براہ کرم انتظار کریں

قرآن کریم - سورۃ النجم - جزء بيست و هفتم - سورۃ نجم - صفحہ 526

متن کی ترتیبات
فونٹ کی قسم
فونٹ کا سائز
فونٹ کا رنگ
فونٹ کی قسم
فونٹ کا سائز
فونٹ کا رنگ
الطور 
سورۃ نجم 
القمر 
بسم‌الله
وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ ١ مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ ٢ وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ٣ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ٤ عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَىٰ ٥ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ ٦ وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ٧ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ ٨ فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ ٩ فَأَوْحَىٰ إِلَىٰ عَبْدِهِ مَا أَوْحَىٰ ١٠ مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَىٰ ١١ أَفَتُمَارُونَهُ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ ١٢ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ ١٣ عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَىٰ ١٤ عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَىٰ ١٥ إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ ١٦ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ ١٧ لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَىٰ ١٨ أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ ١٩ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ ٢٠ أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنْثَىٰ ٢١ تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ ٢٢ إِنْ هِيَ إِلَّا أَسْمَاءٌ سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ ۚ إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَهْوَى الْأَنْفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنْ رَبِّهِمُ الْهُدَىٰ ٢٣ أَمْ لِلْإِنْسَانِ مَا تَمَنَّىٰ ٢٤ فَلِلَّهِ الْآخِرَةُ وَالْأُولَىٰ ٢٥ وَكَمْ مِنْ مَلَكٍ فِي السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا إِلَّا مِنْ بَعْدِ أَنْ يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَىٰ ٢٦
قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا (1) تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے (2) وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا (3) یہ تو ایک وحی ہے جو اُس پر نازل کی جاتی ہے (4) اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے (5) جو بڑا صاحب حکمت ہے (6) وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا (7) پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا (8) یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا (9) تب اُس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اُسے پہنچانی تھی (10) نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا (11) اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟ (12) اور ایک مرتبہ پھر اُس نے (13) سدرۃالمنتہیٰ کے پاس اُس کو دیکھا (14) جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے (15) اُس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا (16) نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی (17) اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں (18) اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اِس لات، اور اِس عزیٰ (19) اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟ (20) کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے؟ (21) یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی! (22) دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے اِن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس ہدایت آ چکی ہے (23) کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیے وحی حق ہے (24) دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے (25) آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے (26)