اردو
Friday 19th of April 2024
0
نفر 0

امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت

حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے بارے میں شیعہ عقیدہ پر آپ علیہ السلام کی طویل عمر کے امکان کو تسلیم کرنے کے بعد دوسرا اعتراض آپ علیہ السلام کی طویل غیبت کے بارے میں ہے کہا جاتا ہے کہ دنیا مین کافی حد تک ظلم و ستم فساد موجود ہونے کے باوجود حضرت امام مہدی علیہ السلام ظہور کیوں نہیں کرتے؟

آپ علیہ السلام انقلاب کے ذریعے دنیا کو عدل و انصاف کے راستہ پر کیوں نہیں لگاتے؟

آخر ہم کب تک بیٹھے ہوئے ظلم و ستم، خون ریز جنگوں اور مٹھی بھر خدا سے غافل ظالموں اور تباہ کاروں کے ظلم و ستم کا نظارہ کرتے رہیں۔

آپ کی غیبت اس قدر طولانی کیوں ہو گئی ہے؟ آپ کوکس چیز کا انتظار ہے اور آخر اس طویل غیبت کا فلسفہ اور حکمت کیا ہے؟ لیکن اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ اگرچہ معمولاً غیبت کے مسئلہ میں یہ سوال شیعوں سے کیا جاتا ہے لیکن ذرا سا غور و فکر کرنے کے بعد ہم پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے گی کہ اس مسئلہ میں دوسرے لوگ بھی برابر کے شریک ہیں یعنی وہ تمام حضرات جو ایک عالمی عظیم مصلح کے ظہور کے سلسلے میں یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ایک دن وہ انقلاب برپا کر کے پوری دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے یہی سوال ایک دوسری شکل میں ان سے بھی کیا جا سکتا ہے چاہے وہ شیعوں کے عقائد کو سرے سے نہ مانتے ہوں ان سے یہ سوال یوں کیا جا سکتا ہے کہ اس عظیم مصلح کی ولادت بھی ابھی تک کیوں نہیں ہوئی ہے؟ اور اگر پیدائش ہو چکی ہے توپھر انقلاب کیوں نہیں آتا اور پیاسی دنیا کو اپنے عدل و انصاف کے جام سے سیراب کیوں نہیں کرتا اس لیے اگر اس سوال کا رک فقط شیعوں کی جانب رکھا جائے تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔

دوسرے لفظوں میں اس میں شک نہیں کہ طویل عمر کا مسئلہ اور زمانہ غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام کے وجود کے فلسفہ کے بارے میں صرف شیعوں ہی سے سوال کیا جا سکتا ہے لیکن آپ علیہ السلام کے ظہور میں تاخیر کا فلسفہ ایک ایسا مطلب ہے جس کے بارے میں ان تمام لوگوں کو غور و فکر کرنا چاہے جو اس عالمی مصلح کے ظہور پر ایمان رکھتے ہیں کہ اس انقلاب کے لیے دنیا کی مکمل آمادگی کے باوجود آپ علیہ السلام کا ظہور کیوں نہیں ہو رہا ہے۔

بہر حال اس سوال کا ایک جواب مختصر ہے اور ایک مفصل مختصر جواب یہ ہے کہ ہم گیر اور عالمگیر انقلاب کے لیے صرف ایک لائق اور شائستہ رہبر کا وجود ہی کافی نہیں ہے بلکہ ضرورت ہے کہ عوام بھی آمادہ ہوں لیکن افسوس ہے کہ دنیا ابھی اس طرح کی حکومت برداشت کرنے کے لیے آمادہ نظر نہیں آتی دنیا میں آمادگی پیدا ہوتے ہی امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور اور قیام یقینی ہے اور جہاں تک مفصل جواب کا تعلق ہے تو:

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس بات کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے کہ امام زمانہ علیہ السلام کے قیام کے منصوبہ پر تمام پیغمبروں کے قیام کے منصوبہ کی طرح صرف طبعی اور عام اسباب و ذرائع کو کام میں لاتے ہوئے عمل ہو گا اور کسی صورت میں بھی یہ کام معجزے کے ذریعے انجام نہیں پائے گا معجزہ استشنائی چیز ہوتا ہے اور چند استشنائی مقامات کے سوا آسمان پیشواﺅں کے اصلاحی منصوبوں میں اس کا عمل دخل نظر نہیں آتی۔

