اردو
Thursday 13th of June 2024
0
نفر 0

جرات بھی اسی سمت ہے ایمان جدھر ہے

تاریخ پر نظر دوڑانے سے اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ ایک جیسے حالات، وسائل، ماحول اور مواقع میسر ہونے کے باوجود انسان کی سوچ اور اس کے نظریات ضروری نہیں کہ ایک جیسے ہوں، واقعہ کربلا میں ہمارا سامنا ایک ایسے گروہ سے ہوتا ہے جو ہر لحاظ سے ممتاز ہے، گروہ میں شامل ہر شخص شجاعت، شہامت، شہادت طلبگی، انسانیت، ایثار و فداکاری اور دوسری خصوصیات میں ممتاز ترین ہے، ہم اور آپ تو کیا ہر کوئی جو کربلا کا ذکر سنتا ہے اور کربلا کے میدان میں بکھرے ان انمول موتیوں کے کمالات سن کر ششدر رہ جاتا ہے، ان کی فداکاری کے جذبہ پر آنکھوں سے آنسوں ٹپکنے لگتے ہیں اور لاشعوری طور پر ان افراد کی خصوصیات کو اپنانے اور اپنے اوپر لاگو کرنے کی خواہش سر اٹھاتی ہے۔

دوسری جانب جب اس گروہ کے مدمقابل گروہ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں ہر شخص شقی القلب، نفس پرست، نامرد، بزدل اور درندہ صفت خصلتوں سے بھرا دکھائی دیتا ہے، اس شقی القلب گروہ نے اس معصوم و انسانیت سے پُر گروہ پر مظالم کا ایک ایسا سلسلہ روا رکھا کہ تاریخ کے ہر دور میں، ہر اس شخص نے جس میں انسانیت موجود تھی اس گروہ کی غربت اور مظلومیت پر گریہ و ماتم کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی وقت میں دو بالکل متضاد گروہ موجود ہوں، یہ کیسے ممکن ہے کہ بعض افراد تو اتنے اچھے ہوں اور دوسرے اتنے برے؟

اگر سوچا جائے تو ایسا صرف کربلا میں نظر نہیں آتا، بلکہ ہمیں اپنے معاشرے میں بھی ایسے کردار نظر آ تے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسے عوامل ہیں جو انسان کے ارتقا اور انحطاط پر اثر انداز ہوتے ہیں؟ کس طرح بعض افراد رشد و کمال کی طرف حرکت کرتے ہیں اور دوسری طرف انکے مقابل افراد اسقدر سقوط کرتے ہیں؟ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ کربلا چند افراد کا انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ ظہور پذیر ہونے والا ایسا عظیم واقعہ ہے جو چودہ سو سال سے زمانے پر اثر انداز ہوتا آ رہا ہے اور ہمارے معاشرے پر بھی اثرانداز ہو رہا ہے، اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں ہے۔ 

عمرانیات کے مطابق انسان پر اثر ڈالنے والے عوامل میں سے پہلا گروہ موروثی ہے ۔۔۔۔اور دوسرا ماحول۔۔۔۔۔۔مثال کے طور پر امام حسین ع نے کچھ خصوصیات اپنے والد حضرت علی ابن ابیطالب ع سے لیں اور کچھ والدہ گرامی دختر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے لیں اور ایک ایسے ماحول میں پرورش پائی جو ایک مثالی ماحول تھا۔۔۔۔۔۔اور یزید اور اس کے حواریوں نے سفاکیت اور شقی القلبی اپنے آباو اجداد سے لی اور ایک شیطانی ماحول میں پرورش پائی۔۔۔۔۔۔۔لیکن ان دو عوامل کے علاوہ بھی دوسرے عوامل ہیں جو انسان کی شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ 

مثال کے طور پر ایک طرف تو حر ابن ریاحی ہیں جو شروع میں تو حضرت امام حسین ع کا راستہ روکتے ہیں اور شب عاشور حسینی ع فوج میں شمولیت اختیار کرتے ہیں یا زہیر ابن قین جنہوں نے ساری زندگی ایک نظریہ کہ تحت گذاری، لیکن جب امام حسین ع سے ملاقات ہوئی تو کربلا کے افق پر ایک ستارہ بن کر چمکے۔۔۔۔دوسری طرف یزیدی فوج میں ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے مولا علی ع کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا، لیکن علی ع کے نورنظر کے مد مقابل آ کھڑے ہوئے اور انسانیت کے قبیح ترین افراد میں شامل ہو گئے۔ 

