اردو
Saturday 15th of June 2024
0
نفر 0

شب قدر کو کیوں مخفی رکھا گیا؟

شب ہائے قدر کے ایام میں یہ سوال ہر انسان کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے شب قدر کو کیوں مخفی رکھا ہے؟ جب شب قدر کی اتنی فضیلت ہے اس میں عبادت کا اتنا ثواب ہے تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ خداوند عالم ایک شب کو شب قدر کے عنوان سے معین کر دیتا تاکہ لوگ
شب قدر کو کیوں مخفی رکھا گیا؟

شب ہائے قدر کے ایام میں یہ سوال ہر انسان کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے شب قدر کو کیوں مخفی رکھا ہے؟ جب شب قدر کی اتنی فضیلت ہے اس میں عبادت کا اتنا ثواب ہے تو کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ خداوند عالم ایک شب کو شب قدر کے عنوان سے معین کر دیتا تاکہ لوگ اس میں پورے اطمینان و سکون کے ساتھ اس کی عبادت اور بندگی بجا لاتے اور ہزار مہینوں کا ثواب ایک شب میں آسانی سے حاصل کر لیتے؟
عبادتیں اللہ کی رحمت اور اس کے فیض کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ انسان عبادت اور بندگی کے ذریعے اس بات کا مستحق بنتا ہے کہ خداوند عالم اس کو اجر و ثواب عنایت کرے۔
خداوند عالم تمام صفات کمالیہ کا حقیقی مالک ہے اور انہیں صفات کمالیہ کی بنا پر اس کا فیض عالم ہستی پر جاری و ساری ہے۔ خداوند رحیم کی ایک صفت رحمت ہے چونکہ خداوند عالم کی ہر صفت ایک خاص سبب کی وجہ سے بندوں تک پہنچتی ہے اسی بنا پر اس کی رحمت بھی خاص راستوں سے اس کے بندوں اور اس کی مخلوق کو حاصل ہوتی ہے۔
شب قدر اللہ کی رحمت کے حصول کا ایک ذریعہ ہے۔ اس شب خداوند عالم اپنی رحمت کو بندوں پر جاری و ساری کر دیتا ہے جیسا کہ بعض دوسرے اوقات بھی اس کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہیں جیسے خود ماہ رمضان، ایام عید یا وہ ایام جن میں اللہ کے خاص بندوں کی ولادتیں ہوئی ہیں اللہ کی رحمت انسانوں کے شامل حال ہوتی ہیں۔
لہذا خداوند عالم نے اپنی مصحلت اور حکمت کی بنا پر سال میں ایک شب کو شب قدر کے عنوان سے قرار دیا ہے تاکہ اس شب اس کے بندے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کریں اور مشمول رحمت قرار پائیں۔
لیکن شب قدر کون سی شب ہے؟ ماہ رمضان کی راتوں میں سے کون سی رات ہے؟ آیا ماہ رمضان کی پہلی رات ہے، سترھویں رات ہے، انیسویں رات، اکیسویں رات، تیئسویں رات، ستائیویں رات یا انتیسویں رات ہے؟ اللہ نے اسے معین نہیں کیا۔
لیکن روایات میں مشہور و معروف یہ ہے کہ ماہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے اکیسویں یا تیئسویں رات ہے ۔ اسی لیے ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ مبارک کی آخری دس راتوں میں تمام راتوں کا احیاء فرماتے اور عبادت میں مشغول رہتے تھے ۔
ایک روایت میں امام جعفر صاق علیہ السلام سے آیا ہے کہ شب قدر اکیسویں یا تیئسویں رات ہے، یہاں تک کہ جب راوی نے اصرار کیا کہ ان دونوں راتوں میں سے کون سی رات ہے اور یہ کہا کہ اگر میں ان دونوں راتوں میں عبادت نہ کر سکوں تو پھر کون سی رات کا انتخاب کروں“۔ تو بھی امام  نے تعین نہ فرمایا اور مزید کہا: ”ماالیسر لیلتین فیما تطلب“اس چیز کے لیے جسے تو چاہتا ہے دو راتیں کس قدرآسان ہیں ؟
