اردو
Thursday 13th of June 2024
0
نفر 0

قصص کوتاه قرآنی

 

حضرت ادریس علیہ السلام

بہت سے مفسرین کے قول کے مطابق ادریس علیہ السلام، نوح علیہ السلام کے دادا تھے ان کا نام توریت میں ”اخنوخ“ اور عربی میں ادریس (ع) ھے جسے بعض ”درس“ کے مادہ سے سمجھتے ھیں،کیونکہ وہ پھلے شخص تھے جنهوں نے قلم کے ساتھ خط لکھا، مقام نبوت کے علاوہ وہ علم نجوم علم ہئیت میں بھی ماھر تھے وہ پھلے شخص تھے جنهوں نے انسان کو لباس سینے کاطریقہ سکھایا۔

اس عظیم پیغمبر کے بارے میں قرآن میں صرف دو مرتبہ،وہ بھی مختصر سے اشاروں کے ساتھ بیان آیا ھے، ایک تو یھی سورہٴ مریم آیت ۵۶ میں اور دوسرا سورہٴ انبیاء کی آیات ۸۵ سے۸۶/میں، مختلف روایات میں ان کی زندگی کے بارے میں تفصیلی طور پر بیان کیا گیا ھے کہ جسے ھم پورے کا پورا معتبر نھیں سمجھ سکتے۔اسی وجہ سے ھم مذکورہ اشارے پر قناعت کرتے هوئے اس بحث کو ختم کرتے ھیں۔

حضرت الیاس علیہ السلام

اس میں تو کوئی شک نھیں کہ حضرت الیا س علیہ السلام خدا کے عظیم انبیاء میں سے ایک ھیں اورقرآنی آیات نے یہ مسئلہ صراحت کے ساتھ بیان کیا ھے کہ ”الیاس خدا کے رسولوں میں سے تھے“۔1

اس پیغمبر کانام قرآن مجید کی دو آیات میں آیا ھے ایک تو سورہٴ صافات میں اور دوسرا سورہٴ انعام میں چند انبیاء کے ساتھ ۔

لیکن اس بارے میں کہ قرآن میں جن انبیاء کا نام آیا ھے انھی میں سے ایک پیغمبر کانام الیاس ھے یا یہ کسی پیغمبر کا مستقل نام ھے نیز اس کی خصوصیات کیا ھیں؟ اس ضمن میں مفسرین میں مختلف نظریات پائے جاتے ھیں ،ان کا خلاصہ کچھ یوں ھے ۔

الف: ۔بعض کہتے ھیں کہ ”الیاس“، ”ادریس“ کا دوسرانام ھے (کیونکہ ادریس کا دوسرا نام ”ادراس“ بھی تلفظ هوا ھے اور وہ مختصر سی تبدیلی کے ساتھ الیاس هو گیا)۔

ب: ۔بعض کا کہنا ھے کہ الیاس بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ھیں ”یاسین“کے فرزند ھیں اور موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ھارون کے نواسوں میں سے ھیں ۔

ج: ۔کچھ کا یہ بھی کہنا ھے کہ الیاس خضر کا دوسرا نام ھے جب کہ بعض دوسروں کا کہنا ھے کہ الیاس خضر کے دوستوں میں سے ھیں اور دونوں زندہ ھیں اس فرق کے ساتھ کہ الیاس تو خشکی پر مامور ھیں لیکن خضر جزیروں اور دریاوٴں پر مامور ھیں، بعض دوسرے الیاس کی ماموریت بیابانوں میں اور خضر کی ماموریت پھاڑوں پر خیال کرتے ھیں اور دونوں کے لئے عمر جاودانی کے قائل ھیں، بعض الیاس کو”الیسع“کا فرزند سمجھتے ھیں ۔

د: ۔بعض کہتے ھیں کہ الیاس بنی اسرائیل کے وھی ”ایلیا“ پیغمبرھیں جو ”آجاب“ بادشاہ بنی اسرائیل کے ھم عصر تھے جنھیں لوگوں نے ”یحيٰ“بھی جانا ھے جو مسیح کے تعمید دہندہ تھے ۔

لیکن قرآن کی آیات کے ظاھر کے ساتھ جو بات ھم آہنگ ھے وہ یہ ھے کہ یہ لفظ مستقلاً ایک پیغمبر کانام ھے اور قرآن میں جن دیگر پیغمبروں کے نام آئے ھیں یہ ان کے علاوہ ھیں جو ایک بت پرست قوم کی ہدایت کے لئے مامور هوئے تھے اور اس قوم کی اکثریت ان کی تکذیب کے لئے اٹھ کھڑی هوئی لیکن مخلص مومنین کے ایک گروہ نے ان کی پیروی کی۔

بعض اس بات پر توجہ کرتے هوئے کہ اس قوم کے بڑے بت کا نام ”بعل“ تھا یہ نظریہ رکھتے تھے کہ یہ پیغمبر سر زمین ”شامات“ میں مبعوث هوئے تھے اور ان کی فعالیت کا مرکز شھر ”بعلبک“ تھا جو اس وقت لبنان کا حصہ ھے اور شام کی سرحد پر واقع ھے۔

بھرحال اس پیغمبر کے بارے میں مختلف داستانیں کتابوں میں بیان کی گئی ھیں اور چونکہ وہ قابل اعتماد و اطمینان نھیں لہٰذاھم نے انھیں نقل نھیں کیا۔

پیغمبر خدا مشرکین کے مقابلے میں

قرآن میں جناب الیاس علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کرتے هوئے فرمایا گیا ھے: اس وقت کو یاد کرو جب اس نے قوم کو خبردار کیا اور کھا: ”کیا تم تقویٰ اختیارنھیں کرتے“؟! 2 

آگے چل کر قرآن میں اس مسئلہ کے بارے میں ،اس سے بھی زیادہ صراحت کے ساتھ بیان فرماتاھے: ”کیا تم ”بعل“ بت کو پکارتے هواور بہترین خالق کو چھوڑ رھے هو “۔ 3

اس سے واضح هو جاتا ھے کہ ان کا ایک معروف بت تھا، جس کا۔نام ”بعل“ تھا۔

اور وہ اس کے سامنے سجدہ کیا کرتے تھے حضرت الیاس علیہ السلام نے انھیں اس قبیح عمل سے روکا اور عظیم آفریدگار عالم اور توحید خالص کی طرف دعوت دی۔

اسی وجہ سے ایک جماعت کا نظریہ ھے کہ حضرت الیا س علیہ السلام کی فعالیت کا مرکز ”شامات“ کے شھروں میں سے شھر ”بعلبک“ تھا۔

کیونکہ ”بعل“ اس مخصو ص بت کانام تھا اور ”بک“ کا معنی ھے شھر۔

ان دونوں کی آپس میں ترکیب سے ”بعلبک “هوگیا،کہتے ھیں کہ سونے کا اتنا بڑا بت تھا کہ اس کا طول بیس ھاتھ تھا ،اس کے چار چھرے تھے اور اس بت کے چار سوسے زیادہ خادم تھے!

البتہ بعض کسی معین بت کو ”بعل“ نھیں سمجھتے بلکہ بت کے مطلق معنی میں لیتے ھیں مگر بعض دوسرے اسے ”رب اور معبود“ کے معنی میں سمجھتے ھیں۔

بھر حال الیاس علیہ السلام نے اس بت پرست قوم کی سخت مذمت کی اور مزید کھا: ”اس خدا کو چھوڑ رھے هو جو تمھارا اور تمھارے گزشتہ آباوٴ اجداد کا پروردگار ھے۔“4

تم سب کامالک و مربی وھی تھا اور ھے، اورجو نعمت بھی تمھارے پاس ھے وہ اسی کی طرف سے ھے اور ھر مشکل کا حل اسی کے دست قدرت سے هوتا ھے، اس کے علاوہ نہ تو خیر و برکت کا کوئی اور سر چشمہ موجود ھے اور نہ ھی شرو آفت کا کوئی اور دفع کرنے والا ھے ۔ 

قوم الیاس (ع) کا رد عمل

لیکن اس سرپھر ی اور خود پسند قوم نے خدا کے اس عظیم پیغمبر کے استدلالی پند و نصائح اور واضح ہدایات پر کان نہ دھرے اور ”اس کی تکذیب کے لئے اٹھ کھڑے هوئے “۔ 5

خدا نے بھی ان کی سزا کو ایک مختصر سے جملے میں بیان کرتے هوئے کہہ دیا”: وہ بار گاہ عدل الٰھی اور اس کی دوزخ کے عذاب میں حاضر کئے جائیں گے۔“6 اور اپنے قبیح اور بد اعمال کی سز اکا مزا چکھیں گے۔ لیکن ظاھر هوتا ھے کہ چھوٹا سانیک ،پاک اور مخلص گروہ حضرت الیاس علیہ السلام پر ایمان لے آیا تھا لہٰذا ان کا حق فراموش نہ کرتے هوئے بلا فاصلہ فرمایا گیا ھے: ”مگر خدا کے مخلص بندے۔“ 7

قرآن اس واقعہ کے آخر میں فرماتا ھے: ”ھم نے الیاس کا نیک نام بعد والی امتوں میں جاوداں کر دیا۔“8 دوسرے مرحلے میں قرآن مزید کہتا ھے: ”الیاسین پر سلام و درود هو۔“9 ،10

تیسرے مرحلے میں فریاماگیا ھے: ”ھم نیکوں کاروں کو اسی طرح سے بدلہ دیا کرتے ھیں ۔“11

چوتھے مرحلے میں ان تمام باتوں کی اصل بنیادی یعنی ایمان کا ذکر ھے: یقینا وہ (الیاس ) ھمارے مومن بندوں میں سے ھے“12

”ایمان“ و ”عبودیت“ احسان کا سر چشمہ ھے اورا حسان مخلصین کی صف میں شامل هونے اور خدا کے سلام کا حقدار هونے کا سبب ھے 

حضرت الیسع علیہ السلام 

”الیسع“ جن کانام صرف دومرتبہ قرآن میں آیا ھے 13

قرآن کی تعبیر اس بات کی نشاندھی کرتی ھے کہ وہ بھی خدا کے بزرگ پیغمبروں میں سے تھے اور ان بزرگوں میں سے تھے جن کے بارے میں فرمایاگیا ھے۔ ”ھم نے ان میں سے ھر ایک کو عالمین پر بر تری و فضیلت بخشی۔“14

بعض کا نظریہ یہ ھے کہ یہ بنی اسرائیل کے مشهور پیغمبر ”یوشع بن نون“ ھیں جن پر ”الف ولام“ داخل هوا ھے اور اس کا ”شین“ ”سین“ سے بدل گیا ھے اور کسی غیر عربی کے نام پر یہ عبری نام ھے، الف و لام کا داخل هونا کوئی نئی چیز نھیں ھے، جس طرح سے کہ عرب ”اسکندر“ کو ”الاسکندر“ کے نام سے پہچانتے ھیں ۔

جب کہ بعض دوسرے اسے ایک عربی لفظ سمجھتے ھیں جو ”یسع“ (مادہ ”وسعت“ فعل مضارع) سے لیا گیا ھے اور اسمی پھلو اختیار کر نے کے بعد الف و الام جو مشخصات اسم میں سے ھے اس پر آگیا ھے ۔

سورہٴ انعام کی آیت اس بات کی نشاندھی کرتی ھے کہ وہ اولاد ابراھیم علیہ السلام میں سے تھے لیکن یہ واضح نھیں کرتی کہ آیا وہ بنی اسرائیل میں سے تھے یا نھیں؟ تو ریت کی کتاب ”بادشاھان“ میں ان کانام ”الیشع“ بن ”شافات“ لکھا هوا ھے اور عبرانی زبان میں الیشع کا معنی ”ناجی“ اور ”شافات“ کامعنی ”قاضی“ ھے۔ 

بعض اسے اور ”خضر(ع)“ کو ایک ھی سمجھتے ھیں لیکن اس سلسلے میں کوئی واضح دلیل موجود نھیں ھے اور یہ جو بعض اسے ”ذالکفل“ ھی سمجھتے ھیں تو یہ قرآن کے صریح بر خلاف ھے کیونکہ قرآن نے ذالکفل کا ”الیسع“ پر عطف کیا ھے ۔بھر حال وہ ایک بلند مقام اور پر استقامت پیغمبر ھیں اور ان کی زندگی سے سبق حاصل کرنے کے لئے ھمارے لئے یھی کافی ھے ۔

حضرت ذَالکفل علیہ السلام

مشهور یھی ھے کہ وہ پیغمبروں میں سے تھے اور ان کے نام کا سورہٴ انبیاء کی آیت۸۵ میں پیغمبروں کے ناموں کے ساتھ اسماعیل علیہ السلام اور ادریس علیہ السلام کے بعد ذکر اس معنی پر گواہ ھے ۔

بعض کا نظریہ یہ ھے کہ وہ بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے تھے ،وہ انھیں ایوب علیہ السلام کا فرزند سمجھتے ھیں جس کا اصلی نام ”بشر“ یا ”شرف“ ھا، بعض انھیں ”حزقیل“ سمجھتے ھیں کہ ذالکفل ان کے لقب کے طور پر مشهور هو گیا ھے۔

انھیں ذالکفل کا نام کیوں دیا گیا ھے ؟اس بارے میں اس بات کی طرف توجہ کرتے هوئے کہ ”کفل“ نصیب اور حصہ کے معنی میں بھی آیا ھے اور کفالت و عہدہ داری کے معنی میں بھی علماء نے مختلف احتمال ذکر کئے ھیں ۔

کبھی تو یہ کھا ھے کہ چونکہ ا نھوں نے یہ عہد کیا ھے کہ راتوں کو عبادت کے لئے اٹھیں گے اور دن میں روزہ رکھا کریںگے اور قضاوت اور فیصلہ کرتے وقت ھر گز غصے میں نہ آئیںگے ااور وہ اپنے اس عہد و پیمان پر قائم رھے لہٰذا انھیں یہ لقب دیا گیا ۔