اس کے باوجود کہ دونوں گروہ انسان ہیں، عقل رکھتے ہیں، خداوند کریم نے سب کو بشری وجدان اور عقلی طاقت عطا فرمائی ہے اور انکی ہدایت اور عقلی رشد کیلئے انبیا کو بھیجا تاکہ سب یکساں طور پر ہدایت حاصل کریں لیکن اسکے باوجود ہم معاشرے میں انسانی مظاہر میں اتنا تضاد دیکھتے ہیں۔ آخر کیوں؟ 

اہل علم و دانش اسکی جو بھی وجوہات بیان کریں اور اپنی باتوں کیلئے دلیلیں دیں، لیکن میری نظر میں سب سے اہم چیز حق کو پہنچاننا اور پھر اس پر جرات مندی سے عمل پیرا ہونا ہے، جیسے حر ابن ریاحی  نے کیا، جیسے زہیر ابن قین نے کیا۔۔۔۔۔حق کو پہچانا اور پھر اطاعت کے سوا کچھ نہ کیا، یہاں تک کہ شہادت کو گلے لگایا۔۔۔۔تاریخ میں جنہوں نے حق کو بظاہر پہچانا تو لیکن اطاعت نہ کی، انکا حشر یزیدیوں کی صف میں ہوا۔ 

آج بھی اپنے اطراف میں نظر ڈالیں تو ہم بخوبی مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ آج بھی جنہوں نے حق کو پہچان لیا اور اطاعت کا راستہ اپنایا وہ سرخرو ہیں اور عزت و سرفرازی کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں لیکن وہ جنہوں نے حق کو پہچانا تو لیکن اطاعت نہ کر سکے یا نہ کرنا چاہتے ہیں، وہ لوگ ایک سسکتی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ حق کی پہچان انسان کو جرات عطا کرتی ہے، ایمان کی پختگی انسان کو جری بنا دیتی ہے، جتنا زیادہ جری ہوتا ہے، اتنا اچھی طرح اپنی اقدار کا دفاع کر پاتا ہے۔ 

دفاع کا قانون ایک طبیعی قانون ہے کہ جس کو خداوند متعال نے طبیعی اور تکوینی صورت میں انسانوں اور حیوانوں میں قرار دیا ہے اور اسی طرح مقام تشریع پر تمام ادیان دفاع کے قانون کو دینی احکام کا حصہ سمجھتے ہیں حتٰی کہ وہ ملحد جو خدا اور الہٰی قوانین کو نہیں مانتے، طبیعی طور پر دفاع کے قانون پر عمل کرتے ہیں، لیکن اگر ہم انسان کو فقط ایک مادی موجود سمجھیں کہ جو ایک عرصے تک اس دنیا میں زندگی گذارتا ہے اور مرنے کے بعد ختم ہو جاتا ہے اس صورت میں دفاع بھی اسی مادی زندگی سے مربوط ہے، لیکن اگر کوئی اخروی زندگی کا عقیدہ رکھتا ہو اور اس دنیاوی زندگی کو اصلی اور ختم نہ ہونے والی اخروی زندگی کے لئے مقدمہ سمجھتا ہو اس کو چاہئے کہ اس ابدی زندگی اور اس سعادت کو جو اسے اخروی زندگی میں نصیب ہو گی، حفاظت کرے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اس دنیا کی محدود سعادت اور آخرت کی ابدی سعادت میں سے کون سی زیادہ اہم ہے؟ اگر ابدی سعادت تک پہنچنے کے لئے بعض اوقات حالات کا تقاضہ یہ ہو کہ اس دنیا کی زندگی محدود اور مختصر ہو جائے یا اس دنیا کی لذتیں کم ہو جائیں تو کیا جو ابدی زندگی اور سعادت پر یقین رکھتا ہو وہ اس دنیا کی زندگی اور لذتوں کو ابدی زندگی کی راہ میں قربان کرنے میں تردد کرے گا؟ 

سید الشہدا ع نے شب عاشور اپنے اصحاب سے فرمایا: 

