اردو
Wednesday 3rd of July 2024
0
نفر 0

قرآن مجید اور اخلاقی تربیت

اخلاق ان صفات اور افعال کو کہا جاتا ہے جو انسان کی زندگی میں اس قدر رچ بس جاتے ہیں کہ غیر ارادی طورپر بھی ظہور پذیر ہونے لگتے ہیں۔ بہادر، فطری طور پر میدان کی طرف بڑھنے لگتا ہے اور بزدل، طبیعی انداز سے پرچھائیوں سے ڈرنے لگتا ہے۔ کریم کا ہاتھ خود بخود جیب کی طرف بڑھ جاتا ہے اور بخیل کے چہرے ہر سائل کی صورت دیکھ کر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں۔ اسلام نے غیر شعوری اور غیر ارادی اخلاقیات کو شعوری اور ارادی بنانے کا کام بھی انجام دیا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان ان صفات کو اپنے شعور اور ارادہ کے ساتھ پیدا کرے تاکہ ہر اہم سے اہم موقع پر صفت اس کا ساتھ دے ورنہ اگر غیر شعوری طور صفت پیدا بھی کرلی ہے تو حالات کے بدلتے ہی اس کے متغیر ہو جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ مثال کے طور پر ان تذکروں کو ملاحظہ کیا جائے جہاں اسلام نے صاحب ایمان کی اخلاقی تربیت کا سامان فراہم کیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ انسان میں اخلاقی جوہر بہترین تربیت اور اعلیٰ ترین شعور کے زیر اثر پیدا ہو۔

قوت تحمل

قوت تحمل: سخت ترین حالات میں قوت برداشت کا باقی رہ جانا ایک بہترین اخلاقی صفت ہے لیکن یہ صفت بعض اوقات بزدلی اور نافہمی کی بنا پر پیدا ہوتی ہے اور بعض اوقات مصائب و مشکلات کی صحیح سنگینی کے اندازہ نہ کرنے کی بنیاد پر۔ اسلام نے یہ چاہا ہے کہ یہ صفت مکمل شعور کے ساتھ پیدا ہو اور انسان یہ سمجھے کہ قوت تحمل کا مظاہرہ اس کا اخلاقی فرض ہے جسے بہر حال ادا کرنا ہے۔ تحمل نہ بزدلی اور بے غیرتی کی علامت بننے پائے اور نہ حالات کے صحیح ادراک کے فقدان کی علامت قرار پائے۔


source : http://www.tebyan.ne
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

''عاشورا ''وجود میں آنے کے اسباب
روزہ کے بے شمار فوائد
ہمسفر کے حقوق
امامت قرأن و حدیث کی روشنی میں
ماہ رجب کی فضیلت
امامت آیہء مباہلہ کی روشنی میں
امام علی النقی علیہ السلام کی چالیس حدیثیں
قبور او لیاء الہی اور وہابیت کے مظا لم
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال
امام علی کا مرتبہ شہیدمطہری کی نظرمیں

 
user comment