پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو اُن سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے، اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کر رہے تھے
(27)
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم کرے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچا لے گا؟
(28)
اِن سے کہو، وہ بڑا رحیم ہے، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں، اور اُسی پر ہمارا بھروسا ہے، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے
(29)
اِن سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لا دے گا؟
(30)
ن، قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں
(1)
تم اپنے رب کے فضل سے مجنوں نہیں ہو
(2)
اور یقیناً تمہارے لیے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں
(3)
اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو
(4)
عنقریب تم بھی دیکھ لو گے اور وہ بھی دیکھ لیں گے
(5)
کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلا ہے
(6)
تمہارا رب اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں، اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ راست پر ہیں
(7)
لہٰذا تم اِن جھٹلانے والوں کے دباؤ میں ہرگز نہ آؤ
(8)
یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں
(9)
ہرگز نہ دبو کسی ایسے شخص سے جو بہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے
(10)
طعنے دیتا ہے، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے
(11)
بھلائی سے روکتا ہے، ظلم و زیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے، سخت بد اعمال ہے، جفا کار ہے
(12)
اور اَن سب عیوب کے ساتھ بد اصل ہے
(13)
اِس بنا پر کہ وہ بہت مال و اولاد رکھتا ہے
(14)
جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں
(15)