اے باعزت لوگوں کی اولادوں! تھوڑا صبر کرو کہ موت ایک پل کے سوا کچھ نہیں ہے، جو آپ کو اس دنیا کی پست زندگی سے ابدی سعادت کی زندگی یعنی قرب الہٰی کے جوار میں پہنچا دے گا۔ 

پس یہ تو ثابت ہو گیا کہ شہادت ہمارے لئے سعادت ہے اور ہم اسے فخر سمجھتے ہیں، لیکن کیا عقل مند انسان اس شخص سے جو اسکے سر پر تلوار تانے کھڑا ہو مسکرا کر پیش آتا ہے؟ آپ تصور کریں کہ آپ آدھی رات میں نیند سے بیدار ہوتے ہیں اور اپنے سرہانے ایک شخص کو حملہ کرنے کی حالت میں دیکھتے ہیں تو کیا آپ اس سے مسکرا کر پیش آئیں گے؟ اور اسکا احترام کریں گے یا اپنے دفاع کے لئے تیار ہو جائیں گے اور اس سے اسلحہ چھین کر اس پر حملہ کر دیں گے؟ کیونکہ آپ کو یقین ہے کہ آپ کی زندگی خطرے میں ہے اور جیسے ہی آپ اس خطرے کو درک کریں گے تو طبیعی قانون دفاع کے تحت اپنا دفاع کریں گے اور اس سے اسلحہ چھین کر اس پر حملہ کر دیں گے۔

حملہ آور پر حملہ کرنے کی یہ جرات آپ کو ایمان عطا کرتا ہے۔۔۔۔۔ایمان اخروی سعادت پر۔۔۔۔۔ایمان قیامت پر۔۔۔۔۔ایمان فتح پر ۔۔۔۔۔مار دیں یا مار دیئے جائیں ۔۔۔۔فاتح آپ ہی ہونگے۔ ۔۔۔لیکن شرط اطاعت کی ہے۔۔۔۔۔آپکا ہر عمل میں مطیع حجت ہونا ضروری ہے۔۔۔۔۔بالکل ایسے ہی جیسے زہیر ابن قین مطیع تھے۔۔۔۔۔جیسے حر ابن ریاحی۔۔۔۔۔پروانوں کی طرح اپنے مولا کے گرد موجود رہے۔۔۔۔۔نہ ایک قدم آگے نہ ایک قدم پیچھے۔۔۔۔۔جب ایسی اطاعت حاصل ہو جاتی ہے تو آپ لشکر حسینی ع میں شامل ہو جاتے ہیں۔ 

کیا ہو گیا ہے تمہیں، کیوں خاموش ہو اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر؟ اٹھ کھڑے ہو ظالم کے سامنے ۔۔۔۔۔کاٹ ڈالو اپنی طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو۔۔۔۔۔تم کو قتل کیا جا رہا ہے۔۔۔۔۔تم پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گی ہے، لیکن تم پھر بھی نجات کے راستے کی طرف نہیں آتے۔۔۔۔۔یاحسین ع کی صدا تو بلند کرتے ہو لیکن اطاعت کسی اور کی کرتے ہو۔۔۔۔۔۔کربلائی بنو۔۔۔۔۔تاخیر کرنے کا یہ وقت نہیں۔۔۔۔۔زمانہ آواز دے رہا ہے۔۔۔۔۔ذوالفقار کی جھنکار ہے ہوا میں۔۔۔۔۔ذرا غور سے سنو 

سچائی کے قدموں پر سرِ فتح و ظفر ہے 

جرات بھی اسی سمت ہے، ایمان جدھر ہے


source : www.islamtimes.org
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

فضائلِ علی علیہ السلام غیر مسلم مفکرین کی نظر میں
فرامین مولا علی۳۷۶ تا ۴۸۰(نھج البلاغہ میں)
شب قدر کے حقیقی معنی
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حیات طیبہ
مکتب اہل بیت میں بچوں کی تربیت
پردے کی مخالفت میں ایک منطقی نتیجہ
عقل خدا کي لازوال نعمت
علم آیات و احادیث کی روشنی میں
خوشبوئے حیات حضر ت ا ما م علی نقی علیہ ا لسلا م
امام حسین(ع) اور امام مہدی(عج) کی شباہتیں

 
user comment