کبھی یہ بھی کھا جا تا ھے کہ چونکہ انھوں نے بنی اسرائیل کے انبیاء کے ایک گروہ کی کفالت کی تھی اور وقت کے ظالم بادشاہ سے ان کی جان بچائی تھی اس لئے انھیں یہ نام دیا گیا ھے ۔

بھرحال ان کی زندگی کے حالات کی اتنی ھی مقدار جوآج ھماری دسترس میں ھے، خدا کی اطاعت و بندگی اور ظالموں کے مقابلے میں ان کی استقامت پامردی کی دلیل ھے اور ھمارے آج اور کل کے لئے ایک سبق ھے ۔اگر چہ ان کی زندگی کی تفصیلات کے بارے میں زمانے کی دوری کے سبب دقیق طور پر فیصلہ نھیں کیا جا سکتا ۔

حضرت عزیر علیہ السلام

یہ گفتگو ایک نبی کی ھے جو اثنا سفر ایک سواری پر سوار تھا ،کھانے پینے کا کچھ سامان اس کے ھمراہ تھا اور وہ ایک آبادی میں سے گزر رھا تھا جو وحشتناک حالت میں گری پڑی تھی اور ویران هو چکی تھی اور اس کے باسیوں کے جسم اور بوسیدہ ہڈیاں نظر آرھی تھیں، جب اس نے یہ وحشتناک منظر دیکھا تو کہنے لگا: ”خدا ان مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا“۔ البتہ اس کی یہ بات شک اورا نکار کے طورپر نہ تھی بلکہ از روئے تعجب تھی کیونکہ قرآن میں موجود قرائن نشاندھی کرتے ھیں کہ وہ ایک نبی تھے،جیسا کہ خدا نے اس سے گفتگو کی،روایات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ھیں جس کی طرف ھم بعد میں اشارہ کریں گے۔

خداوندعالم نے اسی وقت اس کی روح قبض کر لی اور پھر ایک سو سال بعد اسے زندہ کیا ،اب اس سے سوال کیا کہ اس بیابان میں کتنی دیر ٹھھرے رھے هو؟ وہ تو یہ خیال کرتا تھا کہ یھاںتھوڑی دیر ھی توقف کیا ھے،فوراً جواب عرض کیا: ایک دن یا اس سے بھی کم ۔اسے خطاب هوا: تم ایک سوسال یھاں رھے هو ۔

لیکن اپنے کھانے پینے کی چیزوں کی طرف دیکھو، کیسے طویل مدت میں حکم خدا کی وجہ سے ان میں تغیرنھیں آیا ۔ یعنی وہ خدا جو تمھاری جلد خراب هونے والی غذاکو صحیح و سالم رکھ سکتا ھے ا س کے لئے مردوںکو زندہ کرنا آسان ھے کیونکہ یھایک سرح سے زندگی کا ادامہ ھے، اور غذا کو صحیح و سالم رکھنا جس کی عمر کم هوتی ھے مردوںکو زندہ کرنے سے آسان ھے۔ یھاں پر سوال یہ پیدا هوتا ھے کہ اس پیغمبر کے ساتھ کونسی غذا تھی۔ قرآن نے نھیں بیان کیا،بعض مفسرین کا کہنا ھے کہ ان کی غذا”انجیر“اور پھلوں کا رس تھا،جبکہ ھم جانتے ھیں کہ یہ دونوں چیزیں بہت جلد خراب هوجاتی ھےں، لہٰذا ان دونوں کا باقی رہنا ایک اھم موضوع ھے۔

اس کے بعد دوبارہ حکم هواکہ اب اس دلیل کے لئے کہ تم جان لو کہ تمھیں سوسال موت کے عالم میں گزرگئے ذرا اپنی سواری کی طرف نگاہ کرو اور دیکھو کہ کھانے پینے کی چیزوں کے بر عکس وہ ریزہ ریزہ هو کر بکھر چکی ھے اور طبیعت کے عام قوانین اسے اپنی لپیٹ میں لے چکے ھیں ،اور موت نے اس کے جسم کو منتشر کر دیا ھے۔

اب دیکھو کہ ھم اس کے پر اگندہ اجزاء کو کیسے جمع کرکے اسے زندہ کرتے ھیں، اس نے یہ منظر دیکھا توکہنے لگا :میں جانتاهوں کہ خدا ھر چیز پر قدرت رکھنے والا ھے یعنی میں مطمئن هو چکا هوں اور مردوں کے دوبارہ اٹھنے کا معاملہ متشکل هو کے میرے سامنے آگیا ھے ۔ اس بارے میں کہ وہ پیغمبر کون تھے ،مختلف احتمالات دیئے گئے ھیں ،بعض نے ”ارمیا(ع)“ کھا ھے اور بعض ”خضر“ سمجھتے ھیں لیکن مشهور یہ ھے کہ وہ ”عزیر(ع)“تھے ۔

امام جعفر صاد ق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں بھی حضرت عزیر علیہ السلام کے نام کی تائید هوتی ھے ۔ یہ بھی سوال اٹھتا ھے کہ یہ آبادی کھاں تھی ،بعض اسے بیت المقدس سمجھتے ھیں جو ”بخت النصر“ کے حملوںکی وجہ سے ویران اور برباد هو چکا تھا، لیکن یہ احتمال بعید نظر آیا ھے ۔ 15

حضرت عزیر (ع) نے دین یهود کی بہت خدمت کی

عربی زبان میں ”عزیر“ انھی کو کھاجاتا ھے جو یهودیوں کی لغت میں ”عزرا“ کھلاتے ھیں، عرب چونکہ جب غیر زبان کا کوئی نام اپناتے ھیں تو عام طورپر اس میں تبدیلی کر دیتے ھیں خصوصا ًاظھار محبت کے لئے اسے صیغہٴ تصغیر میں بدل لیتے ھیں۔ ”عزرا“ کو بھی ”عزیر“ میں تبدیل کیا گیا ھے جیسا کہ”عیسیٰ“ کے اصل نام کو جو در اصل ”یسوع“ تھا اور ”یحيٰ“ کو جو کہ ”یوحنا“ تھا بدل دیا ۔ 

بھرحال عزیر یا عزرا یهودیوں کی تاریخ میں ایک خاص حیثیت رکھتے ھیں یھاں تک کہ ان میں سے بعض ملت و قوم کی بنیاد اور اس جمعیت کی تاریخ کی درخشندگی کی نسبت ان کی طرف دیتے ھیں ۔درحقیقت حضرت عزیر علیہ السلام نے اس دین کی بڑی خدمت کی ھے کیونکہ ”بخت النصر“بادشاہ ”بابل“نے یهود کو نیست و نابود کردیا تھا اور ان کے شھر اس کی فوج کے ھاتھ آگئے ،ان کا عبادت خانہ ویران هوگیا اور ان کی کتاب توریت جلادی گئی ،ان کے مرد قتل کر دیئے گئے اور ان کی عورتیں اور بچے قید کر کے بابل کی طرف منقتل کر دیئے گئے اور وہ تقریباً ایک سوسال وھیں رھے۔

پھر جب ایران کے بادشاہ ”کو رش“ نے بابل فتح کیا تو عزرا جو اس وقت کے یهودیوں کے ایک سردار اور بزرگ تھے اس کے پاس آئے اور اسے ان کے بارے میں سفارش کی، ”کورش“ نے ان سے موافقت کی کہ یهودی اپنے شھروں کی طرف پلٹ جائیں اور نئے سرے سے توریت لکھی جائے، اسی لئے یهودی انھیں ایک نجات دہندہ اور اپنے دین کا زندہ کرنے والا سمجھتے ھیں، اسی بناء پر ان کا حد سے زیادہ احترام کرتے ھیں۔

اسی امر کے سبب یهودیوں کے ایک گروہ نے انھیں ”ابن اللہ“ (اللہ کا بیٹا)کا لقب دیا، اگر چہ بعض روایات سے مثلا احتجاج طبرسی کی روایت سے معلوم هوتا ھے کہ وہ یہ لقب حضرت عزیر کے احترام کے طورپر استعمال کرتے تھے لیکن اسی روایت میں ھے کہ جب پیغمبر اسلام نے ان سے پوچھا کہ اگر تم حضرت عزیر کا ان عظیم خدمات کی وجہ سے احترام کرتے هو اور اس بناء پر انھیں اس نام سے پکارتے هو تو پھر یہ لقب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کیوں نھیں دیتے جب کہ انھوں نے حضرت عزیر کی نسبت تمھاری بہت زیادہ خدمت کی ھے تو وہ اس کا کوئی جواب نہ دے سکے اور نہ ھی اس کا کوئی جواب تھا ۔

بھر حال اس نام سے بعض لوگوں کے اذھان میں حترام سے بالا تر صورت هو گئی اور جیسا کہ عوام کی روش ھے کہ اس سے اپنی فطرت کے مطابق حقیقی مفهوم لیتے تھے اورا نھیں واقعا خداکا بیٹا خیال کرتے تھے کیونکہ ایک تو حضرت عزیر نے انھیں در بدر کی زندگی سے نجات دی تھی اور دوسرا توریت لکھ کر ان کے دین کو ایک نئی زندگی بخشی تھی ،البتہ ان کا یہ عقیدہ نہ تھالیکن قرآن سے معلوم هوتا ھے کہ ان میں سے ایک گروہ خصوصیت سے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمکے زمانے میں تھا کہ یھی نظر فکر تھی یھی وجہ ھے کہ کسی تاریخ میں یہ نھیں ھے کہ انھوں نے آیت کو سن کر کہ ”یهود کہتے ھیں: عزیر اللہ کا بیٹا ھے“16 انکا کیا هو یا انھوں نے کوئی آواز بلند کی هو،اگر ایسا هوتا تو یقینا وہ کوئی ردّعمل ظاھر کرتے۔

حضرت لقمان علیه السلام

حضرت لقمان کا نام سورہٴ لقمان کی دوآیا ت میں آیا ھے، آیا وہ پیغمبر تھے یا صرف ایک دانا اور صاحب حکمت انسان تھے؟ قرآن میں اس کی کوئی وضاحت نھیں ملتی، لیکن ان کے بارے میں قرآن کالب ولہجہ نشان دھی کرتا ھے کہ وہ پیغمبر نھیں تھے کیونکہ عام طور پر پیغمبروں کے بارے میں جو گفتگو هوتی ھے اس میں رسالت؛ توحید کی طرف دعوت ،شرک اور ماحول میں موجود بے راہ روی سے نبر دآزمائی ،رسالت کی ادائیگی کے سلسلہ میں کسی قسم کی اجرت کا طلب نہ کرنا نیز امتوں کو بشارت و انذار کے مسائل وغیرہ دیکھنے میں آتے ھیں ،جب کہ لقمان کے بارے میں ان مسائل میں سے کوئی بھی بیان نھیں هوا، صرف انکے پند نصائح بیان هوئے ھیں جو اگر چہ خصوصی طورپر تو ان کے اپنے بیٹے کے لئے ھیں لیکن ان کا مفهوم عمومی حیثیت کا حامل ھے اور یھی چیز اس بات پر گواہ ھے کہ وہ صرف ایک مرد حکیم و دانا تھے ۔

جو حدیث پیغمبر گرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل هوئی ھے اس طرح درج ھے:

”سچی بات یہ ھے کہ لقمان پیغمبر نھیں تھے بلکہ وہ اللہ کے ایسے بندے تھے جو زیادہ غور وفکر کیا کرتے، ان کا ایمان و یقین اعلیٰ درجے پر تھا، خدا کو دوست رکھتے تھے اور خدا بھی انھیں دوست رکھتا تھا اور اللہ نے انھیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کردیا تھا“۔ 

بعض تواریخ میں ھے لقمان مصر اور سوڈان کے لوگوںمیں سے سیاہ رنگ کے غلام تھے باوجود یکہ ان کا چھرہ خوبصورت نھیں تھا لیکن روشن دل اور مصفا روح کے مالک تھے وہ ابتدائے زندگی سے سچ بولتے اورا مانت کو خیانت سے آلودہ نہ کرتے اور جو امور ان سے تعلق نھیں رکھتے تھے ان میں دخل اندازی نھیں کرتے تھے۔

بعض مفسرین نے ان کی نبوت کا احتما ل دیا ھے لیکن جیسا کہ ھم کہہ چکے ھیں اس پر کوئی دلیل موجود نھیں ھے بلکہ واضح شواہد اس کے خلاف موجود ھیں ۔

یہ تمام حکمت کھاں سے

بعض روایات میں آیا ھے کہ ایک شخص نے لقمان سے کھا کیا ایسا نھیں ھے کہ آپ ھمارے ساتھ مل کر جانور چرایاکرتے تھے؟

آپ نے جواب میں کھا ایسا ھی ھے! اس نے کھا تو پھر آپ کو یہ سب علم و حکمت کھاں سے نصیب هوئے؟

لقمان نے فرمایا: اللہ کی قدر ت،امانت کی ادائیگی ،بات کی سچائی اور جو چیز مجھ سے تعلق نھیں رکھتی اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے سے!! 

