اردو
Wednesday 22nd of November 2017
code: 83876
گریہ اور میڈیکل سائنس

عقل و جذبات
اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا۔ کچھ تو ہوگا ایسا جس کی وجہ سے انسان تمام مخلوقات پر بازی لے گیا۔ جب پوچھا جائے کہ انسان حیوانات سے افضل کیوں ہے؟ جواب آتا ہے کہ ’’عقل‘‘ کی بنیاد پر اور جب پوچھا جائے کہ جمادات سے کیونکر افضل ہوا ۔۔ تو اس کا جواب ہے ’’جذبات‘‘ کی بنیاد پر۔
یعنی عقل اور جذبات دو ایسے فضائل ہیں کہ جو انسان کو تمام مخلوقات سے افضل بنا دیتے ہیں۔ حالانکہ دیکھا جائے تو دونوں صفات ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ایک کا تعلق ذہن سے ہے تو دوسرے کا تعلق دل سے ہے۔ اکثر آپ نے کہتے سنا ہوگا ’’عقل سے کام لو، جذباتی نہ بنو‘‘ یا ’’ہوش کے ناخن لو، حساس نہ بنو‘‘۔ لیکن مومن تو ہے ہی وہی جو ’’اضداد کا مجموعہ‘‘ ہو۔

یہاں ایک گراف بنانا ہے
کہتے ہیں کہ صرف عقل ہی خدا سے قریب نہیں کرتی بلکہ کبھی کبھی عقل کا دامن چھوڑ کر جذبات کو اپنانا ضروری ہوجاتا ہے۔ یعنی خدا اس کے پاس ہے جو عقل اور جذبات کا مرکب ہے۔
لازم ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے۔۔۔!
صرف عقل انسان کو خود غرض بنا سکتی ہے جبکہ جذبات سے انسان لوگوں کے قریب ہو جاتا ہے۔ عقل صرف فائدہ دیکھتی ہے جبکہ جذبات نقصان کا سودا بھی کر گذرتے ہیں۔

بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی

جذبات

جذبات کی تعریف:
’’انسان کی اس ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان ایک مخصوص احساس، سوچ اور رویہ رکھتا ہو۔‘‘

جذبات کی اہمیت:
امریکن بایولوجسٹ Robert Triver کے مطابق ’’جذبات کا تعلق کسی نہ کسی خواہش کی تکمیل سے مربوط ہے۔‘‘

مثالیں:
ہمدردی ایک ایسا جذبہ ہے جو آپ کو مجبور کرتا ہے کہ سڑک پر پڑے ہوئے شخص کو اٹھا کر ہسپتال لے جائیں۔ یہ ہمدردی ہی ہے جو حادثے کی تلافی کا سبب بنتی ہے ورنہ نقصان تخمینے سے کئی گنا زیادہ ہو سکتا ہے۔

حادثے سے بڑا حادثہ یہ ہوالوگ رُکے نہیں حادثہ دیکھ کر
یہ ہمدردی کا جذبہ ڈاکٹر کو مجبور کرتا ہے کہ مریض کی نبض پر ہاتھ رکھے نہ کہ جیب پر۔ ورنہ ڈاکٹر حضرات بیماری کی علامات سے پہلے بینک اکاونٹ کی تفصیل پوچھ رہے ہوتے۔

٢۔ احسان مندی:
یہ جذبہ مجبور کرتا ہے اس شخص کو جس پر احسان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے محسن کو پہچانے اور اس کا شکریہ ادا کرے، اس کو اچھے الفاظ سے یاد رکھے اور وقت پڑنے پر اس کا احسان اتارنے کی کوشش کرے۔ یہ احسان مندی کا جذبہ ہی تو ہے جو ایک انسان کو اپنے رب کی نعمتوں کے اعتراف پر مجبور کرتا ہے اور وہ سجدے میں جاکر اپنے رب کا شکریہ ادا کرتا ہے۔

