اردو
Thursday 18th of July 2024
0
نفر 0

اسلامی بیداری مستقبل اور امۃ كو بیدار كرنے كا سلیقہ

دنیا میں مسلمانوں كی آبادی دیڑہ ارب سے زیادہ ہے مسلمان مختلف ملكوں اور قومیتوں میں بكھرے پڑے ہیں ان كے ھزاروں ادارے اور تنظیمیں ہیں جو ایك دوسرے سے بیگانہ،

دنیا میں مسلمانوں كی آبادی دیڑہ ارب سے زیادہ ہے مسلمان مختلف ملكوں اور قومیتوں میں بكھرے پڑے ہیں ان كے ھزاروں ادارے اور تنظیمیں ہیں جو ایك دوسرے سے بیگانہ، آئندہ آنے والی نسلوں كے مفادات سے بے خبر اور امت كے دیگر حصوں كے مفادات سے ناواقف بلكہ بعض اوقات ان كے اھداف سے تضاد ركھتے ہیں ۔

مسلمانوں كی اتنی عظیم آبادی كے ہوتے ہوۓ بھی ان كے درمیان اتحاد و اتفاق قائم كرنے كے لۓ اب تك كوئی خاص اقدامات نہیں ہوۓ ہیں ان اسباب اور دیگر بہت سے اسباب كی بنا پر عالم اسلام تفرقہ اور ٹكڑے ٹكڑے ہونے كے خطرے سے دوچار ہے

عالم اسلام كے حالات سے واقف افراد پر یہ بات روز روشن كی طرح عیاں ہے كہ جس دین كی وحی اور قرآن نے ضمانت دی ہے وہ مسلمانوں كے درمیان تھیوری اور مكتب كی صورت میں تو موجود ہے لیكن عملی اور عینی صورت میں اس كا كہیں پتہ نہیں چلتا۔

دنیا كے ایك سرے سے دوسرے سرے تك مسلط سیاسی نظام جو انسان كو اسكے جائز حقوق دینے كے حق میں نہیں ہیں اس بات كا باعث بنے ہیں كہ لوگوں كے بہت سے گروہ اپنے عقائد اور دین كی حفاظت كے لۓ تشدد كا سہارہ لیں

آجكل دنیا میں جس چیز كو انتھاپسندی كہا جاتا ہے وہ معاشروں كے معمولی حالات كا نتیجہ نہیں ہے بلكہ یہ ایك طرح كی بغاوت اور احتجاج ہے جس كا سرچشمہ ظلم و ستم اور غیر فطری قوانین ہیں جو بذات خود انتھا پسندی اور عالمی قوانین اور ادیان سماوی كے سے منافات ركھتے ہیں۔

طبقاتی فاصلہ ایك ایسی لاعلاج بیماری ہے جو مختلف معاشروں سمیت اسلامی معاشروں كے دامنگیر ہوچكی ہے یہاں تك كہ یہ فاصلہ ناجائز حكام اور ان كے زیر تسلط عوام كے درمیان اس قدر بڑہ گیا ہے كہ دشمن اس سے غلط فائدہ اٹھاكر مومنین كو زیر كرنے كی فكر میں ہے اگر یہی حال رہا تو سامراجی اور طاغوتی طاقتیں ظالم حكمرانوں اور ستمدیدہ عوام كے درمیان اثر و رسوخ حاصل كرلیں گی اور مسلمان شدید تفرقہ كا شكار ہوجائیں گے بلكہ ان كے درمیان خانہ جنگی بھی شروع ہوسكتی ہے ،شاید اسی سلسلے كی ایك كڑی ہے كہ امریكہ كے صدر امریكی حكومت اور فوج كی جانب سے مسلمانوں كو آزادی اور اقتصادی ترقی اور حق خود ارادیت دینے كی بات كررہے ہیں۔