یہی وجہ ہے کہ ہر نبی نے اپنے مقاصد کو ترقی دینے کے لیے ہمیشہ اپنے زمانے کے اسلحہ لائق افراد کی تربیت ضروری صلاح و مشاورت موثر منصوبوں جنگ کی صحیح حکمت عملی، تدبیروں اور مختصر یہ ہے کہ اس طرح کے مادی اور معنوی ذرائع سے کام لیا ہے وہ انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ دھوئے بیٹھے نہیں رہے کہ ہر روز ایک نیا معجزہ ہو اوردشمن چند قدم پسپا ہو جائے یا یہ کہ مومنین ہر روز معجزے کے سہارے ترقی کے میدان میں آگے بڑھیں۔

لہذا عالمی سطح پر حق و عدل کی حکومت کے منصوبے پر یہ بھی عمل کرنے کے لیے کچھ استشنائی مقامات کے علاوہ مادی اور معنوی وسائل و ذرائع سے کام لیا جائے گا۔

دوسرے الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام اپنے ساتھ کوئی نیا دین نہیں لائیں گے بلکہ خداوندعالم کے انہی انقلابی منصوبوں پر عمل کریں گے جن پر ابھی تک عمل نہیں ہوا ہے آپ علیہ السلام کی ذمہ داریاں صرف تعلیم و تربیت نصیحت و سفارش لوگوں کو ڈرانا اور پیغام پہنچا دینا ہی نہیں ہے بلکہ آپ علیہ السلام کا یہ فریضہ ہے کہ ان تمام اُصول و قوانین کو نافذ کرائیں جو علم و ایمان کی حکومت کے سایہ میں ہر طرح کے ظلم و ستم اور ناحق امتیازات کا خاتمہ کر دیں گے اور یہ بات اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ ایسے منصوبہ کا نفاذ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کے سماج اس کو قبول کرنے کے لےے تیار نہ ہو۔

مذکورہ بالا بنیادی اُصول کی روشنی میں اس قول کی وضاحت ہو جاتی ہے جس میں ہم ظہور کی تاخیر کا سبب انسانی معاشرے کی عدم آمادگی کو قرار دے دیتے ہیں کیونکہ اس قسم کے ظہور اور انقلاب کے لیے کم از کم چند قسم کی آمادگیوں کی ضرورت ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ اس دنیا کی بے سرو سامانی ظلم و ستم کا مزا خوب اچھی طرح چکھ لیں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ دنیا اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ انسانی ذہن کے بنائے ہوئے قانون دنیا میں عدل و انصاف بر قرارر رکھنے کی توانائی اور صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ 

ضرورت ہے کہ پوری دنیا یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لے کہ صرف مادی اُصول و قوانین موجودہ قوت ناقدہ اور انسانوں کے خود ساختہ ضوابط کے زیر سایہ دنیا کی مشکلات حل نہ ہو سکیں گے بلکہ دن بدن یہ مشکلیں بڑھتی جائیں گی نیز ان کی گتھی سمجھنے کے بجائے اور بھی الجھتی جائے گی۔

ضرورت ہے کہ پوری بشریت کو اس بات کا احساس ہو جائے کہ اس دنیا کی یہ مشکلات اور بحران موجودہ نظاموں کی پیدا وار ہیں اور آخر کار یہ نظام ان مشکلات کو حل کرنے سے عاجز ہو جائیں گے۔

ضرورت ہے کہ دنیا انسانیت یہ سمجھ لے کہ اس عظیم امام علیہ السلام کو پانے کے لیے کچھ ایسے نئے اُصول اور نظام کی ضرورت ہے جو انسانی اقدار ایمان اور اخلاق پر قائم ہوں کیونکہ بے جان ناقص خشک اور مادی اُصول سے کام نہیں چل سکتا۔

ضرورت ہے کہ پوری دنیا میں عوام کا سماجی شعور اس حد تک بیدار ہو جائے کہ وہ یہ بات سمجھ سکیں کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حتماً بشریت کو بھی ارتقاءحا ©صل ہو جائے گی اور انسان کو خوشحالی اور سعادت نصیب ہو جائے گی جب کہ یہ ٹیکنالوجی انسان اور معنوی اُصول و قوانین کے زیر سایہ ہو ورنہ یہی ترقی یافتہ ٹیکنالوجی انسانیت کی تباہی اور بربادی کا سبب بن جائے گی اور ہم اپنی زندگی میں کئی مرتبہ اس بات کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔

ضرورت ہے کہ ساری دنای کے انسان یہ سمجھ لیں کہ اگر یہ صنعتیںبت کی شکل اختیار کر لیں تو موجودہ مشکلات میں اور بھی اضافہ کر دیں گی جنگوں میں تباہی اور بربادی کے دائرہ کو اور بھی زیادہ وسیع کر دیں گی بلکہ ان صنعتوں کو اوزار کے طور پر لائق انسانوں کے اختیار اور کنٹرول میں ہونا چاہےے۔

خلاصہ یہ کہ ضرورت ہے کہ پوری بشریت پیاسی ہو اور جب تک اس کو پیاس نہیں لگے گی یہ پانی کے چشموں کی تلاش میں نہیں نکلے گی دوسرے الفاظ میں جب تک لوگوں میں مانگ نہ ہو کسی قسم کے اصلاحی منصوبے کو پیش کرنا مفید نہ ہو گا اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی مسائل سے زیادہ سماجی مسائل میں رسد اور طلب کے اُصول پر توجہ دی جائے لیکن یہاں یہ سوال اُبھرتا ہے اس کہ اس پیاس اور طلب کو کیونکر ایجاد کیا جا سکتا ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ کچھ تو وقت اس کو ایجاد کر دے گا کیونکہ اس کے لیے وقت اور زمانہ بہت ضرورت ہے لیکن اس سلسلہ کی کچھ چیزیں تعلیم و تربیت سے تعلق رکھتی ہیں معاشرے کے ذمہ دار مومن اور باخبر دانشمندوں کی طرف سے جو اوصیاءفکری شروع ہوتا ہے یہ عمل اس کے ساتھ انجا پانا چاہیے۔

ان دانشمندوں کا وظیفہ ہے کہ اپنے انسان ساز منصوبوں کے ذریعہ کم از کم دنیا کے عوام کو یہ بات سمجھائیں کہ ان کی اصل مشکلات موجودہ اُصول و قوانین اور اسلوب کے ذریعے حل نہیں ہو سکیں گے اور بہر حال اس وظیفہ کو انجام دینے کے لیے بھی وقت درکار ہے۔

ایک اور بڑی ضرورت ثقافتی اور صنعتی ارتقاءکی بھی ہے کہ پوری دنیا کو ایک جھنڈے کے نیچے جمع کرنے ہر جگہ پر طاقت کے نشہ چور ظالموں اور ستمگروں کے زور کو ختم کرنے نیز ہر معاشرے میں اعلیٰ پیمانے پر تعلیم و تربیت کو رائج کرنے کے لیے اور اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھانے کے لیے کہ نسل زبان اور جغرافیائی حدود کا فرق اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ پوری دنیا کے عوام آپس میں مل جل کر بھائی بھائی کی طرح سے صلح و صفائی عدل و انصاف اُخوت و برابری کے ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتے۔

اس کے علاوہ ایسے صحیح اور مفید اقتصادی نظام کو فراہم کرنے کے لیے جو تمام انسانوں کے لیے کافی ہو ضروری ہے کہ ایک طرف انسانوں کی معلومات میں اضافہ ہو ان کی علمی سطح بلند ہو اور دوسری طرف صنعت کے میدان میں ترقی ہو ایسے وسائل ایجاد کیے جائیں گے جو پوری دنیا کو آپس میں ملا کر ان کے درمیان دائمی رابطہ بر قرار کر سکیں اور ظاہر ہے کہ اس کام کے لیے بھی کافی وقت کی ضرورت ہے اگر دنیا کے گوشہ گوشہ سے فوری طور پر رابطہ برقرار نہ ہو سکتا ہو تو پھر ایک حکومت پوری دنیا کے نظم و نسق کو کیسے سنبھال سکے گی۔

پوری دنیا کی حکومت ایسے وسائل کے سہارے چلانا کیسے ممکن ہے جن کے ذریعے دور دراز مقام پر ایک پیغام بھیجنے کے لیے کئی سال درکار ہوں۔