٣۔ غصہ:
یہ ایک بڑا مفید جذبہ ہے۔ رات کو تین بجے کوئی شخص آپ کے گھر میں کود پڑے، آپ اس سے مزاج پرسی تو کرنے سے رہے۔ غصہ کا جذبہ آپ کو مجبور کرے گا کہ آپ اپنے دفاع کے لئے کچھ کریں اور اس کو مار بھگائیں ۔ یہ غصہ کا جذبہ ہی تو ہے جسکے سبب آپ دشمنِ اسلام پر تلوار ہاتھ میں لے کر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ غصہ نہ ہو تو جہاد بھی ناممکن ہوجائے ۔

٤۔ ندامت:
یہ جذبہ مجبور کرتا ہے ایک مجرم کو اپنے کئے پر پچھتانے کے لئے کہ جس طرح میری عزت و ناموس ، دولت محترم ہے اسی طرح دوسروں کی بھی ہے، تو کیونکر میں کسی دوسرے کے گھر میں نقب لگاوں۔ یہ ندامت کا جذبہ ہی تو ہے جو انسان کو اپنے گناہوں کے اعتراف پر مجبور کرتا ہے اور اللہ کے حضور گڑ گڑانے اور استغفار کے لئے دعا کی طرف لے چلتا ہے۔

گریہ و زاری
اب آئیے اس طرف کہ جذبات اور گریہ و زاری یعنی رونے کا آپس میں کیا تعلق ہے۔ ہمارے خیال میں یہ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ کیا کسی شخص کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ نہایت جذباتی ہے
بالکل نہیں روتا ہے یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ شخص چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو پڑتا ہے نہایت غیر جذباتی اور بے حس ہے ؟ بالکل نہیں! یعنی گریہ کرنا یا رونا جذبات کی معراج ہے۔ جذبات جب عروج پر پہنچ جائیں تو گریہ کا روپ دھار لیتے ہیں۔ گریہ، جذبات کے لئے بالکل ایسا ہی ہے جیسے انگوٹھی کے لئے نگینہ، آسمان کے لئے چاند، سمندر کے لئے موتی، پہاڑ کے لئے چوٹی، انسان کے لئے روٹی، کہ اس کے بغیر گزارا نہیں ۔

٭ گریہ کرنے¬ رونے کی تعریف:
’’انسان کی وہ حالت جب جذبات سے مغلوب ہوکر اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئیں۔‘‘

گریہ اور بن بادل برسات:
کچھ لوگ رونے کو بارش سے تشبیہ دیتے ہیں اور خوب دیتے ہیں کہ اس سے دلچسپ نتائج اخذ کئے جاسکتے ہیں۔!
١۔ بادل کی برسات موسم کی محتاج ہے جب کہ دل کی برسات کا کوئی موسم نہیں بلکہ یہ تو اندر کے موسم پر منحصر ہے۔ دل کی اداسی اور نرمی پر دلالت کرتی ہے۔

دل تو اپنا اداس ہے ناصرشہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
٢۔ بادل کی برسات گرمی ماحول کی وجہ سے ہوتی ہے کہ ضروری ہے بخارات بنیں اور بادل ہوں اور پھر برسیں۔ جبکہ من کی برسات گرمی جذبات و ایمان پر منحصر ہے۔
٣۔ بادل کی برسات سے پہلے طوفانی ہوائیں چلتی ہیں کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا، من کی برسات سے پہلے ذہن میں آندھیاں چلتی ہیں کہ کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔
٤۔ بادل کی برسات سے پہلے کالی گھٹائیں آتی ہیں، من کی برسات سے پہلے دل میں صدائیں بلند ہوتی ہیں ۔
٥۔ بادل کی برسات کی آلودگی، فضاکی کثافت اور دیواروں پر لکھے نعروں کو دھو ڈالتی ہے جبکہ من کی برسات دل کے غبار، گناہوں کی غلاظت اور نوشتہ دیوار کو صاف اور واضح کر دیتی ہے اور انسان پھر سے ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔
٦۔ بادل کی برسات ہر جگہ ہریالی اور سبزہ اُگا دیتی ہے، زمین یکسر تبدیل ہوجاتی ہے، فصل لہلہانے لگتی ہے، جبکہ من کی برسات عزم و استقلال، تجدیدِ عہد، تجدیدِ ایمان کا سبب بنتی ہے اور انسان کی شخصیت کو یکسر تبدیل کر دیتی ہے۔ مردہ دل میں بہار آجاتی ہے اور نئی امنگیں انگڑائیاں لینے لگتی ہیں۔
٧۔ اگر کوئی زمین بادل کی برسات سے نہ بدل سکے تو اس کو ’’بنجر‘‘ زمین کہتے ہیں۔ اس طرح گریہ و زاری کسی انسان کو نہ بدل سکے تو ایسے انسان کو ’’شقی‘‘ کہتے ہیں۔
تو جناب رونے کی اتنی افادیت ہے کہ کچھ لوگ تو خوشی کے موقعوں پر بھی رونے کو ترجیح دیتے ہیں کہ حیات اتنی گنجلک ہوچکی ہے کہ شاید ہنسنے کے مواقع مفقود ہوچکے ہیں ۔

