اردو
Saturday 22nd of June 2024
0
نفر 0

شناخت خدا اور اس کي طرف رغبت کا فطري ھونا

قرآن مجيد کي آيتوں کي رو سے شناخت خدا بھي فطري ھے اور اس کي طرف رغبت و جستجو بھي۔ بحث ”وجود خدا بديھي ھے“ کے ذيل ميں کھا جا چکا ھے کہ خدا کے وجود کا باور اور اعتراف، عام اور سبھي کے لئے قابل قبول رھا ھے يعني وجود خدا کوئي ايسا مجھول مسئلہ نھيں ھے جو اثبات کا محتاج ھو? اس بحث کے ذريعے شناخت خدا کا فطري ھونا ثابت ھو چکا ھے۔ اس سلسلے ميں جو آيتيں دلالت کرتي ھيں ان ميں سے ايک سورہ روم کي تيسويں آيت ھے جس کو آيہ فطرت کھا جاتا ھے:
شناخت خدا اور اس کي طرف رغبت کا فطري ھونا

قرآن مجيد کي آيتوں کي رو سے شناخت خدا بھي فطري ھے اور اس کي طرف رغبت و جستجو بھي۔ بحث ”وجود خدا بديھي ھے“ کے ذيل ميں کھا جا چکا ھے کہ خدا کے وجود کا باور اور اعتراف، عام اور سبھي کے لئے قابل قبول رھا ھے يعني وجود خدا کوئي ايسا مجھول مسئلہ نھيں ھے جو اثبات کا محتاج ھو? اس بحث کے ذريعے شناخت خدا کا فطري ھونا ثابت ھو چکا ھے۔

اس سلسلے ميں جو آيتيں دلالت کرتي ھيں ان ميں سے ايک سورہ  روم کي تيسويں آيت ھے جس کو آيہ فطرت کھا جاتا ھے:

(فاقم وجھک للدين حنيفاً فطرة الله التي فطر الناس عليھا لا تبديل لخلق الله ذلک الدين القيم ولکن اکثر الناس لا يعلمون)

اپنا رخ پروردگار کے خالص دين کي طرف کر لو کيونکہ يہ فطرت ھے جس پر الله نے انسانوں کو پيدا کيا ھے۔  اس کي تخليق ميں کوئي تغير و تبدل نھيں ھوتا اور يھي محکم و استوار دين ھے ليکن اکثر لوگ اس حقيقت کو نھيں جانتے۔ مذکورہ آيت مکمل وضاحت و صراحت کے ساتھ دين کو فطري امر کے طور پر پيش کرتي ھے۔ اس آيت ميںدين سے کيا مراد ھے، اس سلسلے ميں مفسرين دو رائے پيش کرتے ھيں:

(الف) دين سے مراد معارف و احکام مخصوصاً اسلام کے حقيقي اور بنيادي معارف واحکام کامجموعہ ھے۔ اس رائے کے مطابق، دين کے اندر موجود تمام کليات کہ جن ميں سے اھم ترين شناخت اور عبادت خدا ھے، فطرت انسان ميں راسخ کردئے گئے ھيں۔ مرحوم علامہ طباطبائي نے اپني تفسير،” تفسير الميزان“ ميں اسي نظريے کو منتخب کيا ھے۔    

(ب) دين سے مراد وہ دين ھے جو فطرت کے مطابق ھواور اس کے معني خدا کے سامنے تسليم محض اور سر بسجود ھوجانا ھے کيونکہ دين کا لب لباب خضوع و خشوع ، فرمانبرداري و اطاعت کے ماسوا کچھ نھيں ھے:

(ان الدين عند الله الاسلام)

خدا کے نزديک دين فقط اسلام ھے۔

اس رائے کے مطابق، دين کے فطري ھونے کا مطلب يہ ھے کہ انسان کي خلقت ميں ايسے تمايلات واوصاف شامل کردئے گئے ھيں جو اسے خدا کي عبادت کي طرف اکساتے رھتے ھيں۔ واضح ھے کہ اگر خداپرستي فطري ھو تو خدا شناسي بھي فطري ھوجائے گي کيونکہ فطرتہ يہ ممکن نھيں ھے کہ انسان اس کي پرستش کرے جس کو وہ جانتا بھي نہ ھو۔

بشکريہ : الحسنين ڈاٹ کام


source : tebyan
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

امام رضا علیہ السلام کے فضائل کے چند گوشے
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اہمیت اور شرائط
نصیحت ‘ عقیدہ اور کردار بروئے تعلیمات جعفری
غدیر کا تاریخی واقعہ اور اس کی اہمیت
اسلام ميں عزاداری کی اہمیت اور اس کا کردار
نھج البلاغہ: کتاب حق و حقیقت
قرآن کی نگاہ میں مثالی خاتون کی خصوصیات
علم آیات و احادیث کی روشنی میں
دعا کے آداب اور اس کی شرطیں
امام حسین علیہ السلام کی شہادت کا بیان، مقتل ابی ...

 
user comment