حدیث بالا کے ذیل میں آنحضرت سے ایک روایت یوں بھی نقل هوئی ھے کہ:

”ایک دن حضرت لقمان دوپھر کے وقت آرام فرمارھے تھے کہ اچانک انھوں نے ایک آواز سنی کہ اے لقمان! کیا آپ چاہتے ھیں کہ خداوند عالم آپ کو زمین میں خلیفہ قرار دے تاکہ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں؟

لقمان نے اس کے جواب میںکھا کہ اگر میرا پروردگار مجھے اختیار دےدے تو میں عافیت کی راہ قبول کروں گا کیونکہ میں جانتا هوںکہ اگر اس قسم کی ذمہ داری میرے کندھے پر ڈال دے گا تو یقینا میری مدد بھی کرے گا اور مجھے لغزشوں سے بھی محفوظ رکھے گا۔

فرشتوں نے اس حالت میں کہ لقمان انھیں دیکھ رھے تھے کھا اے لقمان کیوں (ایسا نھیں کرتے؟)

تو انھوں نے کھا اس لئے کیونکہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا سخت ترین منزل اور اھم ترین مرحلہ ھے اور ھر طرف سے ظلم و ستم کی موجیں اس کی طرف متوجہ ھیں اگر خدا انسان کی حفاظت کرے تو وہ نجات پاجائے گا لیکن اگر خطا کی راہ پر چلے تو یقینا جنت کی راہ سے منحرف هوجائے گا اور جس شخص کا سر دنیا میں جھکا هوا اور آخرت میں بلند هو اس سے بہتر ھے کہ جس کا سر دنیامیںبلند اور آخرت میں جھکا هو اهو اور جو شخص دنیا کو آخرت پر ترجیح دے تو نہ تو وہ دنیا کو پاسکے گا اور نہ ھی آخرت کو حاصل کر سکے گا ۔

فرشتے لقمان کی اس دلچسپ گفتگو اور منطقی باتوں سے متعجب هوئے، لقمان نے یہ بات کھی اور سوگئے اور خدانے نور حکمت ان کے دل میں ڈال دیا جس وقت بیدار هوئے تو ان کی زبان پر حکمت کی باتیں تھیں“۔

قوم تُبّع

سر زمین یمن جزیرة العرب میں واقع ھے اور اس کا شمار دنیا کی ایسی آباد اور بابرکت زمینوں میں هوتا ھے، جو ماضی میں درخشندہ تمدن کی حامل تھی، اس سر زمین پر ایسے بادشاہ حکومت کیا کرتے تھے جن کا نام ”تُبّع“ (جس کی جمع ”تبایعہ“ ھے) تھا چونکہ لوگ ان کی ”اتباع“ کیا کرتے تھے، اس لئے ان کو ”تُبّع“ کہتے تھے یا پھر اس لئے کہ وہ کئی پشتوں تک یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آتے رھے۔

قوم تُبّع کون تھی؟

قرآن مجید میں صرف دو مقام پر ”تُبّع“ کا لفط استعمال هوا ھے، ایک تو سورہٴ دخان آیت ۳۷ میںاور دوسرے سورہٴ ”ق“ کی ۱۴ویں آیت میں جھاں پر ارشاد هوتا ھے:

”گھنے درختوں کی سر زمین والی قوم شعیب اور قوم تبع، ایک نے خدا کے رسولوں کو جھٹلایا تو خدا کی تہدید بھی ان کے بارے میں سچ ثابت هوگئی“۔

”تبع“ یمن کے بادشاهوں کا ایک عمومی لقب تھا، جس طرح ایران کے بادشاهوں کو کسریٰ، ترک سلاطین کو خاقان ،مصر کے بادشاهون کو فرعون اور روم کے شہنشاهوں کو قیصر کھا جاتا تھا۔

یمن کے بادشاهوں کو”تبع“یا تو اس لئے کھا جاتا تھا کہ یہ لوگوں کو اپنی پیروی کی دعوت دیا کرتے تھے ،یا پھر اس کے لئے کہ وہ یکے بعد دیگرے بر اہِ مملکت هوا کرتے تھے ۔

بظاھر تو یھی معلوم هوتا ھے کہ قرآن مجید نے یمن کے تمام بادشاهوں کی بات نھیں کی،بلکہ کسی خاص بادشاہ کا ذکر کیا ھے (جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معاصر خاص فرعون کی بات کی ھے)۔

بعض روایات میں آیا ھے کہ اس کا نام ”اسعد ابو کرب “تھا۔

بعض مفسرین کا یہ نظریہ ھے کہ وہ بذات خود حق طلب اور صاحب ایمان شخص تھا، انھوں نے قرآن مجید کی دونوں آیات سے استدلال کیا ھے، کیونکہ قرآن پاک کی مذکورہ دونو ں آیا ت میں اس کی ذات کی مذمت نھیں کی گئی بلکہ اس کی قوم کی مذمت کی گئی ھے ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کی جانے والی روایت بھی اسی بات کی شاہد ھے ،کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمفرماتے ھیں: ”تبع“ کو بر امت کهو کیونکہ وہ ایمان لاچکا تھا۔“

تُبّع مدینہ کے نزدیک

ایک اور روایت میں ھے کہ جب ”تبع“ اپنے کشور کشائی کے ایک سفر میں مدینہ کے قریب پہنچا تو وھاں کے ساکن یهودی علماء کو پیغام بھیجا کہ اس سرزمین کو ویران کرنا چاہتا هوں تاکہ کوئی بھی یهودی اس جگہ نہ رہنے پائے ،اور عرب قانون حکم فرماهو۔

یهودیوں کا سب سے بڑا عالم ”شامول“ تھا، اس نے کھا: یہ وہ شھر ھے جو حضرت اسماعیل کی نسل سے پید ا هونے والے ایک پیغمبر کی ہجرت گاہ بنے گا،پھر اس نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی چند صفات گنوائیں، متبع جس کے ذہن میں گویا اس بارے میں کچھ معلومات تھیں اس نے کھا: ”تو پھر اس شھر کو ویران نھیں کروں گا“۔

حتیٰ کہ ایک اور روایت میں اسی داستان کے ذیل میں یہ بات بھی بیان هوئی ھے کہ اس نے ”اوس“ اور ”خزرج“ کے بعض قبائل کو جو اس کے ھمراہ تھے حکم دیا کہ وہ اسی شھر میں رہ جائیں اور جب پیغمبر موعود ظهور کریں تو وہ ان کی امداد کریں اوراپنی اولاد کو بھی وہ اسی بات کی وصیت کرتا رھا، حتیٰ کہ اس نے ایک خط بھی تحریر کر کے اس کے سپرد کر دیا، جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمپر ایمان لانے کا اظھار کیا گیا تھا۔

تُبّع شھر مکہ میں

صاحب ”اعلام القرآن“ رقمطراز ھیں:

”تبع “یمن کے عالمگیربادشاهوں میں سے ایک تھا کہ جس نے ہندوستان تک فوج کشی کی اور اس علاقے کی تمام حکومتوں کو اپنی زیر نگرانی کر لیا، اپنی فوج کشی کی ایک مھم کے دوران میں وہ مکہ معظمہ پہنچا اور اس نے خانہٴ کعبہ کے منہدم کر نے کا ارادہ کر لیا ،لیکن وہ ایک ایسی بیماری میں مبتلا هو گیا کہ طبیب اس کے معالجے سے عاجز آگئے ۔

اس کے ھمرکابوں میں کچھ اھل علم بھی موجود تھے جس کا سرپرست ”شامول“ نامی ایک حکیم تھا،اس نے کھا: آپ کی بیماری کا اصل سبب خانہ ٴ کعبہ کے بارے میں بُری نیت ھے ۔

”تبع“ اپنے مقصد سے باز آگیا اور نذر مانی کہ وہ خانہٴ کعبہ کا احترام کرے گا اور صحت یاب هونے کے بعد خانہ ٴ کعبہ پر یمانی چادر کا غلاف چڑھائے گا ۔

دوسری تاریخوں میں بھی خانہٴ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی داستان منقول ھے جو تو اترکی حد تک پہنچی هوئی ھے یہ فوج کشی اور کعبہ پر غلاف چڑھانے کا مسئلہ ۵ عیسوی میں وقوع پذیر هوا ،اب بھی شھر مکہ میں ایک جگہ موجود ھے جس کا نام ”دارالتبابعہ“ ھے۔

بھرحال یمن کے بادشاهوں (تبابعہ یمن) کی داستان کا ایک بہت بڑا حصہ تاریخی لحاظ سے ابھام سے خالی نھیں ھے، کیونکہ ان کی تعداد اور ان کی حکومت کے عرصہ کے بارے میں زیادہ معلومات مھیا نھیں ھیں، اس بارے میں بعض متضاد روایتیں بھی ملتی ھیں، جو کچھ اسلامی روایات میں ھے وہ تفسیری مواد هو یا تاریخی اور حدیثی، صرف بادشاہ کے بارے میں ھے ،۔جس کا قرآن میں دو مرتبہ ذکر هوا ھے ۔

اصحاب الرس

”اصحاب الرس“ 17 کون ھیں 18 اس سلسلے میں بہت اختلات ھے ۔19

وہ ایسے لوگ تھے جو” صنوبر“کے درخت کی پوجاکرتے تھے اور اسے ”درختوں کا بادشاہ“ کہتے تھے یہ وہ درخت تھا جسے جناب نوح علیہ السلام کے بیٹے ”یافث“ نے طوفان نوح کے بعد ”روشن آب“ کے کنارے کاشت کیا تھا ”رس“ نامی نھر کے کنارے انھوں نے بارہ شھر آباد کر رکھے تھے جن کے نا م یہ ھیں: آبان، آذر، دی، بھمن، اسفند، فروردین، اردبہشت، خرداد، تیر، مرداد، شھریور، اور مھر، ایرانیوں نے اپنے کلنڈر کے بارہ مھینوں کے نام انھی شھروں کے نا م پر رکھے هوئے ھیں ۔

چونکہ وہ درخت صنوبر کا احترام کرتے تھے لہٰذا انھوں نے اس کے بیج کو دوسرے علاقوں میں بھی کاشت کیا اور آبپاشی کے لئے ایک نھر کو مختص کردیا انھوں نے اس نھر کاپانی لوگوں کے لئے پینا ممنوع قرار دے دیا تھا، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص اس سے پی لیتا اسے قتل کر دیتے تھے وہ کہتے تھے کیونکہ یہ ھمارے خداوٴں کا سرمایہ حیات ھے لہٰذا مناسب نھیں ھے کہ کوئی اس سے ایک گھونٹ پانی کو کم کردے ۔

وہ سال کے بارہ مھینوں میں سے ھر ماہ ایک ایک شھر میں ایک دن کے لئے عید منایا کرتے تھے اور شھر سے باھر صنوبر کے درخت کے پاس چلے جاتے اس کے لئے قربانی کرتے اور جانوروں کو ذبح کرکے آگ میں ڈال دیتے جب اس سے دھواں اٹھتا تو وہ درخت کے آگے سجدے میں گر پڑتے اور خوب گریہ کیا کرتے تھے ۔ھر مھینے ان کا یھی طریقہ کار تھا چنانچہ جب ”اسفند “کی آبادی آتی تو تمام بارہ شھروں کے لوگ یھاں جمع هو تے اور مسلسل بارہ دن تک وھاں عید منایا کرتے کیونکہ یہ ان کے بادشاهوں کا دارالحکومت تھا یھیں پر وہ مقدور بھر قربانی بھی کیا کرتے اور درخت کے آگے سجدے بھی کیا کرتے ۔

جب وہ کفر اور بت پرستی کی انتھا کو پہنچ گئے تو خدا وند عالم نے بنی اسرائیل میں سے ایک نبی ان کی طرف بھیجا تاکہ وہ انھیں شرک سے روکے اور خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کی دعوت دے لیکن وہ اس نبی پر ایمان نہ لائے اب اس نبی نے فساد اور بت پرستی کی اصل جڑ یعنی اس درخت کے قلع قمع کرنے کی خدا سے دعا کی اور بڑا درخت خشک هو گیا ،جب ان لوگوں نے یہ صور ت دیکھی تو سخت پریشان هوگئے اور کہنے لگے کہ اس شخص نے ھمارے خداوٴں پر جادو کر دیا ھے کچھ کہنے لگے کہ ھمارے خدا اس شخص کی وجہ سے ھم پر ناراض هو گئے ھیں کیونکہ وہ ھمیں کفر کی دعوت دیتا ھے۔ اب بحث مباحثے کے بعد سب لوگوں نے اللہ کے اس نبی کو قتل کر نے کی ٹھان لی اور گھرا کنوں کھوداجس میں اسے ڈال دیا اور کنوئیں کامنہ بند کر کے اس کے اوپر بیٹھ گئے اور اس کے نالہ و فریاد کی آواز سنتے رھے یھاں تک کہ اس نے جان جان ِافریں کے سپرد کردی ،خدا وند عالم نے انھیں ان برائیوں اور ظلم و ستم کی وجہ سے سخت عذاب میں مبتلا کر کے نیست و نابود کر دیا ۔

اصحاب الجنہ

سر سبز باغات کے مالک

قرآن میں پھلے زمانہ کے کچھ دولتمندوں کے بارے میںجو ایک سر سبز و شاداب باغ کے مالک تھے اور آخر کار وہ خود سری کی بناء پر نابود هوگئے تھے،ایک داستان بیان کرتا ھے ،ایسا معلوم هوتا ھے کہ یہ داستان اس زمانہ لوگوں میں مشهور و معروف تھی،اور اسی بناء پر اس کو گواھی کے طورپر پیش کیا گیا ھے جیساکہ ارشاد هوتا ھے:

”ھم نے انھیں آزمایا ،جیساکہ ھم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی۔“

یہ باغ کھاں تھا، عظیم شھر صنعا ء کے قریب سر زمین یمن میں؟ یا سر زمین حبشہ میں؟ یا بنی اسرائیل کی سر زمین شام میں؟ یا طائف میں؟ اس بارے میں اختلاف ھے، لیکن مشهور یمن ھی ھے ۔