پیشانيِ حیات پہ کچھ ایسے بل پڑےہنسنے کا دل جو چاہا تو آنسو نکل پڑے

آنسووں کی اقسام
میڈیکل سائنس کے مطابق آنسووں کی تین اقسام ہیں:

بنیادی آنسو Basal Tears:
یہ وہ آنسو ہیں جو ہر وقت آنکھ کی اگلی پرت پر ایک تہہ کی صورت میں موجود رہتے ہیں۔ سالانہ ان کی مقدار آدھا لیٹر ہے۔ اس کی ترکیب میں مندرجہ ذیل اجزائ شامل ہیں۔ پانی، نمک، Lysozyme، Anbtibodies، Urea۔
اس کا فائدہ یہ ہے کہ ایک تو یہ گرد و غبار سے بچاتے ہیں دوسرا یہ کہ آنکھ کی اگلی پرت کو سوکھنے نہیں دیتے جس سے زخم ہونے کا خدشہ نہیں ہوتا۔ ان آنسووں میں موجود Antibodies آنکھ کو انفیکشن سے بچاتے ہیں۔
انسان کے جسم میں آنکھ غالباً واحد عنصر ہے جہاں Antibodies ہمہ وقت موجود رہتی ہیں ورنہ Antibodies عموماً خون میں ہوتی ہیں۔ آنکھ کی حفاظت واقعی ضروری ہے اور کیونکر نہ ہو کہ مولا علی کے مطابق ’’تمہارے حواس میں سب سے اہم آنکھ ہے‘‘۔

دفاعی آنسو Reflex Tears:
یہ آنسو اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب کوئی ضرر رساں چیز آنکھ میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہے۔ مثلاً آنسو گیس، زیادہ روشنی، پیاز کے کیمیکلز وغیرہ ۔

جذباتی آنسووں Emotional Tears:
یہ آنسو انسان کی نفسیاتی یا جسمانی تکلیف کے وقت نکلتے ہیں۔ بلکہ جدید تحقیق کے مطابق آنسو غم اور خوشی دونوں حالات میں نکل سکتے ہیں۔ ہاں قدرِ مشترک یہ ہے کہ جب آدمی جذبات (خوشی یا غم) کے ہاتھوں بے اختیار و بے یارو مددگار ہوجائے۔
کہتے ہیں کہ اگر آپ کوقم جانا ہو تو معصومہ قم کی اجازت لینی چاہیے اس طرح مشہد جانے کے لئے امام علی رضا سے اجازت لینا ضروری ہے۔ اگر اجازت لیتے وقت دعا کے دوران آنکھوں میں بے اختیار آنسو آجائیں تو سمجھ لیں کہ اجازت ملی گئی!
جذباتی آنسووں کی ترکیب وہی ہے جو بنیادی آنسووں کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کچھ اضافی مادے اس میں پائے جاتے ہیں جو درد اور دباو (Stress) کی صورت میں خون میں زیادہ ہوجاتے ہیں مثلاً ACTH، Prolaction، Enkephalin وغیرہ۔

گریہ کے طبی فوائد

عمومی فوائد:
یاد رہے یہ فوائد جذباتی آنسووں سے مشروط ہیں!