ہم ساری دنیا كو آگاہ كرتے ہیں كہ اگر مسلمانوں كو اسلامی افكار بیان كرنے كا موقع دیا جاۓ اور وہ اپنے مخالفین و موافقین كے ساتھ یكسان طور پر بحث كر سكیں تو دنیا كی صورتحال بدل جاے گی اور انسانی معاشرہ تمام میدانوں میں ایسی ترقی كرےگا كہ جس كی نظیر نہ ہو گی لیكن آج كل مسلمانوں كے خلاف ان كی اسلامی اور جھادی تنظیموں كے خلاف وسیع پروپگینڈے كۓ جارہے ہیں اور انہیں انسانی معاشرے كے لۓ سب سے بڑا خطرہ بتا جارہا ہے دوسری طرف سے مسلمانوں میں بھی كچھ ایسے عناصر پاے جاتے ہیں جو ضغیف النفس اور مریض القلب ہیں ان كی عقل كمزور ہے یہ لوگ مسلمانوں كی توھین كرنے والوں كا ہاتھ تھام لیتے ہیں اور سوچتے ہیں كہ غاصب اور ظالم طاقتیں انہیں نجات اور كامیابی سے ھمكنار كر دینگی ایسے عناصر سے دوستی اور ان كی حمایت كرنا ان دشمنوں سے دوستی كرنے كے برابر ہے جنہوں نے حالیہ صدیوں میں مسلمانوں كے ساتھ دشمنی كی انتھا كردی ہے اور كسی طرح كے ظلم و ستم سے گریز نہیں كیا ہے۔ ایسے عناصر كے بعد كچھ ایسے لوگ ہیں جو سامراج كے سامنے تسلیم ہونے كی توجیھ كرتے ہیں ان كا دعوی ہے كہ اب اپنوں اور غیروں كا ظلم سہا نہیں جاتا اور اگر ہم مسلمان اپنے معاشروں میں عدل و انصاف قائم نہیں كرسكتے تو ہمارے پاس اس كے سوا كوئی چارہ نہیں ہے كہ ہم بیرونی طاقتوں كا تسلط قبول كرلیں ایسی طاقتیں جن كے بارے میں ہم تحفظات ضرور ركھتے ہیں تاہم یہ طاقتیں انسان دوست اور لبرل ہیں اور اس طرح سے ہم پر حكومت كرینگی كہ یہ ہمارے فائدہ میں ہی ہوگا۔

یہ نہایت سادہ لوحی ہے كیونكہ ان افراد نے سامراجی اور تسلط پسند طاقتوں كے اقدامات كو سرے سے نظر انداز كردیا ہے اگر یہ لوگ دنیا كے مختلف علاقوں پر سرسری نظر دوڑائيں تو ان پر واضح ہو جاے گا كہ امریكہ نے جس خطہ پر بھی قدم ركھا ہے وہاں فساد پھیلایا ہے اور وہاں كے باشندوں كوذلیل و خوار كیا ہے اور یہ روش تاریخ میں ہر ظالم و جابر طاقت كی روش رہی ہے اس روش كے تحت تسلط پسند طاقتیں قوموں كی سرزمینوں پر قبضہ جمانے كے بعد انہیں غلام بنالیتی ہیں اور "تفرقہ ڈالو حكومت كرو "كے اصول پر سارے شدومد سے عمل پیرا ہوجاتی ہیں اسكے علاوہ سامراج كی ایك اور گھناونی پالیسی مقبوضہ سرزمینوں كے باشندوں كا قتل عام اور عورتوں اور لڑكیوں كو جنسی تشدد كا نشانہ بنانا اور انہیں نوكرانیوں كے طور پر ركھنا ہے اس طرح سے سامراج مقبوضہ سرزمینوں كے باشندوں كی نسل ختم كر نے كی كوشش بھی كرتا ہے بہر حال تاریخ اور قرآن سے ہمیں پتہ چلتا ہے كہ جن قوموں نے كفر و طاغوت كا سہارہ لیا وہ ذلیل و خوار ہوئيں اور جنہوں نے خدا كی رسی كو تھاما وہ باعزت و سربلند رہیں۔

عراق و فلسطین

مندرجہ بالا امور كی روشنی میں ہم عراق و فلسطین كے بحرانوں كو بہتر طرح سے سمجھ سكتے ہیں سب كو معلوم ہے كہ عراق اور فلسطین پر غیر ملكی طاقتیں قابض ہیں گرچہ ان ملكوں پر قابض طاقتوں كی حكمت عملی میں فرق ہے لیكن ان كا ھدف ایك ہے

اسرائیل و امریكہ دونوں فلسطین و عراق كی مظلوم قوموں پر بے پناہ ظلم و ستم ڈھا رہی ہیں ان كے ظالمانہ قبضے سے نجات حاصل كرنا عراق و فلسطین كے عوام كا قانونی حق ہے بلكہ ان كا شرعی فریضہ بھی ہے۔