اس کا قصہ یہ ھے کہ یہ باغ ایک بوڑھے مر د مومن کی ملکیت تھا، وہ اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیا کرتا اور باقی مستضعفین اور حاجت مندوں کو دے دیتا تھا، لیکن جب اس نے دنیا سے آنکھ بند کر لی (اور مر گیا) تو اس کے بیٹوں نے کھا ھم اس باغ کی پیداوار کے زیادہ مستحق ھیں، چونکہ ھمارے عیال واطفال زیادہ ھیں، لہٰذا ھم اپنے باپ کی طرح عمل نھیں کر سکتے، اس طرح انھوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ ان تمام حاجت مندوں کو جوھر سال اس سے فائدہ اٹھاتے تھے محروم کردیں، لہٰذا ان کی سر نوشت وھی هوئی جو قرآن میں بیان هوئی ۔

ارشاد هوتاھے: ”ھم نے انھیں آزمایا ،جب انھوں نے یہ قسم کھائی کہ باغ کے پھلوں کو صبح کے وقت حاجت مندوں کی نظریں بچا کر چنیں گے ۔”اور اس میں کسی قسم کا استشناء نہ کریں گے اور حاجت مندوں کے لئے کوئی چیز بھی نہ رہنے دیں۔“20

ان کا یہ ارادہ اس بات کی نشاندھی کرتا ھے کہ یہ کام ضرورت کی بناپر نھیں تھا، بلکہ یہ ان کے بخل اور ضعیف ایمان کی وجہ سے تھاکیونکہ انسان چاھے کتناھی ضرورت مند کیوں نہ هو اگر وہ چاھے تو کثیرپیداو ار والے باغ میں سے کچھ نہ کچھ حصہ حاجت مندوں کے لئے مخصوص کرسکتاھے ۔

اس کے بعد اسی بات کو جاری رکھتے هوئے مزید کہتا ھے:

”رات کے وقت جب کہ وہ سوئے هوئے تھے تیرے پروردگار کا ایک گھیرلینے والا عذاب ان کے سارے باغ پر نازل هوگیا “21

ایک جلانے والی آگ اور مرگ بار بجلی اس طرح سے اس کے اوپر مسلط هوئی کہ: ”وہ سر سبز و شاداب باغ رات کی مانند سیاہ اور تاریک هوگیا ۔22 اور مٹھی بھر راکھ کے سوا کچھ بھی باقی نہ بچا۔

بھر حال باغ کے مالکوں نے اس گمان سے کہ یہ پھلوںسے لدے درخت اب تیار ھیں کہ ان کے پھل توڑ لئے جائیں: ”صبح هوتے ھی ایک دوسرے کو پکارا۔انھوں نے کھا: ”اگر تم باغ کے پھلوں کو توڑنا چاہتے هو تو اپنے کھیت اور باغ کی طرف چلو۔“23

”اسی طرح سے وہ اپنے باغ کی طرف چل پڑے اور وہ آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے باتیں کر رھے تھے ۔کہ اس بات کا خیال رکھو کہ ایک بھی فقیر تمھارے پاس نہ آنے پائے ۔“24 

اور وہ اس طرح آہستہ آہستہ باتیں کر رھے تھے کہ ان کی آواز کسی دوسرے کے کانوں تک نہ پہنچ جائے ،کھیں ایسا نہ هو کہ کوئی فقیر خبردار هو جائے اور بچے کچے پھل چننے کے لئے یا اپنا پیٹ بھر نے کے لئے تھوڑا سا پھل لینے ان کے پاس آجائے ۔

ایسا دکھائی دیتا ھے کہ ان کے باپ کے سابقہ نیک اعمال کی بناء پر فقراء کا ایک گروہ ایسے دنوںکے انتظار میں رہتا تھا کہ باغ کے پھل توڑنے کا وقت شروع هوتو اس میں سے کچھ حصہ انھیں بھی ملے ،اسی لئے یہ بخیل اور ناخلف بیٹے اس طرح سے مخفی طورپر چلے کہ کسی کو یہ احتمال نہ هو کہ اس قسم کا دن آپہنچا ھے، اور جب فقراء کو اس کی خبر هو تو معاملہ ختم هو چکا هو ۔

”اسی طرح سے وہ صبح سویرے اپنے باغ اور کھیت میںجانے کے ارادے سے حاجت مندوں اور فقراء کو روکنے کے لئے پوری قوت اور پختہ ارادے کے ساتھ چل پڑے ۔“25 سرسبز باغ کے مالکوں کا دردناک انجام 

وہ باغ والے اس امید پر کہ باغ کی فراواں پیدا وار کو چنیں اور مساکین کی نظریں بچاکر اسے جمع کر لیں اور یہ سب کچھ اپنے لئے خاص کر لیں ،یھاں تک کہ خدا کی نعمت کے اس وسیع دسترخوان پر ایک بھی فقیر نہ بیٹھے ،یوں صبح سویرے چل پڑے لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ رات کے وقت جب کہ وہ پڑے سو رھے تھے ایک مرگبار صاعقہ نے باغ کو ایک مٹھی بھر خاکستر میں تبدیل کر دیا ھے ۔

قرآن کہتا ھے: ”جب انھوں نے اپنے باغ کو دیکھاتو اس کا حال اس طرح سے بگڑ ا هوا تھا کہ انھوں نے کھا یہ ھمارا باغ نھیں ھے، ھم تو راستہ بھول گئے ھیں ،“26

پھر انھوں نے مزید کھا: ”بلکہ ھم توحقیقت میں محروم ھیں ۔“27

ھم چاہتے تھے کہ مساکین اور ضرور ت مندوںکو محروم کریں لیکن ھم تو خود سب سے زیادہ محروم هو گئے ھیں مادی منافع سے بھی محروم هو گئے ھیں اور معنوی برکات سے بھی کہ جو راہ خدا میں خرچ کرنے اور حاجت مندوں کو دینے سے ھمارے ھاتھ آتیں ۔

”اس اثنا میں ان میں سے ایک جو سب سے زیادہ عقل مند تھا، اس نے کھا: ”کیا میں نے تم سے نھیں کھا تھا کہ تم خدا کی تسبیح کیوں نھیں کرتے۔“28

کیا میں نے نھیں کھاتھا کہ خدا کو عظمت کے ساتھ یاد کرو اور اس کی مخالفت سے بچو، اس کی نعمت کا شکریہ بجالاوٴ اور حاجت مندوں کو اپنے سوال سے بھرہ مند کرو! لیکن تم نے میری بات کو توجہ سے نہ سنا اور بدبختی کے گڑھے میں جاگرے۔

یھاں سے معلوم هوتاھے کہ ان میں ایک مرد مومن تھا جو انھیں بخل اور حرص سے منع کیا کرتاتھا، چونکہ وہ اقلیت میں تھا لہٰذاکوئی بھی اس کی بات پرکان نھیںدھرتا تھا لیکن اس درد ناک حادثہ کے بعد اس کی زبان کھل گئی، اس کی منطق زیادہ تیز اور زیادہ کاٹ کرنے والی هو گئی ،اور وہ انھیں مسلسل ملامت اور سر زنش کرتا رھا۔

وہ بھی ایک لمحہ کےلئے بیدار هوگئے اور انھوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کر لیا: ”انھوں نے کھا: ھمارا پرورددگار پاک اور منزہ ھے، یقینا ھم ھی ظالم و ستمگر تھے، 29 ھم نے اپنے اوپر ظلم کیا اور دوسروں پر بھی۔“

لیکن مطلب یھیں پر ختم نھیں هوگیا: ”انھوں نے ایک دوسرے کی طرف رخ کیا او ر ایک دوسرے کی ملامت و سر زنش کرنے لگے“۔30

احتمال یہ ھے کہ ان میں سے ھر ایک اپنی خطا کے اعتراف کے باوجود اصلی گناہ کو دوسرے کے کندھے پر ڈالتا اور شدت کے ساتھ اس کی سرز نش کرتا تھا کہ ھماری بربادی کا اصل عامل تو ھے! ورنہ ھم خدا اور اس کی عدالت سے اس قدر بیگانے نھیں تھے۔ 

اس کے بعد مزید کہتا ھے کہ جب وہ اپنی بدبختی کی انتھاء سے آگاہ هوئے تو ان کی فریاد بلند هوئی اور انھوں نے کھا: ”وائے هو ھم پر کہ ھم ھی سرکشی اور طغیان کرنے والے تھے ۔“31

آخر کار انھوں نے اس بیداری ،گناہ کے اعتراف اور خدا کی بازگشت کے بعد اس کی بارگاہ کی طرف رجوع کیا اور کھا :امید ھے کہ ھمارا پروردگار ھمارے گناهوں کو بخش دے گا اور ھمیں اس سے بہتر باغ دے گا،کیونکہ ھم نے اس کی طرف رخ کرلیا ھے اور اس کی پاک ذات کے ساتھ لولگالی ھے ۔لہٰذا اس مشکل کا حل بھی اسی کی بے پایاں قدرت سے طلب کرتے ھیں ۔“32

کیا یہ گروہ واقعا ً اپنے فعل پر پشیمان هوگیا تھا ،اس نے پرانے طرز عمل میں تجدید نظر کر لی تھی اور قطعی اور پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ اگر خدا نے ھمیں آئندہ اپنی نعمتوں سے نوازا تو ھم اس کے شکر کا حق ادا کریں گے؟ یا وہ بھی بہت سے ظالموں کی طرح کہ جب وہ عذاب میں گرفتار هوتے ھیں تو وقتی طورپر بیدار هو جاتے ھیں، لیکن جب عذاب ختم هو جاتا ھے تو وہ دوبارہ انھیں کاموں کی تکرار کرنے لگتے ھیں ۔

اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ھے کہ آیت کے لب و لہجہ سے احتمالی طورپر جو کچھ معلوم هوتا ھے وہ یہ ھے کہ ان کی توبہ شرائط کے جمع نہ هونے کی بناء پر قبول نھیں هوئی ،لیکن بعض روایات میں آیا ھے کہ انھوں نے خلوص نیت کے ساتھ تو بہ کی ،خدا نے ان کی توبہ قبول کر لیا اورا نھیں اس سے بہتر باغ عنایت کیا جس میں خاص طورپر بڑے بڑے خوشوں والے انگور کے پُر میوہ درخت تھے۔

قرآن آخر میں کلی طورپر نکالتے هوئے سب کے لئے ایک درس کے عنوان سے فرماتا ھے: ”خدا کا عذاب اس طرح کا هوتا ھے اور اگر وہ جانیں تو آخرت کا عذاب تو بہت ھی بڑا ھے:“33

قوم سباٴ

قوم سباٴایک ایسی جمعیت اور قوم تھی کہ جو جزیرہ عرب میں رہتی تھی، اور ایک اعلیٰ حکومت اور درخشاں تمدن کی مالک تھی ۔

یمن کا علاقہ وسیع اور زر خیزتھا لیکن زر خیز علاقہ هونے کے باوجود چونکہ وھاں کوئی اھم دریا نھیں تھا، لہٰذا اس سے کوئی فائدہ نھیں اٹھا یا جاتا تھا ،سیلاب اور بارشیں پھاڑوں پر برستی تھیں اور ان کا پانی بیابانوں میں بے کار اور بے فائدہ ضائع هوجاتاتھا ،اس سر زمین کے سمجھدار لوگ ان پانیوں سے استفادہ کرنے کی فکر میں لگ گئے اور اھم علاقوں میں بہت سے بند باندھے ، جن میں سے زیادہ اھم اور سب سے زیادہ پانی کا ذخیرہ رکھنے والا بند ”مآرب“34 تھا۔

”مآرب“ (بروزن مغرب) ایک شھر تھاکہ جو ان دروں میں سے ایک کے آخر میں واقع تھا، اور ”صراة“ کے کو ہستانوں کے بڑے بڑے سیلاب اس کے قریب سے گزرتے تھے، اس درہ کے دھانہ پر ”بلق“ نامی دو پھاڑوں کے دامن میں انھوں نے ایک مضبوط باندھ بنایاتھا ،اور اس میں سے پانی کی کئی نھریں نکالی تھیں، اس باندھ کے اندر پانی کا اس قدر ذخیرہ جمع هو گیا تھا کہ جس سے استفادہ کرتے هوئے وہ اس بات پر قادر هو گئے تھے کہ اس نھر کے دونوں طرف، کہ جو باندھ تک جاتی تھی ،بہت ھی خوبصورت و زیبا باغات لگائیں اور پر برکت کھیت تیار کریں ۔

اس سر زمین کی آبادبستیاں ایک دوسری سے متصل تھیں اور درختوںکے وسیع سائے ایک دوسرے سے ملے هوئے تھے، اور ان کی شاخوں پر اتنے پھل لگا کرتے تھے کہ کہتے ھیں کہ جب کوئی آدمی اپنے سر پر ایک ٹوکری رکھ کر ان کے نیچے سے گزرتا تھا تو یکے بعد دیگرے اتنے پھل اس میں آکر گرتے تھے کہ تھوڑی ھی دیر میں وہ ٹوکری بھر جاتی تھی ۔

امن و امان کے ساتھ نعمت کے وفور نے پاک و صاف زندگی کے لئے بہت ھی عمدہ اور مرفہ ماحول پیدا کر رکھا تھا، ایک ایسا ماحول جو خدا کی اطاعت اور معنوی پھلووٴں کے ارتقاء و تکامل کے لئے مھیا تھا۔

لیکن انھوں نے ان تمام نعمتوں کی قدر کو نہ پہچانا اور خدا کو بھول گئے اور کفران ِنعمت میں مشغول هوگئے،اور فخر و مباھات کرنے لگے اور طبقاتی اختلاف پیدا کر دیئے ۔