١۔ Stress میں کمی:
جذباتی آنسووں میں کچھ مادے پائے جاتے ہیں کہ جس سے انسان میں ذہنی دباو میں کمی آتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام بیماریاں جو دباو کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، ان میں بھی نمایاں کمی دیکھی جاتی ہے چنانچہ گریہ مندرجہ ذیل بیماریوں سے بچاتا ہے: ہائی بلڈ پریشر، ہارٹ اٹیک (انجائنا)، پیپٹک السر، نروس بریک ڈاون، میگرین، شوگر، ڈپریشن وغیرہ۔

٢۔ درد کے احساس میں کمی:
Enkephalin نامی مادہ گریہ کے دوران جسم میں بڑھ جاتا ہے۔ اس کو جسم کی پیراسیٹامول کہہ سکتے ہیں۔ یہ انسان میں درد کی کمی کا سبب بنتا ہے۔ چنانچہ چوٹ یا بیماری کی تکلیف کے دوران رونا گویا خو دایک طرح کا قدرتی علاج ہے۔

٣۔ انفیکشن میں کمی :
آنسووں میں موجود Antibodies اور Lysozyme انسان کی آنکھ کو انفیکشن اور دیگر متعدد بیماریوں سے بچاتے ہیں۔

خصوصی فوائد

١۔ بچوں کے لئے:
بچوں میں Stress برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے، اس لئے وہ فوراً رو پڑتے ہیں۔ ہم بچوں کو فوراً یا زبردستی چپ کرانے کی کوشش میں ان کی رونے کی صلاحیت ہی کو ختم نہیں کرتے بلکہ رونے کی صورت میں پیدا ہونے والے مفید مادوں کی پیداوار بھی روک دیتے ہیں۔ (اس کا مطلب یہ نہیں کہ رونے کے سبب کو دور نہ کیا جائے )۔
بالکل رونے نہ دینا دباو کو باہر نکلنے نہ دینے کے مترادف ہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ بچہ آتا ہی اس دنیا میں روتے ہوئے ہے۔ اگر نہ روئے تو تھپکی مار کر رلایا جاتا ہے۔ اگر بچہ پیدائش کے فوراً بعد ایک منٹ تک نہ روئے تو اس کو BIRTH ASPHYXIA کی بیماری ہوجاتی ہے جس سے بچہ آگے چل کر Mentaly Retarted ہوسکتا ہے۔
مختصراً یہ کہ بچہ رونا سیکھ کر آتا ہے اور ہنسنا اور مسکرانا دنیا میں آکر سیکھتا ہے۔ بچہ چھ ہفتے میں Smile کرنا شروع کرتا ہے۔ چنانچہ رونا جبلی صلاحیت ہے جبکہ مسکرانا کسبی صلاحیت ہے۔ لہذا رونے والوں سے نہیں پوچھنا چاہئے کہ ’’روتے کیوں ؟‘‘ بلکہ نہ رونے والوں سے دریافت کرنا چاہیے کہ ’’تم روتے کیوں نہیں‘‘؟

٢۔ نوجوانوں کے لئے:
چہرے کے وہ مقامات جہاں آنسو پہنچتے ہیں، وہ جگہ تر و تازہ رہتی ہے اسی لئے ڈاکٹر حضرات مشورہ دیتے ہیں کہ رونے کی صورت میں آنسووں کو پورے چہرے پر مل لینا چاہیے تاکہ پورے چہرے کی جلد تر و تازہ رہے (یہ ہے قدرتی فیشل)۔ ویسے بھی روایتوں میں آیا ہے کہ چہرے پر آنسووں کے گرنے کی صورت میں چہرہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہے گا اور جب چہرہ محفوظ رہے گا تو یقینا باقی بدن بھی محفوظ رہے گا ۔

٣۔ عورتوں کے لئے :
اعداد و شمار کے مطابق عورتیں مہینے میں چار سے پانچ مرتبہ اور مرد ایک مرتبہ روتے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق زیادہ رونے سے Stress میں کمی اور عمر میں اضافہ ہوتاہے۔