لیکن متعدد روایات میں جو اہل بیت(ع) کے طریقہ سے پہنچی ہیں زیادہ تر تیئسویں رات پر تکیہ ہوا ہے ۔ جب کہ اہل سنت کی زیادہ تر روایات ستائیسویں رات کے گرد گردش کرتی ہیں ۔
ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ آپ  نے فرمایا:
”التقدیر فی لیلة القدر تسعة عشر، و الابرام فی لیلة احدی و عشرین، و الامضاء فی لیلة ثلاث و عشرین“۔
”تقدیر مقدرات تو انیسوں کی شب کو ہوتی ہے، اور ان کا حکم اکیسویں رات کو، اور ان کی تصدیق اور منظوری تیئسویں رات کو ملتی ہے۔
لیکن بہر کیف شب قدر کا کسی ایک شب میں تعین نہیں ہوا۔
بہت سے علماء کا نظر یہ یہ ہے کہ سال بھر کی راتوں یا ماہ مبارک رمضان کی راتوں میں شب قدر کا مخفی ہونا اس بناء پر ہے کہ لوگ ان سب راتوں کو اہمیت دیں ۔ جیسا کہ خدا نے اپنی رضا و خوشنودی کو مختلف قسم کی عبادتوں میں پنہاں کررکھا ہے تاکہ لوگ سب عبادتوں اور اطاعتوں کی طرف رخ کریں ۔ اور اپنے غضب کو معاصی کے درمیان پنہاں رکھا ہے، تاکہ سب لوگ گناہوں سے پر ہیز کریں اور دعاوٴں کی قبولیت کو مختلف دعاوٴں میں پنہاں رکھا ہے تاکہ دعاوٴں کی طرف رخ کریں۔ اسم اعظم کو اپنے اسماء میں مخفی رکھا ہے تاکہ تمام اسماء کو بزرگ و عظیم سمجھیں۔ اور موت کے وقت کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر حالت میں آمادہ و تیار رہیں۔ اور یہ فلسفہ مناسب نظر آتا ہے ۔
 شیخ عباس قمی فرماتے ہیں کہ ائمہ اطہار نے جو شب قدر کو معین نہیں کیا اس کا ایک راز یہ ہے کہ مومنین ماہ مبارک رمضان کی راتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں۔ اور کم سے کم ان تین راتوں کو شب بیداری کریں اور اللہ کی عبادت میں مصروف رہیں۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ اگر اللہ ایک شب کو شب قدر کے عنوان سے معین کر دیتا تو اللہ کی رحمت صرف اسی شب نازل ہوتی اور جو لوگ کسی وجہ سے اس شب کا ادراک نہ کر پاتے وہ اس شب کی مخصوص رحمت سے ایک سال تک کے لیے محروم ہو جاتے۔ لہذا اللہ نے ایک شب کو معین نہ کر کے اپنے بندوں پر احسان اور لطف کیا ہے اور دوسری بات یہ کہ اس کی رحمت اتنی وسیع و عریض ہے کہ اگر اس کے بندے تینوں شب اس کی بارگاہ میں محو عبادت ہوں گے تو اس کی رحمت تینوں شب اس کے بندوں کے شامل حال ہو گی جبکہ اگر اس نے ایک شب کو معین کیا ہوتا تو صرف ایک ہی شب رحمت الہی سے فیضیاب ہو پاتے۔


source : abna
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

تربت حسینی کی فضیلت
نیکی اور بدی کی تعریف
اذا قام القائم حکم بالعد ل
اذان میں أشھد أن علیًّا ولی اللّہ
امام جعفر صادق(ع) کا خطبہ امامت کے بارے ميں
قرآن فهمی (۲)
حضرت زینب سلام اللہ علیہا ؛ شکوہ صبر و استقامت
خوشبوئے حیات حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ ...
فضائل علی (ع):
امتحان و آزما‏‏‏یش قرآن کی نظر میں

 
user comment