جو روایات امام زمانہ علیہ السلام کے انقلاب کے زمانہ میں دنیا کے لوگوں کی زندگی کی کیفیت بیان کرتی ہیں ان کے مطالعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس زمانہ میں صنعت و ٹیکنالوجی، خاص طور سے حمل و نقل اور مواصلاتی آلات کے میدان میں اس حد تک ترقی کر چکی ہو گی کہ دنیا کے براعظم عملی طور پر چند نزدیک نزدیک شہروں کی صورت اختیار کر لیں گے مشرق و مغرب ایک گھر کی مانند ہو جائیں گے زمان و مکان کی شکل پورے طور پر حل ہو چکی ہو گی البتہ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض چیزیں اسی زمانہ میں صنعتی انقلاب کے ذریعے انجام پذیر ہوں لیکن پھر بھی اس زمانہ کی آمد آمد پر ایک طرح کی علمی آمادگی موجود ہونا چاہیے تا کہ اس صنعتی انقلاب کے لےے زمین ہموار ہو۔

آخر میں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ اس انقلاب کے لیے دنیا میں ایک ایسے گروہ کی تربیت کی جائے جو اس عظیم مصلح کی انقلابی فوج کے اصلی حصہ کو تشکیل دے سکے چاہے وہ اقلیت ہی میں کیوں نہ ہو۔

اس دیکھتے ہوئے جہنم کے درمیان کچھ پھول بھی کھلنا چاہیں تا کہ وہ گلستان کا پیش خیمہ بن سکیں اس شور زار زمین میں کچھ پودے بھی لگنا چاہیں تا کہ وہ دوسروں کو بہار کی آمد کی نوید دے سکیں۔

اس مہم کے لیے بہت ہی زیادہ شجاع فداکار با خبر ہوشیار دلسوز اورجانباز افراد کو تربیت دینے کی ضرورت ہے چاہیے اس کام میں کئی نسلیں گزر جائیں تاکہ اصلی خزانے آشکار ہو جائیں اور انقلاب کے اصلی عناصر فراہم ہو جائیں اس کام کے لےے بھی اچھا خاصا وقت درکار ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس قسم کے افراد کی تربیت کون کرے؟

اس سلسلہ میں اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یہ اسی عظیم رہبر کی ذمہ داری ہے کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ اس منصوبے کو شروع کرے۔

اسلامی روایات میں امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے طویل ہونے کی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ مقصد یہ ہے کہ لوگوں کا امتحان ہو جائے اور ان میں جو سب سے بہتر اس کا انتخاب کر لیا جائے ممکن ہے کہ یہ احادیث انہی مطالب کی طرف اشارہ کر رہی ہوں جن کو ابھی عرض کر چکا ہوں۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ خداوندعالم انسانوں سے جو امتحان لیتا ہے وہ اس دنیاوی امتحان کی طرح لوگوں کی استعداد سے مطلع ہونے کے لےے نہیں ہے بلکہ اس امتحان کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں جو استعداد موجود ہے ان کو پروان چڑھایا جائے تا کہ صلاحتیں اُبھر کر سامنے آ جائیں نیز یہ کہ صالح اور نا صالح افراد کی صنعوں میں امتیاز ہو جائے۔

دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ان امتحانات کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں آمادگی پیدا کی جائے اور موجودہ آمادگیوں کو ترقی دی جائے پروان چڑھایا جائے کیونکہ خداوندعالم سے با خبر ہو نے کے سبب اس بات کا محتاج نہیں ہے کہ امتحان کے ذریعے لوگوں کے بارے میں معلوم حاصل کرے۔

چنانچہ مجموعی طور پر اس مختصر سے مضمون کے ذریعے امام مہدی علیہ السلام کی غیبت کا فلسفہ اور حکمت کسی حد تک واضح ہو سکی ہے۔


source : http://www.alhassanain.com
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

حضرت فا طمہ زھرا (س) بحیثیت آئیڈیل شخصیت
حضرت علی اور حضرت فاطمہ (س) کی شادی
محشر اور فاطمہ کی شفاعت
اقوال حضرت امام جواد علیہ السلام
کتاب’’جنت البقیع کی تخریب‘‘ اردو زبان میں شائع
حادثات زندگی میں ائمہ (ع) کا بنیادی موقف
پیغام شہادت امام حسین علیہ السلام
سنت رسول ۔ اہل سنت او راہل تشیع کی نظر میں
انبیاءکرام اور غم حسین علیہ السلام
حضرت فاطمہ زہراء

 
user comment