صحرائی چو هوں نے مغرور و مست لوگوں کی آنکھوں سے دور ،مٹی کے اس باندھ کی دیوار کا رخ کیا اور اسے اندر سے کھوکھلا کر دیا، اچانک ایسی شدید بارشیں بر سیں اور یسا عظیم سیلاب آیا کہ جس سے باندھ کی وہ دیواریں کہ جو سیلاب کے دباوٴ کو بر داشت کر نے کے قابل نہ رھی تھیں دھڑام سے گر پڑیں اور بہت ھی زیادہ پانی کہ جو باندھ کے اندر جمع هو رھا تھا، اچانک باھر نکل پڑا اور تمام آبادیوں، باغات، کھیتوں، فصلوںاور چوپایوں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور خوبصورت سجے سجائے قصور و محلات اور مکانات کو ویران کر دیا اور اس کے بعد آباد سر زمین کو خشک اور بے آب و گیاہ صحرا میں بدل دیا اور ان تمام سر سبز و شاداب باغوں اور پھلدار درختوں میں سے صرف چند ”اراک“ کے کڑوے شجر، کچھ، جھاوٴاور کچھ بیری کے درخت باقی رہ گئے، غزل خوانی کرنے والے پرندے وھاں سے کوچ کر گئے اور الووٴں اور کووّں نے ان کی جگہ لے لی۔

ھاں! جب خدا اپنی قدرت دکھانا چاہتا ھے تو چوهوں کے ذریعہ ایک عظیم تمدن کو برباد کر دیتا ھے، تاکہ بندے اپنے ضعف اور کمزوری سے آگاہ هو جائیں، اور قدرت اور اقتدار کے وقت مغرور نہ هوں ۔

اس بارے میں کہ”سباٴ“ کس کانام ھے؟ اور یہ کیا چیز ھے؟ مورخین کے درمیان اختلاف ھے، لیکن مشهور یہ ھے کہ ”سباء“ ، ”یمن‘’کے اعراب کے باپ کا نام ھے اور اس روایت کے مطابق کہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل هوئی ھے، وہ ایک آدمی تھا اور ا س کانام ”سباء“ تھا اور اس کے دس بیٹے تھے، اور ان میں سے ھر ایک سے وھاں کے قبائل میں سے ایک قبیلہ وجود میں آیا ۔ 35

ایک درخشاں تمدن جو کفران نعمت کی وجہ سے برباد هو گیا 

قرآن مجید نے ان کی عبرت انگیز سر گزشت بیان کی ھے، اور ان کی زندگی کے جزئیات و خصوصیات کے اھم حصہ کی طرف اشارہ کیا ھے ۔

پھلے کہتاھے: ”قوم سبا کے لئے ان کے محل سکونت میں خدائی قدرت کی ایک نشانی تھی“۔ 36

جیسا کہ ھم دیکھیں گے، خدا کی اس بزرگ آیت کا سرچشمہ یہ تھا کہ، قوم سباء اس علاقے کے اطراف میں واقع پھاڑوں کے محل وقوع اور ان کے خاص حالات و شرائط، اور اپنی خدا داد ذھانت اور هو شمندی سے استفادہ کرتے هوئے، ان سیلابوں کو کہ جو سوائے ویرانی و تباھی کے کوئی نتیجہ نہ دیتے تھے، ایک قوی اور مستحکم باندھ کے پیچھے روک دینے پر قادر هو گئے تھے اور اس کے ذریعہ انھوں نے بہت ھی آباد ملک تعمیر کر لیا تھا ،یہ کتنی عظیم آیت ھے کہ ایک ویران اور برباد کر نے والا عامل ،عمران و آبادی کے اھم ترین عوامل میں بدل جائے ۔ 

اس کے بعد قرآن اس خدا ئی آیت کی تفسیر کی تشریح کر تے هوئے کہ جو قوم سباء کے ا ختیار میں قرار پائی تھی ،اس طرح کہتا ھے: ”دوبڑے باغ تھے دائیں اور بائیں طرف“37

یہ دونوںباغ کوئی معمولی اور سادہ قسم کے باغ نھیں تھے، بلکہ یہ ایک عظیم نھر کے دونوں طرف باغوں کا مسلسل اور ملا هوا سلسلہ تھا، جو اس عظیم باندھ کے ذریعہ سیراب هوتے تھے قوم سباء اس عظیم باندھ کے ذریعہ، جو انھوں نے اس علاقہ کے اھم پھاڑوں کے درمیان بنایا تھا ،اس بات پر قادر هوگئی تھی کہ ان فراواں سیلابوں کو ،جو ویرانی کا سبب بنتے تھے یا کم از کم بیابانوں میں بے کار و فضول طورسے ضائع اور تلف هو جاتے تھے ،اس باندھ کے پیچھے ذخیرہ کر لیں، اور اس کے اندر کھڑکیاں بنا کر پانی کے اس عظیم مخزن سے استفادہ کر نے کے لئے اپنے کنٹرول میں کر لیں اور اس طرح سے وسیع و عریض زمینوں کو زیر کاشت لائیں ۔

وھی سیلاب کہ جو خرابی و بر بادی کا باعث بنیں، وہ اس طرح سے آبادی کا باعث بن جائیں، کیا یہ عجیب بات نھیں ھے؟ کیا یہ خدا کی عظیم آیت اور نشانی شما ر نھیں هوتی۔؟!

یہ بات تو آبادی کے لحاظ سے ھے، لیکن چونکہ لوگوں کی آبادی کافی نھیں ھے، بلکہ اھم اور بنیاد ی شرط امن و امان هوتا ھے، لہٰذا مزید کہتا ھے: ”ھم نے ان آبادیوں کے درمیان مناسب اور نزدیک نزدیک فاصلے رکھے“ (تاکہ وہ آسانی اور امن وامان کے ساتھ ایک دوسری جگہ آجاسکیں)۔ اور ھم نے ان سے کھا: ”تم ان بستیوں کے درمیان راتوں میں اوردنوں میں پورے امن و امان کے ساتھ سفر کرو،اور ان آبادیوں میں چلو پھرو۔“38

اس طرح یہ آبادیاں مناسب اور جچا تلافاصلہ رکھتی تھیں ،اور و حوشی اور بیابانی درندوں، یا چوروں اور ڈاکووٴں کے حملہ کے لحاظ سے بھی انتھائی امن و امان میں تھیں، اس طرح سے کہ لوگ زاد راہ ،سفر خرچ اور سواری کے بغیر ھی، اس صورت میں کہ نہ اکٹھے قافلوں میں چلنے کی ضرورت تھی اور نہ ھی مسلح افراد ساتھ لینے کی کوئی احتیاج تھی، راستے کی بے امنی کی جہت سے، یا پانی اور غذا کی کمی کی وجہ سے کسی ڈر اور خوف کے بغیر اپنا سفر جاری رکھ سکتے تھے۔ 

اس کے بعد مزید کہتا ھے: ”ھم نے ان سے کھا کہ اپنے پروردگار کی اس فراواں روزی میں سے کھاوٴ اور اس کا شکر اداکرو۔ ایک پاک وپاکیزہ شھر ھے اور پروردگار بخشنے والا اور مھربان ھے۔“39

اس چھوٹے سے جملے نے تمام مادی و معنوی نعمتوں کے مجموعے کو زیبا ترین شکل میں منعکس کر دیا ھے ،مادی نعمتوں کے لحاظ سے تو وہ پاک و پاکیزہ زمین رکھتے تھے کہ جو چوروں،ظالموں ،آفات و بلیات، خشک سالی و قحط اور بد امنی و وحشت جیسے طرح طرح کے مصائب سے پا ک تھی، یھاں تک کہ کھا جاتا ھے کہ وہ زمین موذی حشرات سے بھی پاک و پاکیزہ تھی، پاک وپاکیزہ هوائیں چلتی تھیں اور فرحت بخش نسیم رواں دواں تھی، زمین زر خیز تھی اور درخت پُر بار تھے ۔

اور معنوی نعمت کے لحاظ سے خدا کی بخشش و غفران ان کے شامل حال تھی، وہ ان کی تقصیر و کوتاھی پر صرف نظر کرتا تھا اور انھیں مشمول عذاب اور ان کی سر زمین کو بلا و مصیبت میں گرفتار نھیں کرتا تھا ۔

لیکن ان ناشکرے لوگوں نے ان تمام نعمتوں کی قدردانی نھیں کی اور آزمائش کی بھٹی سے صحیح و سالم باھر نہ آسکے ،انھوں نے کفران نعمت اور روگردانی کی راہ اختیار کر لی لہٰذا خدا نے بھی ان کی سختی کے ساتھ گوشمالی کی ۔

اسی لئے خداوند عالم فرماتا ھے: ”وہ خدا سے رو گرداں هوگئے۔“40

یہ وہ موقع تھا کہ عذاب کا کوڑا ان کے پیکر پر آکر پڑا ،جیسا کہ قرآن کہتا ھے: ”ھم نے بنیادوں کو اکھاڑ کر پھینک دینے والا وحشتناک سیلاب ان کے پاس بھیجا 41 اور ان کی آبادسر زمین ایک ویرانے میں بدل گئی ۔ 

اس کے بعد قرآن اس سرزمین کی باقی ماندہ حالت و کیفیت کی اس طرح سے توصیف کرتا ھے: ”ھم نے ان کے دو وسیع اور پر نعمت باغوں کو ، بے قدر و قیمت کڑوے پھلوں والے ،اور جھاوٴکے بے مصرف درختوں اور تھوڑے سے بیری کے درختوں میں بدل دیا ۔“42

اور اس طرح سے ان تمام سر سبز و شاداب درختوں کے بجائے ،بہت ھی کم قدر و قیمت والے بیابانی اور جنگلی قسم کے چند ایک درخت ،کہ شاید ان میں سے سب زیادہ اھم درخت وھی بیری کے درخت تھے ،کہ وہ بھی تھوڑی سی ھی مقدار میں، باقی رہ گئے تھے، (اب تم اس کی اس مجمل داستان کو پڑھنے کے بعد خود ھی ان کی مفصل داستان کا انداز ہ لگا لو،کہ خود ان کے اوپر او ر ان کی آباد سر زمین پر کیا گزری؟)

ممکن ھے کہ ان تین قسم کے درختوں کا بیان ھے کہ جو اس سر زمین میں باقی رہ گئے تھے، (درختوں کے) تین مختلف گروهوں کی طرف اشارہ هو، کہ ان درختوںمیں سے ایک حصہ نقصان دہ تھا ،بعض بے مصرف تھے ۔اور بعض بہت ھی کم نفع دینے والے تھے ۔

ھم نے انھیں اس طرح منتشر کیا کہ ضر ب المثل بن گئے

کس قدر عمدہ تعبیر ھے ،قرآن اس جملہ کے بعد، کہ جو ان کے درد ناک انجام کے بارے میں بیان کیا ھے، کہتا ھے: ”ھم نے انھیں ایسی سزا دی اور ان کی زندگی لپیٹ کو رکھ دیا کہ: ”انھیں ھم نے دوسروں کے لئے داستان اور افسانہ بنا دیا۔“43

ھاں! ان کی تمام تر با رونق زندگی اور درخشاں و وسیع تمدن میں سے زبانی قصوں، دلوںکی یادوں اور تاریخوں کے صفحات پر چند سطروں کے سوا اور کچھ باقی نہ رھا:”اور ھم نے انھیں بری طرح سے حیران و پریشان کر دیا ۔“44

ان کی سر زمین ایسی ویران هوئی کہ ان میں وھاں قیام کرنے کی طاقت نہ رھی، اور زندگی کو باقی رکھنے کے لئے وہ اس بات پر مجبور هو گئے کہ ان میں سے ھر گروہ کسی طرف رخ کرے اور خزاں کے پتوںکی طرح، کہ جو تند و تیز هواوٴں کے اندر ادھر ادھر مارے مارے پھرتے ھیں، ھر ایک کسی گوشہ میں جا گرے، اس طرح سے کہ ان کی پریشانی ضرب المثل بن گئی، کہ جب کبھی لو گ یہ کہنا چاہتے کہ فلاں جمعیت سخت پر اگندہ اور تتر بتر هوگئی تو وہ یہ کھا کرتے تھے کہ: (وہ قوم سبا ء اور ان کی نعمتوں کی طرح پراگندہ هوگئے ھیں)۔

بعض مفسرین کے قول کے مطابق قبیلہٴ ”غسان“ شام کی طرف گیا اور ”اسد“ عمان کی طرف، ”خزاعہ“ تھامہ کی طرف ،اور قبیلہٴ ”انمار“ یثرب کی طرف ۔

اور آخرمیں فرماتا ھے: ”یقینا اس سر گزشت میں ،صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے عبرت کی آیات اور نشانیاں ھیں ۔“45

دو دوست یا دو برادر

قرآن میں دو دوست یا دو بھائی کی داستان مثال کے طور پر بیان کی گئی ھے۔ ان میں سے ھر ایک مستکبرین اور، مستضعفین کا ایک نمونہ تھا۔ان کی طرز فکر اور ان کی گفتار و کردار ان دونوں گروهوں کے موقف کا ترجمان تھے۔ پھلے فرمایا گیا ھے: ”اے رسول! ان سے دو شخصوں کی مثال بیان کرو کہ جن میں سے ایک کو ھم نے انگوروں کے دوباغ دیئے تھے۔جو طرح طرح کے انگور تھے۔ان کے گرد اگرد کھجور کے درخت آسمان سے باتیں کررھے تھے۔ان دونوں باغوں کے درمیان ھری بھری کھیتی تھی“۔46

ایسے باغ اور کھیتیاں جن میں ھر چیز خوب تھی۔ انگور بھی تھے، کھجوریں بھی تھیں،گندم اور دوسرا اناج بھی تھا۔خود کفیل کھیتیاں تھیں۔ یہ دونوں باغ پیداوار کے لحاظ سے بھرے پڑے تھے۔درخت پھلوں سے لدے هوئے تھے اور کھیتیوں کے پودے خوب خوشہ دار تھے۔ان دونوں باغوں میں کسی چیز کی کمی نہ تھی۔47