٤۔ بوڑھوں کے لئے:
عمر کے ساتھ ساتھ انسان کے بنیادی آنسووں میں، جو کہ سالانہ آدھا لیٹر کے حساب سے نکلتے ہیں، نمایاں کمی ہوجاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ بوڑھے زیادہ روئیں تاکہ اس کمی کو دور کیا جاسکے۔ جس سے آنکھوں کی وہ بیماریاں دور ہوسکتی ہیں جو بڑھاپے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
المختصر یہ کہ گریہ کرنا یا رونا نہ صرف جسمانی صحت کے لئے ضروری ہے بلکہ ذہنی و نفسیاتی حوالے سے انسان کی زندگی کا ایک جز ہے۔ رونا نہ صرف جسمانی بیماریوں کو دور کرتا ہے بلکہ روحانی، نجاستوں کو بھی دھو ڈالتا ہے۔

رونے سے اور عشق میںبے باک ہوگئے
دھوئے گئے ہم اتنے کہ بس پاک ہوگئے

شرعی پہلو
١۔ حضرت آدمٴ ہابیل کے قتل پر روئے۔ (طبری)
٢۔ حضرت یعقوبٴ جناب یوسفٴ کی جدائی پر روئے۔
’’اورکہنے لگے ہائے افسوس یوسف پر! اور اس قدر روئے کہ آنکھیں ان کی صدمے سے سفید ہوگئیں۔ وہ تو بڑے رنج کے ضابط تھے۔‘‘ (سورہ یوسف ٨٤)
قرآن کی یہ آیت بتا رہی ہے کہ کس طرح ایک پیغمبر اپنی اولاد کے فراق میں اتنا روئے کہ بینائی جاتی رہی۔
٣۔ رسول اللہ ۰ اپنے فرزند ابراہیم کی وفات پر روئے۔ (بخاری)
٤۔ رسول اللہ ۰ نے جنگ احد میں لوگوں کو اپنے عزیز و اقارب پر روتا ہوا دیکھا تو کہا کہ کیا کوئی حمزہ پہ رونے والا نہیں۔ اس کے بعد لوگوں کے ساتھ خود بھی روئے۔ (سیرت حلبیہ)
٥۔ رسول اللہ ۰ کو جب کربلا کی خون آلود مٹی دکھائی گئی تو آپ کربلا کو یاد کر کے روئے۔
٦۔ امام زین العابدینٴ کربلا کے مصائب پر عمر بھر روئے۔

ایک اشتباہ:
سوال: شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ رہتے ہیں، زندوں پر گریہ کیونکر۔۔۔؟

جواب:
١۔ شہید کی نمازِ جنازہ ہوتی ہے، ان کو دفنایا جاتا ہے او ان کی میراث بھی تقسیم ہوتی ہے۔ کیوں۔۔۔۔؟!
٢۔ شہدائے کربلا پر اس ظلم کی وجہ سے روتے ہیں جو ان کی شہادت سے پہلے ان پر کیا گیا۔
٣۔ افسوس تویہ ہے کہ ظلم و ستم غیروں نے نہیں خود اپنے لوگوں نے کلمہ اورنماز پڑھنے والے مسلمانوں نے کیا۔ جس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔

ایک توجہ:
جس طرح لوگوں نے رسول اللہ ۰ کی وفات کے صرف پچاس سال بعد آپ۰ کے نواسے اور ان کے رشتہ داروں کو بھلا دیا، اب اس کو ہر سال محرم میں زندہ کرنا چاہئے تاکہ لوگوں کو بھولا ہوا سبق یاد آجائے اور آئندہ حق و باطل کی تمیز کرنے میں دھوکہ نہ کھائیں اور اہلبیتِ رسول۰ اور ان کے دشمن میں فرق رکھیں۔ یہ کیا مذاق ہے کہ مقتول کے نام پر بھی رضی اللہ تعالی عنہ اور قاتل کے نام پر بھی !!
٭ رونا اس لئے بھی چاہئے کہ لوگ اتنا بڑا حادثہ سن کر بھی آبدیدہ نہیں ہوتے۔

