اردو
Sunday 3rd of March 2024
0
نفر 0

اگر کوئی شخص جھوٹا قسم کھائے تو اس کے نتائج کیا ہوں گے؟

جھوٹے قسم کھانے کے انجام کا مراد ممکن ہے دو معنی پر مشتمل ہو:

1-  انجام، حکم شرعی کے معنی ہیں-

2-انجام، وضعی اثر کے معنی میں اور یہ وصغی اثر ممکن ہے دینوی یا اخروی آثار پر مشتمل ہو اور سوال کرنے کا مراد بظاہر یہی ہے-

1- حکم شرعی:

قسم دو قسم کی ہوتی ہے:

الف: مستقبل میں کسی کام کو انجام دینے یا ترک کرنے کی قسم-

ب- کسی چیز کو ثابت یا نفی کرنے کی قسم-

 پہلی قسم:اگر انسان قسم کھائے کہ کسی کام کو انجام دے یا ترک کرے، مثلاً قسم کھائے کہ روزه رکھے، یا سگریٹ پینا ترک کرے، اگر وه اس کی عمداً خلاف ورزی کرے، تو اسے کفاره دینا چاہئے، یعنی ایک غلام کو آزاد کرے یا دس فقیروں کو پیٹ بھر کر کھانا کھالائے یا انھیں لباس پہنائے، اگر یہ نہ کرسکے تو اسے مسلسل تین دن روزے رکھنے چاہئے-

دوسری قسم: جو شخص کسی چیز کو ثابت یا نفی کرنے کے لئے قسم کھائے، اگر اس کی بات صیحح اور سچ ہو تو اس کے لئے قسم کھانا مکروه ہے اور اگر جھوٹ ہو تو حرام ہے اور یہ گناه کبیره ہے لیکن اس قسم کے لئے کفاره نہیں ہے- لیکن اگر اپنے آپ کو یا کسی دوسرے مسلمان کو کسی ظالم کے ظلم سے بچانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ کبھی ایسی قسم کھانا واجب بن جاتا ہے، لیکن اگر ایسی قسم کھاتے وقت توریہ کرسکے ، یعنی قسم کھاتے وقت اس طرح نیت کرے کہ جھوٹ نہ ہو، تو احتیاط واجب کی بنا پر توریہ کرنا چاہے – مثلاً اگر کوئی ظالم کسی پر ظلم کرنا چاہتا ہو اور انسان سے پوچھـ لے کہ کیا تم نے اسے نہیں دیکھا ہے؟ اور اس انسان نے ایک گھنٹہ پہلے دیکھا ہوگا، تو وه کہہ سکتا ہے کہ میں نے اسے نہیں دیکھا ہے اور نیت یہ کرے کہ میں نے اسے پانچ منٹ پہلے نہیں دیکھا ہے-[1]

جھوٹی قسم کے آثارو نتائج:

جھوٹی قسم کی مزمت اور ملامت اور اس کے آثار رو نتائج کے بارے میں بہت سی احادیث پائی جاتی ہیں، کہ ہم ذیل میں ان کے چند نمونوں کی طرف اشاره کرتے ہیں:

1- حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا گیا ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا:" کتاب علی (ع) میں آیا ہے کہ: جھوٹی قسم اور قطع رحم اس کے گھر کے ساکنوں سے خالی ہوجانے کا سبب بن جاتا ہے- ( یہ گھروں کی ویرانی یا ان کے ساکنوں کی فقرو تنگدستی کی طرف کنایہ ہے، یعنی گھر رزق و برکت سے محروم ہوتے ہیں) اور نسل کے منقطع ہونے کا سبب بن جاتی ہے -[2]

2-      امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا : " جو شخص قسم کھائے جبکہ جانتا ہے کہ یہ سراسر جھوٹ ہے، اس نے خداوند متعال سے جنگ کی ہے-"[3]

3- ایک حدیث قدسی میں بھی خداوند متعال کا ایک قول یوں نقل ہوا ہے: " جو شخص میرے نام پر جھوٹی قسم کھاتا ہے، وه میری رحمت سے محروم ہوگا-"[4]

4-       امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی گئی ہے کہ انھوں نے اپنے اجداد سے اور انھوں نے پیغمبر السلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ حدیث میں جھوٹی قسم کے نتائج کو خداوند متعال کا اپنے بنده سے ملاقات کے وقت غضبناک ہونا شمار ہوتا ہے- مگر یہ کہ وه توبہ کرے-[5]

توضيح المسائل مراجع، ج 2، ص 623، طبع هشتم، انتشارات جامعه مدرسین، قم، سال  ہجری- -1424[1]

وسائل الشیعه ، ج 23 ، ص 202 . طبع اول، ناشر مؤسسه آل البيت (ع) لإحياء التراث. قم . سال 1409 ہجری- -.[2]

وسائل الشیعه ، ج 23، ص 203 .[3]

وسائل الشیعه ، ج 23 ، ص 268 .[4]

وسائل الشیعه ، ج 23 ، ص 267 .[5]


source : http://www.ahlulbaytportal.com
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اگر انسان کا دل پاک ہو تو حجاب کی کوئی ضرورت نہیں؟
کیوں شیعہ مٹی پر سجدہ کرتے ہیں ؟
دینی سوالات اورجوابات
دین واحد کے ماننے والوں میں اختلاف کیوں ؟
ہدیہ کے بارے میں چار باتیں
عبادت اورمعاملات کیا ہیں؟
ہم فروع دین میں تقلید كیوں كریں ؟
تحریک کربلا جاوداں کیوں ہے؟
کہا جاتا ہے کہ امام حسین (ع)کی خاک شفا، وہ سرخ رنگ ...
اسلام میں روزہ کی کیا اہمیت ہے؟

 
user comment