سب سے اھم بات یہ ھے کہ پانی جو ھر چیز کے لئے مایہٴحیات ھے، خصوصاً باغات و زراعت کے لئے،انھیں فراھم تھا: ”کیونکہ دونوں باغوں کے درمیان ھم نے ایک نھر جاری کی تھی“۔48

”اس طرح سے ان باغات اور کھیتیوں کے مالک کو خوب پیداروار ملتی تھی“۔49

دنیا کا مقصد پورا هورھا هو اور تو کم ظرف اور بے وقعت انسان اپنی دنیاوی مراد پاکر غرورو تکبر میں مبتلا هوجاتا ھے اور سرکشی کرنے لگتا ھے۔ پھلے وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتا ھے۔ باغات کے اس مالک نے بھی اپنے دوست سے بات کرتے هوئے کھا: ”میں دولت اور سرمائے کے لحاظ سے تجھ سے برترهوں،میری آبرو، عزت اور حیثیت تجھ سے زیادہ ھے“۔50

اور افرادی قوت بھی میرے پاس بہت زیادہ ھے۔ مال و دولت اور اثر و رسوخ میرا زیادہ ھے۔ معاشرے میں میری حیثیت زیادہ ھے۔ تو میرے مقابلے میں کیا ھے اور تو کس کھاتے میں ھے؟

آہستہ آہستہ اس کے خیالات بڑھتے چلے گئے اور بات یھاں تک پہنچ گئی کہ وہ دنیا کو جاوداں، مال و دولت کو ابدی اور مقام وحشمت کو دائمی خیال کرنے لگا۔ ”وہ مغرور تھا حالانکہ وہ خود اپنے آپ پر ظلم کررھا تھا۔ایسے میں اپنے باغ میں داخل هوا اس نے ایک نگاہ سر سبز درختوں پر ڈالی جن کی شاخیں پھلوں کے بوجھ سے خم هوگئی تھیں۔ اس نے اناج کی ڈالیوں کو دیکھا،نھر کے آب رواں کی لھروں پر نظر کی کہ جو چلتے چلتے درختوں کو سیراب کررھا تھا۔ ایسے میں وہ سب کچھ بھول گیا اور کہنے لگا ”میرا خیال نھیں ھے کہ میرا باغ بھی کبھی اجڑے گا“۔51

پھر اس نے اس سے بھی آگے کی بات کی۔اس جھان کا دائمی هونا چونکہ عقیدہٴ قیامت کے منافی ھے لہٰذا وہ انکار قیامت کا سوچنے لگا۔اس نے کھا: میرا ھر گز نھیں خیال کہ کوئی قیامت بھی ھے۔ 52

پھر مزید کہنے لگا: فرض کیاجائے کہ قیامت هو بھی ”اور میں اپنی اس حیثیت اور مقام کے ساتھ اپنے رب کے پاس جاؤں بھی تو یقینا اس سے بہتر جگہ پاؤں گا“۔ 53

وہ ان خام خیالوں میں غرق تھا اور ایک کے بعد دوسر ی فضول بات کرتا جاتا تھا ۔ 

مستضعفین کا جواب

قرآن میں اس مغرور،بے ایمان،خود غرض دولت مند کی بے بنیاد باتوں کا جواب اس کے مومن دوست کی زبانی دیا گیا ھے۔ پھلے وہ خاموشی سے اس کوتاہ فکر انسان کی باتیں سنتا رھا تاکہ جو کچھ اس کے اندر ھے باھر آجائے اور پھر ایک ھی بار اسے جواب دیا جائے۔”اس نے کھا:کیا تو اس خدا سے کافر هوگیا ھے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور پھر تجھے پورا شخص بنایا۔ 54 ،55

اس کے بعد اس باایمان شخص نے اس کے کفر اورغرور کو توڑنے کے لئے کھا: ”لیکن میرا تو ایمان ھے کہ اللہ میرا پروردگار ھے، 56 اور مجھے اس عقیدے پر فخر ھے“۔ 

۳۔ تیسرا احتمال بھی بعید نظر نھیں آتا، وہ یہ کہ اس نے اپنی کچھ باتوں میں خدا کا انکار کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی ساری باتیں بیان نھیں کیں۔اس کا اندازہ اس باایمان شخص کی باتوں سے کیا جاسکتا ھے۔

تو اس بات پر نازاں ھے کہ تیرے پا س باغات،کھیتیاں،پھل اور پانی فراواں ھیں لیکن مجھے اس پر فخر ھے کہ میرا پروردگار اللہ ھے،میرا خالق و رازق وہ ھے،تجھے اپنی دنیا پر فخر ھے اور مجھے اپنے عقیدہ توحید و ایمان پر،”اور میں کسی کو اپنے رب کا شریک قرار نھیں دیتا“۔57

توحید اور شرک کا مسئلہ انسان کی سرنوشت میں اھم ترین کردار ادا کرتاھے۔پھر اس کے بارے میں گفتگو آگے بڑھائی اور اس کی ملامت کرتے هوئے کھا: ”جب تو اپنے باغ میں داخل هوا تو تو نے یہ کیوں نھیں کھا کہ یہ نعمت اللہ کی منشاٴ سے ھے“۔ 58 تو نے اسے اللہ کی جانب سے کیوں نھیں جانا اور اس کا شکر کیوں نھیں بجالایا ۔ ”تو نے کیوں نھیں کھا کہ اللہ کے سوا کسی کی کچھ طاقت نھیں“۔59

اگر تو نے زمین میں ھل چلایا ھے، بیج بویا ھے، درخت لگائے ھیں،قلمیں لگا ئی ھیں اور تجھے ھر موقع پر سب کچھ میسر آیا ھے یھاں تک کہ تو اس مقام پر پہنچا ھے تو سب اللہ کی قدرت سے استفادہ کرنے کی وجہ سے ھے۔ یہ تمام وسائل اور صلاحتیں تجھے اللہ نے بخشی ھیں،اپنی طرف سے تو کچھ بھی تیرے پاس نھیں ھے اور اس کے بغیر تو کچھ بھی نھیں ھے۔ اس کے بعد اس نے مزیدکھا: ”یہ جو تجھے نظر آتا ھے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم هوں (یہ کوئی اھم بات نھیں ھے)۔ اللہ تیرے باغ کی نسبت مجھے بہتر عطا کر سکتا ھے“۔ 60

”بلکہ یہ بھی هو سکتا ھے کہ خداآسمان سے تیرے باغ پر بجلی گرائے اور دیکھتے ھی دیکھتے یہ سر سبز و شاداب زمین ایسے چٹیل میدان میں بدل جائے کہ جھاں پاؤں پھسلتے هوں“۔61

یا زمین کو حکم دے کہ وہ ھل جائیں اور ”یہ چشمے اور نھریں اس کی تہہ میں ایسی چلی جائیں کہ پھر تو انھیں پا نہ سکے“۔62

در اصل وہ کہتا ھے کہ تو نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ھے یا کم از کم سنا ھے کہ کبھی ایسا بھی هوتا ھے کہ آسمان سے بجلی لمحہ بھر میں باغوں،گھروں اور کھیتوں کو مٹی کے ٹیلوں یا بے آب و گیا ہ زمین میں بدل کے رکھ دیتی ھے۔نیز تو نے سنا ھے یا دیکھا ھے کبھی زمین پر ایسا زلزلہ آتا ھے کہ چشمے خشک هوجاتے ھیں اور نھریں نیچے چلی جاتی ھیں اسطرح سے کہ وہ قابل اصلاح بھی نھیں رہتیں۔ جب تو ان چیزوں کو جانتا ھے تو پھر یہ غرور و غفلت کس بناء پر؟ تو نے یہ منظر دیکھے ھیں تو پھر یہ دلبستگی آخر کیوں؟تو یہ کہتا ھے کہ میں نھیں سمجھتا کہ یہ نعمتیں کبھی فنا هوں گی اور تو یہ سمجھتا ھے کہ یہ ھمیشہ رھیں گی۔یہ کیسی نادانی اور حماقت ھے؟!!

اور یہ ان کا انجام

ان دونوں کی آپس کی گفتگو ختم هوگئی۔ ا س خدا پرست شخص کی باتوں کا اس مغرور و بے ایمان دولت مند کے دل پر کوئی اثر نہ هوا۔وہ اپنے انھی جذبات اور طمرز فکر کے ساتھ اپنے گھر لوٹ گیا۔اسے اس بات کی خبر نہ تھی کہ اس کے باغوں اور سر سبز کھیتوں کی تباھی کے لئے اللہ کا حکم صادر هوچکا ھے۔اسے خیال نہ تھاکہ وہ اپنے تکبر اور شرک کی سزا اسی جھان میں پالے گا اور اس کا انجام دوسروں کے لئے باعث عبرت بن جائے گا۔

شاید اس وقت کہ جب رات کی تاریکی ھر چیز پر چھائی هوئی تھی،عذاب الٰھی نازل هوا تباہ کن بجلی کی صورت میں یا وحشتناک طوفان کی شکل میں یا هولناک زلزلے کی صورت میں اللہ کا عذاب نازل هوا۔ بھر حال جو کچھ بھی تھا اس نے چند لمحوں میں تروتازہ باغات، سر بفلک درخت اور خوشوں سے لدی کھیتیاں درھم برھم اور تباہ کردیں۔”اور عذاب الٰھی حکم خدا سے ھر طرف سے اس کے ثمرہ پر محیط هوگیا اور اسے نابود کردیا“۔ 63

دن چڑھا۔ باغ کا مالک باغ کی طرف چلا۔سرکشی ا سکے ذہن میں تھی۔وہ اپنے باغات کی پیداوار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی فکر میںتھا،جب وہ باغ کے قریب پہنچا تواچانک اس نے وحشت ناک منظر دیکھا۔حیرت سے اس کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے تاریکی چھاگئی اور وہ وھاں بے حس و حرکت کھڑا هوگیا۔ 

اسے سمجھ نھیں آرھی تھی کہ وہ یہ خواب دیکھ رھا ھے یا حقیقت۔ سب درخت اوندھے پڑے تھے، کھیتیاں زیرو زبر هوچکی تھیں۔زندگی کے کوئی آثار وھاں دکھائی نہ دیتے تھے۔گویا وھاں کبھی بھی شاداب و سر سبز باغ اور کھیتیاں نہ تھیں۔اس کا دل دھڑکنے لگا۔ چھرے کا رنگ اڑگیا۔ حلق خشک هوگیا۔ اس کے دل و دماغ سے سب غرور و نخوت جاتی رھی، اسے ایسے لگا جیسے وہ ایک طویل اور گھری نیند سے بیدار هوا ھے، ”وہ مسلسل اپنے ھاتھ مل رھا تھا، اسے ان اخراجات کا خیال آرھا تھا جو اس نے پوری زندگی میں ان پر صرف کئے تھے، اب وہ سب برباد هو چکے تھے اور درخت اوندھے گرے پڑے تھے “۔ 64

اس وقت وہ اپنی فضول باتوں اور بیهودہ سوچوں پر پشیمان هوا، ”وہ کہتا تھا: کاش میں نے کسی کواپنے پروردگار کا شریک نہ قرار دیا هوتا، اے کاش میں نے شرک کی راہ پر قدم نہ رکھا هوتا“ ۔ 65

زیادہ المناک پھلو یہ تھا کہ ان تمام مصائب و آلام کے سامنے وہ تن تنھا کھڑا تھا ”خدا کے علاوہ کوئی نہ تھا کہ جو اس مصیبت عظیم اور اتنے بڑے نقصان پر اس کی مدد کرتا ۔“66 اور چونکہ اس کا سارا سرمایہ تو یھی تھاجو برباد هوگیا ،اب اس کے پاس کچھ بھی نہ تھا ۔لہٰذا “وہ خود بھی اپنی کوئی مدد نھیں کرسکتا تھا۔“67

درحقیقت اس واقعے نے اس کے تمام غرورآمیز تصورات و خیالات کو زمین بوس اور باطل کردیا، کبھی تو وہ کہتا تھا کہ میں نھیںسمجھتا کہ یہ عظیم دولت و سرمایہ کبھی فنا هوگا لیکن آج وہ اپنی آنکھوں سے اس کی تباھی دیکھ رھا تھا۔ دوسری طرف وہ اپنے خد ا پرست اور باایمان دوست کے سامنے غرور و تکبر کا مظاھرہ کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں تجھ سے زیادہ قوی هوں، میرے پروردگار زیادہ ھیں لیکن اس واقعے کے بعد اس نے دیکھا کہ کوئی بھی اس کا مدد گار نھیں ھے ۔ اسے کبھی اپنی طاقت پر بڑا گھمنڈ تھا وہ سمجھتا تھا کہ اس کی بہت قوت ھے لیکن جب یہ واقعہ رونما هوا اور اس نے دیکھا کہ کچھ بھی اس کے بس میں نھیں تو اسے اپنی غلطی کا احساس هوا کیونکہ اب وہ دیکھ رھا تھا کہ اس کے بس میں اتنا بھی نھیں کہ وہ اس نقصان کے کچھ حصے کی بھی تلافی کر سکے ۔

بر صیصائے عابد

بنی اسرائیل میں ایک نامی گرامی عابد تھاجس کا نام ”بر صیصا“ تھا 68

جس نے طویل عرصہ تک عبادت پروردگار کی تھی جس کی وجہ سے وہ اس مقام پر پہنچ گیا تھا کہ جان بلب مریضوں کو اس کے پاس لاتے تھے اور اس کی دعا کے نتیجے میں انھیں دوبارہ صحت و سلامتی میسر هوجاتی تھی ایک دن ایک معقول گھرانے کی عورت کو اس کے بھائی اس کے پا س لائے اور طے پایا کہ کچھ عرصہ تک وہ عورت وھیں رھے تاکہ اس کو شفا حاصل هو ۔