کربلاسے بڑی کربلا یہ ہوئی
لوگ روئے نہیں کربلا سن کر

ویسے سب کو ایک نہ ایک دن رونا ہے جو دنیا میں رولے وہ قیامت کی گریہ و زاری سے بچ جائے گا۔ جس دن آنسو ختم ہو جائیں گے اور لوگ خون کے آنسو روئیں گے۔
کسی کی موت پر رونا، اس کے ساتھ ہمدردی اور تعلقِ خاطر پر دلالت کرتا ہے۔ اسی لئے مرنے والے کے عزیز و اقارب اور دوست احباب روتے ہیں۔
اگر اب بھی اس بات پر اصرار رہے کہ نہ رونا محبت نہ ہونے کی دلیل نہیں تو ان کے لئے یہی کہا جائے گا کہ جنت میں جانے کا خواہش مند کس طرح جنت کے سردار کے مصائب سے لاتعلق رہ سکتا ہے۔ جنت میں جانے کے لئے تو آنسووں کا دریا بہا دیا جائے اور جنت کے سردار کے لئے ایک قطرہ آنسو بھی نہ نکالا جائے ۔

سیاسی پہلو
سوویت یونین کے عروج کے دور میں کریملن کے شہر میں ایک سالانہ کانفرنس منعقد ہوا کرتی تھی جس میں دنیا بھر کے ملکوں سے مندوبین شرکت کے لئے آتے تھے۔ وہاں اس بات کا جائزہ لیا جاتا تھا کہ اس سال دنیا کے کس ملک میں کمیونزم کتنا پھیلا۔ حیرت انگیز طور پر ایران کی progress ہر سال مایوس کن رہی حالانکہ اپنے ایجنٹوں پر کمیونسٹ حضرات کروڑوں روبل خرچ کرتے تھے۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ ہر سال کمیونزم بہترین طریقے سے پھیل رہا ہوتا ہے مگر عین محرم کے شروع ہوتے ہی ساری محنت پہ پانی پھر جاتا ہے۔ یعنی عزاداری میں اتنا گریہ کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی ایرانیوں کے گناہوں کے ساتھ ساتھ کمیونزم کی غلاظت بھی دھو ڈالتا ہے ۔

ایک نصیحت
رونا انسان کی بے اختیاری پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے غم اور ہنسی دونوں موقعوں پر دیکھا جاتا ہے۔ اور اسی لئے مرد کم روتا ہے، عورت زیادہ اور بچہ سب سے زیادہ۔ یعنی جو جتنا بے اختیار ہے اتنا ہی زیادہ گریہ کرتا ہے۔ مگر انسان چاہے جتنا ہی بااختیا ر کیوں نہ ہو خدا کے آگے تو ’’بے اختیار‘‘ ہی کہلائے گا ۔
جہاں انسان میں سجدے میں جاکر اپنی بے اختیاری کا اظہار کرتا ہے وہیں گریہ کر کے اپنی بے اختیاری کا اعتراف۔ چنانچہ سجدہ ’’اظہارِ بے اختیاری‘‘ ہے جبکہ گریہ ’’اعترافِ بے اختیاری‘‘۔۔!
چنانچہ کچھ دیر،تنہائی میں خدا کے حضور گڑگڑانے سے، دوسرے کی مصیبت پر رونے سے انسان لوگوں کے ہنسنے بلکہ جگ ہنسائی سے بچ جاتا ہے

اغیار کے حلقوں سے نکل، گھر پہ رہا کر
گزرے ہوئے حالات کے کتبے بھی پڑھا کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

user comment
 

latest article

  حدیث ثقلین اہلِ سنت کی نظر میں
  جن اور اجنہ کے بارےمیں معلومات (قسط-1)
  جن اور اجنہ کےبارے میں معلومات (قسط -2)
  انتخابی خلافت کا سیاسی طریقہ اور اسکا شیعی عقیدے کے ساتھ ...
  گریہ اور میڈیکل سائنس
  سنت اہل بیت ؑ کی حجیت آیہ تطہیر اور حدیث ثقلین کی روشنی میں
  چوتھی رات/ توحید افعالی، شرک خفی سے انتباہ
  خود شناسی(دوسری قسط )
  اسلامی عرفان اور حکمت
  فطرت کی راہ