یاد رہے فلسطین پر اسی وقت سامراج كا قبضہ ہوا جب اسلامی حكومت كمزور اور بے اثر ہوگئی تھی اس موقع پر سامراج نے فلسطین سمیت دیگر اسلامی ملكوں پر بھی پنجے گاڑنا شروع كردیا تھا،سب سے پہلے سامراج نے اسلامی بیداری كا خاتمہ كیا اس كے بعد مسلم حكومتوں كو سكیولریزم ،نیشنلیزم ،سوشیلزم اور قبائلی تعصب كی طرف مائل كیا ، جب اكثر اسلامی ممالك ان ہتھكنڈوں كر شكار ہوگۓ تو اسلام بھی اقتدار سے ھٹتا گیااور نیشنلسٹ،سوشلسٹ،سكیولار ،كیپٹلسٹ،قبائلی اور نہ جانے كیسی كیسی حكومتیں برسر اقتدار آگئیں۔

عراق كی صورت حال پر امت اسلامیہ كو ہر طرح سے غور و فكر كرنا چاہیۓاور عبرت حاصل كرنا چاہیۓ۔

مغرب كی سازشوں سے جب عالم اسلام میں سكیولر اور قوم پرست حكومتوں كا جال بچھ گیا تو عراق وہ پہلا پٹہو ملك تھا جس پر مغرب كا عتاب ٹوٹا اور مغربی آقاؤں نے اسے ایسا سبق سكھا یا كہ وہ دوسروں كے لۓ عبرت بن گیا امریكہ كی سربراہی میں مغربی سامراج نے صدام كو اس وجھ سے كیفر كردار تك پہنچایا كہ وہ اپنے آقاؤں كے منشاء كے مطابق اپنے مشرقی ھمسایہ ملك ایران اور خود عراق میں اسلام كو شكست دینے میں ناكام رہا یہ بات اس حقیقت كی نشاندہی كرتی ہے كہ قوم پرستی اور سكیولریزم جو اپنی تمام تر طاقت كے ساتھ مسلمانوں كے مقابل آكھڑاہوا تھا خود مضمحل اور تفرقہ كا شكار ہوكر نابودی كی كھائي میں جاگرا۔

اسلام كو نقصان پہنچانے میں مغرب كی كسمپرسی صاف واضح ہے یعنی مغربی حكومتوں كی فوجیں اور انٹلیجنس ایجنسیاں جو پوری طرح سے صیہونیت كے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اسلام و مسلمیں كے خلاف سرگرم عمل ہیں اور خود دھشت گردانہ كاروائياں كر كے ان كا الزام مسلمانوں پر لگا رہی ہیں۔

امریكہ اور اسرائیل عراق و فلسطین میں بد تریں مظالم ڈھارہے ہیں جنہیں ہم كفر و شرك اور ظلم كا بد ترین نمونہ قراردے سكتے ہیں لھذاوہ لوگ جو خود كو خدا و رسول كا پیرو اور مومن كہتے ہیں كس طرح امریكی ہتھیاروں كو اپنا محافظ سمجھتے ہیں اور صیہونی جنگی ماہرین كے ساتھ میٹینگیں كرتے ہیں بے شك یہ اقدامات اسلام و مسلمین كے ساتھ كھلی دشمنی ہے۔

اس وقت مسلمانوں كو جس چیز سے سب سے زیادہ خطرہ ہے وہ ان كا مختلف گروہوں میں بٹنا ہے یہ ایك طرح كی مذھبی قبائلی زندگی ہے كوئی سنی قبیلہ سے تعلق ركھتا ہے تو كوئی شیعہ قبیلہ سے اور كوئی كسی اور قبیلہ سے اس طرح ساری امت مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوچكی ہے تزلزل اور فكری ثبات كے فقدان نے ہمیں اس مقام پر پہنچایا ہے كہ ہم ایك دوسرے كے خلاف شدید تعصب كا شكار ہو چكے ہیں ۔

ہمیں امید ہے كہ مسلمان قرآن سے متمسك ہو كر حقائق كو سمجھ كر ایك ہونے كی كوشش كریں گے كیونكہ یقینا خدا اس كی ضرور مدد كرتا ہے جو دین خدا كی مدد كرتاہے ۔


source : http://rizvia.net/
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اسلامی مذاهب کی نظر میں فقهی منابع استنباط
ہندوستان میں مسلم معاشرہ کی صورت حال
کربلا اور اصلاح معاشرہ
اخلاق کی لغوی اور اصطلاحی تعریف
جلد بازی
ڈنمارک ؛ ڈینش نوجوانوں میں دین اسلام کی مقبولیت
قرآن سوزی تمام ادیان الٰہی نیز عالمی امن کے لئے ...
تشیع کے اندر مختلف فرقے
ہفتہ وحدت
عالم اسلام کے مسائل امت کے اتحاد کے متقاضی

 
user comment