اب شیطا ن نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالنے کا پروگرام بنایا اور اس قدراس کو اپنے دام میں اسیر کیا کہ اس عابد نے عورت کے سا تھ زیادتی کی اور کچھ دنوں بعد یہ بات کھل گئی کہ وہ عورت حاملہ ھے (کیونکہ ھمیشہ ایک گناہ عظیم تر گناهوں کا سر چشمہ بنتا ھے) اس نے عورت کو قتل کر دیا اور بیابان کے ایک گوشہ میں دفن کر دیا ،اس عورت کے بھائی اس واقعہ سے باخبر هوئے کہ مرد عابد نے اس قسم کے ظلم عظیم کا اقدام کیا ھے ۔

یہ خبر سارے شھر میں پھیل گئی، یھاں تک کہ امیر شھر کے کانوں تک جا پہنچی، وہ کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر چلا تاکہ حقیقت حال سے باخبر هو ،جس وقت وہ ظلم ثابت هو گیا تو اس کو اس کی عبادت گاہ سے کھینچ کر باھر لے آئے، اقرار گناہ کے بعد حکم دیا گیا کہ اسے سولی پر چڑھا دیا جائے جس وقت وہ سولی پر چڑھا دیا جانے لگا تو شیطان اس کے سامنے نمودار هوا اور کھا وہ میں تھا جس نے تجھے اس مصیبت میں پھنسایا، اب اگر جو کچھ میں کهوں وہ مان لے تو میں تیری نجات کا سامان فراھم کر تا هوں، عابد نے کھا میںکیا کروں، اس نے کھا میرے لئے تیرا صرف ایک سجدہ کافی ھے۔

عابد نے کھا جس حالت میں تو مجھے دیکھ رھا ھے اس میں سجدہ کر نے کا کوئی امکان نھیں ھے، شیطان نے کھا: اشارہ ھی کافی ھے، عابد نے گوشہ چشم یا ھاتھ سے اشارہ کیا اور اس طرح شیطان کی بارگاہ میں سجدہ بجالا یا اور اسی وقت مر گیا اور دنیا سے کافر گیا ۔

اصحاب اخدود

انسانوں کو جلا دینے والی بھٹیاں 

قرآن سوره بروج میں فرماتا ھے: ”موت اور عذاب هو تشدد کرنے والوں پر۔“

”وھی خندقیں جو آگ اور لکڑیوں سے پُر تھیں جن میںسے بڑے بڑے شعلے نکل رھے تھے “۔

”جس وقت وہ اس آگ کی خندق کے پاس بیٹھے هوئے تھے (سرد مھری سے)

”اور جو کچھ وہ مومنین کے بارے میں انجام دے رھے تھے اسے دیکھ رھے تھے۔“69

”اخدود“ عظیم گڑھے او ر خندق کے معنی میں ھے اور یھاں بڑی بڑی خندقیں مراد ھیں جو آگ سے پر تھیں تاکہ تشدد کر نے والے اس میں مومنین کو پھینک کر جلائیں۔

یہ واقعہ کس قوم سے متعلق ھے اور کس وقت معرض وجود میں آیا اور کیا یہ ایک خاص معین و مقرر واقعہ تھا ،یا دنیا کے مختلف علاقوں کے اسی قسم کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ ھے۔

مفسرین و مورخین کے درمیان اس موضوع پرا ختلاف ھے سب سے زیادہ مشهور یہ ھے کہ یہ واقعہ سر زمین یمن کے ”قبیلہٴ حمیر“ کے ”ذونواس“ نامی بادشاہ کے دور کا ھے۔ 

تفصیل اس کی یہ ھے کہ ذونواس، جوحمیر نامی قبیلہ سے متعلق تھا یهودی هوگیا اس کے ساتھ ھی اس کا پورا قبیلہ بھی یهودی هو گیا، اس نے اپنا نام یوسف رکھا، ایک عرصہ تک یھی صورت حال رھی، ایک وقت ایسا آیا کہ کسی نے اسے خبردی کہ سر زمین نجران (یمن کا شمالی حصہ) میں ابھی تک ایک گروہ نصرانی مذھب کاپر قائم ھے ذونواس کے ھم مسلک لوگوں نے اسے اس بات پر ابھارا کہ اھل نجران کو دین یهود کے قبول کرنے پر مجبور کرے ۔

وہ نجران کی طرف روانہ هو گیا،وھاں پہنچ کر اس نے وھاں کے رہنے والوں کو اکٹھا کیا اور دین یهود ان کے سامنے پیش کیا اور ان سے اصرار کیا کہ وہ اس دین کو قبول کریں، لیکن انھوں نے انکار کیا اور شھادت قبول کرنے پر تیار هو گئے، انھوںنے اپنے دین کو خیر باد نہ کھا، ذونواس اورا سکے ساتھیوں نے ایک گروہ کر پکڑ کر اسے آگ میں زندہ جلا یا اور ایک گروہ کو تلوار کے گھاٹ اتارا ،اس طرح آگ میں جلنے والوں اور مقتولین کی تعداد بیس ہزار تک پہنچ گئی ۔

بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ھے کہ اس سلسلہ دار و گیر سے بچ کر نصاریٰ بنی نجران کا ایک آدمی قیصر روم کے دربار میں جاپہنچا ،اس نے وھاں ذوانواس کی شکایت کی اور اس سے مدد طلب کی ،قیصر روم نے کھا تمھاری سر زمین مجھ سے دور ھے ،میںبادشاہ حبشہ کو خط لکھتا هوں جو عیسائی ھے اور تمھارا ھمسایہ ھے میں اس سے کہتا هوں کہ وہ تمھاری مدد کرے ۔

پھر اس نے خط لکھا اور حبشہ کے بادشاہ سے نصاریٰ نجران کے عیسائیوں کے خون کا انتقام لینے کی خواہش کی ،وہ نجرانی شخص بادشاہ حبشہ نجاشی کے پاس گیا، نجاشی اس سے یہ تمام ماجرا سن کر بہت متاثر هو ا اور سر زمین نجران میں شعلہٴ دین مسیح کے خاموش هوجانے کا اسے بہت افسوس هوا ،اس نے ذونواس سے شھیدوں کے خون کا بدلہ لینے کا مصمم ارادہ کر لیا ۔

اس مقصد کے پیش نظر حبشہ کی فوج یمن کی طرف روانہ هوئی اور ایک گھمسان جنگ کے نتیجے میں اس نے ذونواس کو شکست فاش دی اور ان میں سے بہت سے افراد کو قتل کیا ،جلد ھی نجران کی حکومت نجاشی کے قبضہ میں آگئی اور نجران حبشہ کا ایک صوبہ بن گیا ۔

بعض مفسرین نے تحریر کیا ھے کہ اس خندق کاطول چالیس ذراع (ھاتھ) تھا اور اس کا عرض بارہ ذراع تھا ،70

بعض مورخین نے لکھا ھے کہ سات گڑھے تھے جن میں سے ھر ایک کی وسعت اتنی ھی تھی جتنی اوپر بیان هوئی ۔71

جو کچھ ھم نے تحریر کیا اس سے واضح هوتا ھے کہ تشد دکرنے والے بے رحم افراد آخر کار عذاب الٰھی میں گرفتار هوئے اور ان سے اس خون ناحق کا انتقام دنیا ھی میں لیاگیا اور عاقبت کاعذاب جہنم ابھی ان کے انتظار میں ھے ۔

انسانوں کوجلانے والی یہ بھٹیاں جو یهودیوں کے ھاتھ سے معرض وجود میں آئیں، احتمال اس امر کا ھے کہ پوری انسانی تاریخ میں یہ پھلی آدم سوز بھٹیاں تھیں لیکن تعجب کی بات یہ ھے کہ اسی قسم کی قساوت اور بے رحمی کاخود یهودی بھی شکار هوئے جیسا کہ ھم جانتے ھیںکہ ان میں سے بہت زیادہ لوگ ”ہٹلر“ کے حکم سے آدم سوز بھٹیوں میں جلائے گئے اور اس جھان میں بھی عذاب حریق کا شکار هو ئے ۔

علاوہ ازیں ”ذونواس یهودی“ جو اس منحوس اقدام کا بانی تھا، وہ بھی بد اعمالی کے انجام سے نہ بچ سکا، جو کچھ اصحاب اخدود کے بارے میں درج کیا گیا ھے یہ مشهور و معروف نظریات کے مطابق ھے ۔72

بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینا

بیٹیوں کا زندہ در گور کرنے کی داستان بڑی ھی دردناک ھے 73 ان واقعات پر نظر پڑے تو حالت غیر هوجاتی ھے ۔

ایک شخص پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر هوا اس نے اسلام قبول کر لیا، سچااسلام ۔

ایک روز وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آیا اور سوال کیا: اگر میں نے کوئی بہت بڑا گناہ کیا هو تو کیا میری توبہ قبول هو سکتی ھے؟

آپ نے فرمایا: خدا تو اب و رحیم ھے ۔

اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ !میرا گناہ بہت ھی بڑا ھے ۔

آپ نے فرمایا: وائے هو تجھ پر ،تیرا گناہ کتنا ھی بڑا کیوں نہ هو خدا کی بخشش سے بڑا تو نھیں؟ وہ کہنے لگا: اب جب کہ آپ یہ کہتے ھیں تو میں عرض کروں: زمانہ جاھلیت میں میں ایک دور دراز کے سفر پر گیا هواتھا ان دنو ں میری بیوی حاملہ تھی میں چار سال بعد گھر واپس لوٹا، میری بیوی نے میرا استقبال کیا میں گھر آیا تو مجھے ایک بچی نظر آئی میں نے پوچھا یہ کس کی لڑکی ھے؟ اس نے کھا: ایک ھمسایے کی لڑکی ھے، میں نے سوچا گھنٹے بھر تک اپنے گھر چلی جائے گی لیکن مجھے بڑا تعجب هوا کہ وہ نہ گئی، مجھے علم نہ تھا کہ یہ میری لڑکی ھے اور اس کی ماں حقیقت کو چھپا رھی ھے کہ کھیں یہ میرے ھاتھوں قتل نہ هوجائے ۔

اس نے بات جاری رکھتے هوئے کھا:آخر کار میں نے بیوی سے کھا: سچ بتاوٴ یہ کس کی لڑکی ھے؟

بیوی نے جواب دیا: جب تم سفر پر گئے تھے تو میں امید سے تھی بعد میں یہ بیٹی پیدا هوئی، یہ تمھاری ھی بیٹی ھے ۔

اس شخص نے مزید کھا: میں نے وہ رات بڑی پریشانی کے عالم میں گزاری کبھی آنکھ لگ جاتی اور کبھی میں بیدار هو جاتا، صبح قریب تھی، میں بستر سے نکلا، لڑکی کے بستر کے پاس گیا وہ اپنی ماں کے پا س سو رھی تھی، میں نے اسے بستر سے نکالا، اسے جگایا، اس سے کھا: میرے ساتھ نخلستان کی طرف چلو۔

اس نے بات جاری رکھی: وہ میرے پیچھے پیچھے چل رھی تھی یھاں تک کہ ھم نخلستان میں پہنچ گئے میں نے گڑھا کھودنا شروع کیا وہ میر ی مدد کررھی تھی میرے ساتھ مل کر مٹی باھر پھینکتی تھی گڑھا مکمل هو گیا میں نے اسے بغل کے نیچے سے پکڑ کر اس گڑھے کے درمیان دے مارا ۔

اتنا سننا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آنکھیں بھرآئیں ۔

اس نے مزید بتایا: میں نے اپنا بایاں ھاتھ اس کے کندھے پر رکھا تاکہ وہ باھر نہ نکل سکے دائیں ھاتھ سے میں اس پر مٹی ڈالنے لگا اس نے بہت ھاتھ پاوٴں مارے، بڑی مظلومانہ فریاد کی؛ وہ کہتی تھی ابو جان! آپ مجھ سے یہ سلوک کر رھے ھیں؟

اس نے بتایا: میں اس پر مٹی ڈال رھا تھا کہ کچھ مٹی میری داڑھی پر آپڑی بیٹی نے ھاتھ بڑھا یا اور میرے چھرے سے مٹی صاف کی لیکن میں اسی قساوت اور سنگدلی سے اس کے منہ پر مٹی ڈالتا رھا یھاں تک کہ اس کے نالہ و فریا کی اخری آواز بہ خاک دم توڑ گئی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے داستان بڑے غم کے عالم میں سنی، وہ بہت دکھی اور پریشان تھے اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے جارھے تھے۔ آپنے فرمایا: اگر رحمت خدا کو اس کے غضب پر سبقت نہ هوتی تو ضروری تھا کہ جتنا جلدی هوتا وہ تجھ سے انتقام لیتا ۔

 

میںنے اپنی بارہ بیٹیوں کو زندہ در گور کیا ھے

”قیس بن عاصم“ ابن تمیم کے سرداروں میں سے تھا، ظهور رسالت مآب کے بعد وہ اسلام لے آیا تھا اس کے حالات میں لکھا ھے کہ ایک روزوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر هوا وہ چاہتا تھا کہ جو سنگین بوجھ وہ اپنے کندھوں پر اٹھا ئے پھرتا ھے اسے کچھ ھلکا کرے، اس نے رسول اکرم کی خدمت میں عرض کیا:

