایت کے معنی ہیں طریق تکامل کو طے کرنا یعنی انسان تدریجا مراحل نقص پیچھے چھوڑتا جائے اور مراحل بلند تک پہنچتا جائے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ راہ کمال، یعنی ایک کمال سے دوسرے کمال تک پہنچنے کا راستہ نامحدود ہے گویا یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے۔

اس بنا پر کوئی تعجب نہیں کہ انبیاء و آئمہ علیہم السلام بھی خدا سے صراط مستقیم کی ہدایت کا تقاضہ کریں کیونکہ کمال مطلق تو صرف ذات خدا ہے اور باقی سب بلا استثناء سیرتکامل میںہیں لہذا کیا حرج ہے کہ وہ بھی خدا سے بالاتر درجات کی تمنا کریں۔

کیا ہم نبی اکرم (ص( پر درود و سلام نہیں بھیجتے؟ اور کیا درود در اصل محمد و آل محمد پر پروردگار عالم سے نئی رحمت کا تقاضا نہیں؟ ؟ کیارسول اللہ نہیں فرماتے ؟

رب زدنی علما (خدایا میرے علم(اور ہدایت)کو زیادہ فرما۔

کیا قرآن یہ نہیں کہتا : ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی۔ یعنی خدا ہدایت یافتہ لوگوں کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے۔ (مریم، ۷۶)۔

یہ بھی قرآن میں ہے :

والذین اھتدوا ازادھم ھدی و اتاھم تقواھم

یعنی جو ہدایت یافتہ ہیں خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے اور انہیں تقوی عطا کرتا ہے(محمد، ۱۷)۔

اسی سے نبی اکرم اور آئمہ علیہم السلام پر درود بھیجنے کے متعلق سوال کا جواب مل جاتا ہے۔

ہم نے جو کچھ کہا ہے اس کی وضاحت کے لئے ذیل کی دو حدیثوں کی طرف توجہ فرمائیں :

۱۔ حضرت امیرالمومنین علی(ع) جملہ اھدنا الصراط المستقیم کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں :

یعنی آدم لنا توفیقک الذی اطعناک بہ فی ماضی ایامنا حتی نطیعک کذلک فی مستقبل اعمادنا۔

خدا وند ا جو توفیقات تونے ماضی میں ہمیں عنایت کی ہیں ۔ جن کی برکت سے ہم نے تیری اطاعت کی ہے انہیں اسی طرح برقرار رکھ تاکہ ہم آئندہ بھی تیری اطاعت کرتے رہیں (۱)۔

۲۔ حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہیں :

یعنی ارشدنا للزوم الطریق الموٴدی الی محبتک والمبلغ الی جنتک والمانع من ان نتبع اھوائنا فنعطب او ان ناخذ بآرائنا فنھلک۔

خدا وندا ہمیں اس راستہ پر جو تیری محبت اور جنت تک ہے ثابت قدم رکھ کہ یہی راستہ ہلاک کرنے والی خواہشات اورانحرافی و تباہ کرنے والی آراء سے مانع ہے (۲)۔ 

________________________________________

۱۔ تفسیر صافی (آیہ مذکورہ) بحوالہ معانی الاخبار و تفسیر امام حسن عسکری۔

۲۔ ایضا۔


source : http://www.alhassanain.com
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اسوہ حسینی
مذھب شیعہ ایک نظر میں
اقوال حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام
امامت کے معاني و مراتب
حضرت امام حسین علیہ السلام کی سبق آموز زندگی
علامات شیعہ از نظر معصومین علیھم السلام
قیامت: قرآن کے آئینہ میں
امام علی نقی (ع) کا یوم شہادت، سارا عالم سوگوار
گھاٹے کا سودا
حضرت زھرا(ع) اور حضرت مہدی(عج)

 
user comment