کلام وعقاید
کلام وعقاید
حدیث قرطاس
کلام وعقاید
اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے اصحاب صحاح اور اصحاب مسانید اور اہل سیر و تاریخ رقم طراز ہیں ۔ ہم بحث کی ابتدا امام بخاری سے کرتے ہیں : اما م بخار
نبوت کے فوائد اور اثرات
کلام وعقاید
انبیاء کی تاریخی حیثیت واھمیت اور کردار، ان کے مثبت اثرات اور تعمیری اقدامات جو وہ کرگئے ھیں یا تھذیب وتمدن کے لئے ان کے خدمات کسی سے پوشیدہ نھیں ھیں۔ انبیاء تاریخ بشریت کے بزرگ ترین مصلح اوردل سوز ودردمند ترین رھبر رھے ھیں کہ جنھوںنے بشر کو اس کے کمال و سعادت اور نجات کی آخری منزلوں تک پھونچانے میں کوئی کسر نھیں چھوڑی ھے۔ انبیاء نے ھزارھا مسائل و مشکلات کا سامنا کیا، مصائب وآلام کو برداشت کیا نیز اپنی اپنی امتوں کی اذیتوں و آزار رسانیوں کو خندہ پیشانی سے
نفس، روح، جان، عقل،اور ذہن و فطرت کے درمیان کیسا رابطہ ہے؟
کلام وعقاید
کبھی ان الفاظ کا مراد ایک ہی چیز ہےاور تمام اشارے ایک حقیقت کی طرف ہیں یعنی وہی وجود اور انسان کی حقیقت، کبھی ان سے مختلف معنی ارادہ کئے جاتے ہیں اور ان الفاظ میں سے ہر ایک، نفس کے مختلف مراتب و مقامات کی طرف اشارہ ہیں۔
خدا کي وحدانیت کا اثبات
کلام وعقاید
تاہم گذشتہ، حال اور مستقبل کے موجودات کے درميان کے درميان ربط و تعلق کچھ يوں ہے کہ گذشتہ (ماضي کے) موجودات نے موجودہ (ياحال کے) موجودات کے معرض وجود ميں آنے اور تخليق ہونے کے اسباب فراہم کرتے ہيں اور موجودہ (ياحال کے) موجودات آئندہ (يا مستقبل کے) موجودات کي تخليق ہونے اور وجود ميں آنے کے اسباب و موجودات فراہم کرتے ہيں- اگر عِلّي اور إعدادي (Causal) تعلقات موجوداتِ عالم سے ختم کئے جائيں تو يہ عالم باقي نہيں رہے گا اور کوئي بھي دوسرا موج
نظم کے فوائد
کلام وعقاید
قوانین کي رعایت ،بھائي چارگي ،مرُوّت ،ثروت اندوزي سے اجتناب ،دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ نہ ڈالنا اور انکا احترام ،وقت کي اہمیت کا خیال رکھنا، چاہے، اپنا ہو یا دوسروں کا ، ٹریفک کے قوانین کي پابندي، مالي، تجارتي اور ان جیسے دوسرے مسائل ميں قوانین کي پیروي ، سب کے سب نظم و ضبط ميں شامل ہيں اور اسي طرح منظم ہونے کے مصادیق ميں سے ایک اہم مصداق، معاشرے ميں انجام پانے والے ہمارے کام ، افکار، عقائد اور نعروں ميں ہم آہنگي کا تعلق نظم و ضبط سے ہي ہے۔ سب سے خط
عقیدۂ توحید
کلام وعقاید
توحید کیا ہے؟ توحید ہے بندے کا یہ جاننا، ماننا، اس کو دِل میں بٹھائے رکھنا اور اس پر یقین اور ایمان پانا کہ اس کا رب منفرد ترین ہے اور یہ کہ کمال کی صفت اس کے رب کے سوا کہیں پائی ہی نہیں جاتی۔ بندے کا خدا کو یہ مقام دینا کہ خوبی اور عظمت اور کمال کا وہ تنہا مالک ہے اور یہ اعتقاد رکھنا کہ اس میں نہ اس کا کوئی شریک ہے نہ اس کا کوئی مثل اور نہ اس کا کوئی شبیہ۔ اور یہ کہ جب وہ ایسی عظیم ہستی ہے کہ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں تو پھر وہ یکتا الٰہ ہے یعنی الوھیت ایک اُسی کو سزاوار ہے اور عبادت تنہا اسی کا