گزشتہ زمانے میں بعض باپ ایسے بھی تھے جنھوں نے جھالت کے باعث اپنی بے گناہ بیٹیوں کو زندہ در گور کر دیا تھا میری بھی باری بیٹیاں هوئیں میں نے سب کے ساتھ یہ گھناوٴنا سلوک کیا لیکن جب میرے یھاں تیرهویں بیٹی هوئی بیوی نے اسے مخفی طورپر جنم دیا اس نے یہ ظاھر کیا کہ نومولود مردہ پیدا هوئی ھے ،لیکن اسے چھپ چھپا کر اپنے قبیلے والوں کے یھاں بھیج دیا اس وقت تو میں مطئمن هو گیا لیکن بعد میں مجھے اس ماجراے کا علم هوگیا میں نے اسے حاصل کیا اور اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا ۔

اس نے بہت آہ وزاری کی، میری منتیں کیں، گریہ و بکا کی مگر میں نے پرواہ نہ کی اور اسے زندہ در گور کردیا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ واقعہ سنا تو بہت ناراحت هوئے، آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ آپ نے فرمایا:

جو کسی پر رحم نھیں کھاتا اس پر رحم نھیں کھایا جائے گا۔

اس کے بعد آپ نے قیس کی طرف رخ کیا اور یوں گویا هوئے:

تمھیں سخت ترین دن درپیش ھے ۔

قیس نے عرض کیا:

میں کیاکروں کہ اس گناہ کا بوجھ میرے کندھے سے ھلکا هو جائے؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا:

تو نے جتنی بیٹیوں کو قتل کیا ھے اتنے غلام آزاد کر (کہ شاید تیرے گناہ کا بوجھ ھلکا هو جائے۔)

نیز مشهور شاعر فرزدق کے داد ا ”صعصعہ بن ناجیة“ کے حالات میں لکھا ھے کہ وہ حریت فکر رکھنے والا ایک شریف انسان تھا زمانہ جاھلیت میں وہ لوگوں کی بہت سے بری عادات کے خلاف جد وجہد کرتا تھا یھاں تک کہ اس نے ۳۶۰ لڑکیاں ان کے والدوں سے خرید کر انھیں موت سے نجات بخشی، ایک مرتبہ اس نے دیکھا کہ ایک باپ اپنے نومولود بیٹی کو قتل کر نے کا مصمم ارادہ کر چکا ھے ،اس بچی کی نجات کے لئے اس نے اپنی سواری کا گھوڑا تک اور دو اونٹ اس کے باپ کو دے دیئے اور اس بچی کو نجات دلائی ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمنے فرمایا: تونے بہت ھی بڑ اکام انجام دیا ھے اور تیری جزا اللہ کے یھاں محفوظ ھے ۔74

منبع: قصص قرآن (منتخب از تفسیر نمونه)؛ آیت الله العظمی ناصر مکارم شیرازی – مترجم: سید صفدر حسین نجفی، ترتیب و تنظیم: اقبال حیدر حیدری.

1. سوره صافات آیت۱۲۳۔

2. سوره صافات آیت۱۲۴۔

3. صافات آیت ۱۲۵۔

4. سوره صافات ۱۲۶۔

5. سوره صافات۱۲۷۔

6. سوره صافات۱۲۷۔

7. سوره صافات۱۲۸۔

8. سوره صافات۱۲۹۔

9. سوره صافات۱۳۰۔

10. ”الیاس “کی جگہ ”الیاسین “آنا اس وجہ سے ھے کہ الیاسین بھی الیاس کے ھم معنی ھیں یا الیا س اوران کے پیرو کاروں کے لئے آیا ھے ۔

11. سوره صافات۱۳۱

12. سوره صافات۱۳۲۔ 

13. سوره ص آیت ۴۸۔

14. سوره انعام آیت ۸۶۔

15. یہ واقعہ سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۹ کی ذیل میں بیان هو اھے۔ 

16. سورہ ٴ آل عمران آیت ۳۸۔

17. سوره فرقان آیت ۳۸ میں اس ظالم وستمگر قوم کا ذکر موجود ھے ۔

18. ”رس“ کا لفظ در اصل مختصر اور تھوڑے سے اثر کے معنیٰ میں ھے جیسے کہتے ھیں: ”رس الحدیث فی نفسی“ (مجھے اس کی تھوڑی سی بات یاد ھے) یا کھا جاتا ھے ”وجد رسا من حمی“(اس نے اپنے اندر بخار کا تھوڑا سا اثر پایا)۔ کچھ مفسرین کا نظریہ یہ ھے کہ ”رس“ کا معنیٰ ”کنواں“ ھے۔ معنی خواہ کچھ بھی هو اس قوم کو اس نام سے موسوم کرنے کی وجہ یہ ھے کہ اس کا اب تھوڑا سا اثر یا بہت ھی کم نام اور نشان باقی رہ گیا ھے یا اس وجہ سے انھیں ”اصحاب الرس“ کہتے ھیں کہ وہ بہت سے کنووٴں کے مالک تھے یا کنووٴں کا پانی خشک هو جانے کی وجہ سے ھلاک و برباد هو گئے ۔

19. رجوع کریں تفسیر نمونہ ج۸ص۳۸۶ ۔

20. سوره قلم آیت ۱۷۔۱۸۔

21. سوره قلم آیت ۱۹۔

22. سورہ ٴ قلم آیت ۲۰۔

23. سوره قلم آیت ۲۱۔

24. سوره قلم آیت ۲۱و۲۲۔

25. سوره قلم آیت ۲۳و۲۴۔

26. سوره قلم آیت ۲۶۔

27. سوره قلم آیت ۲۷۔

28. سوره قلم آیت ۲۸۔

29. سوره قلم آیت ۲۹۔

30. سوره قلم آیت ۳۰۔

31. سوره قلم آیت ۳۱۔

32. سوره قلم آیت ۳۲۔

33. سوره قلم آیت ۳۳۔

34. مغرب کے وزن پر۔

35. بعض”سباء“ کو سر زمین یمن کا اس کے کسی علاقے کا نام سمجھتے ھیں، سوره نمل میں سلیمان و ہد ہد کے قصہ میں قرآن مجید کا ظا ھر بھی یھی نشاندھی کرتا ھے ”سباٴ“ کسی جگہ، علاقے یامقام کا نام ھے، جھاں پر وہ کہتا ھے کہ ”میں سر زمین سبا سے تیرے پاس ایک یقینی خبر لے کر آیا هوں۔“

جب کہ زیر بحث آیت کا ظاھر یہ ھے کہ سبا ایک قوم تھی کہ جو اس علاقے میں رہتی تھی، کیونکہ ضمیر جمع مذکر (ھم) ان کی طرف لوٹ رھی ھے ۔ لیکن ان دونوں تفسیروں میں کوئی منافات نھیں ھے، کیونکہ ممکن ھے کہ ابتداء میں سبا کسی شخص کا نام هو، پھر اس کے تما م بیٹے اور قوم اس نام سے موسوم هوں اور اس کے بعد یہ نام اس سرزمین کی طرف بھی منتقل هو گیا هو۔

36. سوره سباء آیت ۱۵۔

37. سوره سباء آیت ۱۵۔

38. سوره سباء آیت ۱۸۔

39. سورہ ٴسباء آیت ۱۵۔

40. سوره سباء آیت ۱۶۔

41. سوره سباء آیت ۱۶۔

42. سوره سباء آیت ۱۶۔

43. سوره سباء آیت ۹۔

44. سوره سباء آیت ۹۔

45. سوره سباء آیت ۱۹۔

46. سوره کہف آیت ۳۲۔

47. سوره کہف آیت ۳۳۔

48. سوره کہف آیت۳۳۔

49. سوره کہف آیت۳۴۔

50. سوره کہف آیت۳۴۔

51. سوره کہف آیت۳۵۔

52. سوره کہف آیت۳۶۔

53. سوره کہف آیت۳۶۔

54. سوره کہف آیت۳۷۔

55. یھاں ایک سوال سامنے آتا ھے کہ گزشتہ میں مغرور شخص کی جو باتیں ھم نے پڑھی ھیں ان میں وجود خدا کا صریح انکا رتو موجود نھیں ھے جبکہ ایک توحید پرست شخص اسے جو جواب دے رھا ھے ظاھراً سب سے پھلے اسے انکار خدا پر سرزنش کررھا ھے اور اسے تخلیق انسان کے حوالے سے خدائے عالم و قادر کی طرف متوجہ کررھا ھے کیونکہ تخلیق انسان دلائل توحید میں سے بہت واضح دلیل ھے۔

مفسرین نے مذکورہ سوال کے جواب میں مختلف تفسیریں پیش کی ھیں، مثلاً:

۱۔ بعض کا کہنا ھے کہ اس مغرور شخص نے صراحت کے ساتھ معاد اور قیامت کا انکا رکیا ھے یا پھر اسے شک کی نظر سے دیکھا ھے جس کا لازمی نتیجہ انکار خدا ھے کیونکہ معاد جسمانی کے منکر در حقیقت قدرت خدا کے منکر ھیں۔انھیں اس بات پر یقین نھیں کہ منتشر هوجانے کے بعد مٹی پھر سے لباس حیات پہن سکے گی۔

۲۔ بعض نے کھا ھے کہ اس کے شرک اور کفر کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتا تھا کہ یہ مالکیت خود اس کی اپنی طرف سے ھے۔ یعنی وہ اپنے لئے مالکیت کا قائل تھا اور اپنی مالکیت کو جاودانی خیال کرتا تھا۔

56. سوره کہف آیت۳۸۔

57. سوره کہف آیت۳۸۔

58. سوره کہف ۳۹۔

59. سوره کہف آیت ۳۹۔

60. سوره کہف آیت ۳۹تا۴۰۔

61. سوره کہف آیت۴۰۔ 

62. سوره کہف آیت۴۱۔

63. سوره کہف آیت ۴۲۔

64. سوره کہف آیت ۴۲۔

65. سوره کہف آیت ۴۲۔

66. سوره کہف آیت ۴۳۔

67. سوره کہف آیت ۴۳۔ 

68. اس واقعہ کو بعض مفسرین نے سوره حشر ۱۶ ،۱۷ کے ذیل میں بیان کیا ھے ۔

69. سوره بروج آیت ۴تا ۷۔

70. ایک ذراع تقریبا آدھا میٹر ھے اور بعض اوقات گز کے معنی میں استعمال هو تا ھے جو تقریبا ایک میٹر ھے )۔

71. مندرجہ بالا واقعہ تاریخ و تفسیر کی بہت سی کتابوں میں درج ھے ،منجملہ دیگر کتب کے عظیم مفسر طبرسی نے مجمع البیان میں ،ابو الفتاح رازی نے اپنی تفسیر میں ،فخر رازی نے اپنے تفسیر کبیر میں ،آلوسی نے روح المعانی میں اور قرطبی نے اپنی تفسیر میں اسی طرح ہشام نے اپنی سیرت (جلد اول ص۳۵) میں اور ایک دوسری جماعت نے اپنی کتب میں اس واقعہ کو تحریر کیا ھے ۔

72. لیکن اس ضمن میں کچھ اور روایات بھی موجود ھیں جو یہ بتاتی ھیں کہ اصحاب اخدود صرف یمن میں ذونواس ھی کے زمانے میں نھیں تھے ۔

بعض مفسرین نے تو ان کے بارے میں دس قول نقل کئے ھیں ۔

ایک روایت حضرت امیر الموٴمنین علی علیہ السلام سے منقول ھے ،آپ نے فرمایا ھے وہ ا ھل کتاب مجوسی تھے جو اپنی کتاب پر عمل کرتے تھے ،ان کے بادشاهوں میں سے ایک نے اپنی بہن سے مباشرت کی اورخو اہش ظاھر کی کہ بہن سے شادی کو جائز قرار دے ،لیکن لوگوں نے قبول نھیں کیا، بادشاہ نے ایسے بہت سے مومنین کو جنھوں نے یہ بات قبول نھیں کی تھی، جلتی هوئی آگ کی خندق میں ڈلوا دیا۔“

یہ فارس کے اصحاب الاخدود کے بارے میں ھے، شام کے اصحاب الاخدود کے بارے میں بھی علماء نے لکھا ھے کہ وھاں مومنین رہتے تھے اور ”آنتیا خوس“ نے انھیں خندق میں جلوایا تھا۔

بعض مفسرین نے اس وقعہ کو بنی اسرائیل کے مشهور پیغمبر حضرت دانیال علیہ السلام کے اصحاب و انصار کے ساتھ مربوط سمجھا ھے جس کی طرف توریت کی کتاب دانیال میں اشارہ هوا ھے اور ثعلبی نے بھی اخدود فارسی کو انھی پر منطبق کیا ھے ۔

کچھ بعید نھیں کہ اصحاب اخدود میں یہ سب کچھ اور ان جیسے دوسرے لوگ شامل هوں اگر چہ اس کا مشهور معروف، مصداق سر زمین یمن کا ذونواس ھی ھے۔

73. سوره نمل آیت ۵۸ و ۵۹۔

74. فرزدق نے اپنے دادا کے اس کام پر فخر کرتے هوئے کھا؛

”اور وہ شخص ھمارے خاندان سے تھا جس نے بیٹیوں کی زندہ دفن کرنے کے خلاف قیام کیا، اس نے لڑکیوں کو لے لیا اور انھیں زندگی عطا کی اور انھیں تہہ خاک دفن نہ هو نے دیا۔“

Copyright 201 All rights are reserved to sadeqin website

 


source : http://www.sadeqin.com
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

بعثت ۔ ایک نئے انسان کی تعمیر کا پیغام ہے
آخرت میں ثواب اور عذاب
فضائلِ علی علیہ السلام غیر مسلم مفکرین کی نظر میں
فرامین مولا علی۳۷۶ تا ۴۸۰(نھج البلاغہ میں)
شب قدر کے حقیقی معنی
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حیات طیبہ
مکتب اہل بیت میں بچوں کی تربیت
پردے کی مخالفت میں ایک منطقی نتیجہ
عقل خدا کي لازوال نعمت
علم آیات و احادیث کی روشنی میں

 
user comment