اردو
Tuesday 21st of May 2024
0
نفر 0

مسلمانوں کے نزدیک رسول خدا کے مرقد مطہر کی زیارت کا کیا حکم ہے ؟

اس سوال کا منصفانہ جواب یقیناً مسلمانوں کے درمیان وحدت اور یکجہتی کا محور بن سکتا ہے اور اس دور و زمانہ میں جبکہ دنیا ،اسلام اور اسلامی تمدن واقدار کے دوبارہ زندہ ہونے اور مسلمانوں کی بیداری کا مشاہدہ کر رہی ہے۔مسئلہ زیارت رسول خدا ایک نورانی مرکزی نقطہ کا کردار ادا کرسکتا ہے اور سارے مسلمانوں کوپروانہ وار رسول رحمت (ص) کے گرد جمع کر سکتا ہے اور دین کے بلند اہداف اور دنیوی سعادت تک پہونچنے میں مسلمانوں کی ہدایت اورصحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔

زیارت نبوی(ص)کی فضیلت اوراسکے مستحب ہونے کی دلیلیں 

۱﴾ قرآن مجید اور زیارت نبوی(ص) کا استحباب 

خدا وند عالم ارشاد فرماتاہے:

وَلَوْْ ٲَنَّہُمْْ اِذْْ ظَلَمُوا ٲَنفُسَہُمْْ جَائُوکَ فَاسْْتَغْْفَرُوا اﷲَ وَاسْْتَغْْفَرَ لَہُمْْ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اﷲَ تَوَّابًا رَحِیمًا ً.﴿سورۂ نسائ /۴۶﴾

اس آیۂ کریمہ کے مطابق ،’’جب بھی کوئی اپنے اوپر ظلم کرے اور مرتکب گناہ ہو تو اگر وہ رسول اکرم کے حضور حاضر ہو کر پروردگار سے طلب مغفرت کرے اور آنحضرت(ص) بھی بارگاہ خدا میں اس کے لئے استغفار کریں تو وہ شخص خدا کو توبہ قبول کرنے والا اور رحیم پائے گا۔‘‘

اس آیۂ کریمہ میں سب سے اہم بات جملۂ ’’جاؤوک‘‘ یعنی گنہگاروںکا رسول خدا کے حضور آکر استغفارکرناہے ۔یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہونا ،آپ کی ظاہری زندگی سے مخصوص ہے یا یہ آیت ہر زمانہ کے لئے ایک عمومی حکم بیان کررہی ہے، جو آپ(ص) کی ظاہری حیات طیبہ سے مخصوص نہیں ہے۔

اس کا جواب یہ ہے : انبیائ ،اولیائے الہٰی اور شہدائے راہ خدا کے لئے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد ان کے زندہ رہنا،جسے آیات و روایات نے بیان کیا ہے اور حیات برزخی جو آیات ، روایات اور عقل سلیم کے ذریعہ ثابت ہے،ان سب کو مد نظر رکھکر یہ کہہ سکتے ہیں کہ رسول خدا (ص) کے حضور حاضر ہونا آپ(ص) کی ظاہری زندگی سے مخصوص نہیں ہے،بلکہ آپ کی رحلت کے بعد بھی آپ(ص) کے محضر مبارک میں حاضر ہونا اور آپ(ص) کے حضور، خدا سے استغفار کرنا صحیح ہے اور یہ آیت تا قیامت ، ہرزمانہ کے لئے حکم عام اور قانون کلی بیان کررہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ مقامات مقدسہ میں داخل ہو نے کے لئے جب اجازت چاہتے ہیں تو یہی کہتے ہیں :

’’ و اعلم ان رسولک و خلفائک احیائ عندک یرزقون، یرون مقامی و یسمعون کلامی...‘‘ ﴿مفاتیح الجنان﴾

پروردگارا! میں یقین کے ساتھ جانتا ہوں کہ تیرے رسول اور اولیائ ﴿ائمہ معصومین (ع)﴾زندہ ہیں اور تیری بارگاہ سے رزق پاتے ہیں۔ وہ حضرات میرے اس قیام کو دیکھ رہے ہیں اور میری باتوں کو سن رہے ہیں...

اہل سنت کی کتب ’’صحاح ستہ ‘‘ میں بھی اس طرح کی روایات وارد ہوئی ہیں کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا:

’’ما من احد یسلم علی الا رد اللّہ علی روحی حتی ارد علیہ السلام .‘‘﴿سنن ابی داؤد،ج۱، کتاب الحج، باب زیارۃ القبور، ص۷۴﴾

’’جو بھی مجھ پر سلام بھیجے گا، خدا وندعالم اسے مجھ تک پہونچائے گا اور میں بھی اس کے سلام کا جواب دوں گا۔‘‘

۲﴾ شیعہ اور اہل سنت کی روایا ت میں زیارت نبوی کا استحباب

زیارت نبوی(ص) کی فضیلت اور اہمیت کے سلسلہ میں روایات بہت زیادہ ذکر کی گئی ہیں اور ان میں سے بعض، تواتر کی حیثیت رکھتی ہیں۔

شیعہ کتب احادیث میں زیارت نبوی(ص) سے متعلق اتنی زیادہ روایات پائی جاتی ہیں کہ ان کو جمع کرنا ایک مستقل کتاب کاطالب ہے۔ ابن قولویہ قمی نے کتاب کامل الزیارات میںایسی روایات کے لئے مختلف ابواب میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔ ،منجملہ ایک روایت یہ ہے،جس میں رسول اکرم نے ارشاد فرمایا:’’من زارنی فی حیاتی او بعد موتی کان فی جواری یوم القیامۃ۔‘‘  ﴿کامل الزیارات،ص۶۔۴۱﴾

’’جو شخص میری حیات میں یا میری رحلت کے بعد میری زیارت کرے گا، وہ قیامت کے دن میرے جوار ﴿پڑوس﴾میں ہوگا۔‘‘

شیخ حر عاملی نے کتاب وسائل الشیعہ میں ابواب المزار کے چھ باب میںرسول اکرم کی زیارت کی فضیلت اور آداب زیارت کے سلسلہ میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔

زیارت سرور کائنات (ص)کے سلسلہ میں جو روایات شیعہ کتب احادیث میں وارد ہوئی ہیں ،ان سے ملتی جلتی روایات اہل سنت کی بہت سی کتب احادیث میں نقل ہوئی ہیں۔ان روایات کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان میں سے بعض تواترکی حد تک ہیں۔لہٰذا ان روایات کی سند اور راوی کے بارے میں بحث کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیںآتی ہے۔علامہ امینی نے اپنی کتاب الغدیر میں علمائے اہل سنت کی چالیس سے زیادہ کتابوں سے ان احادیث کو نقل کیا ہے ، یہاں پر ان کا خلاصہ بیان کیا جارہا ہے:

رسول خدا ارشاد فرماتے ہیں:

۱۔ ’’من زار قبری وجبت لہ شفاعتی۔‘‘ یہ روایت ۱۴ کتابوں میں ذکر ہوئی ہے۔

۲۔ ’’من جائنی زائراً لا تعملہ الا زیارتی کان حقاً علی ان اکون لہ شفیعاً یوم القیامۃ۔‘‘یہ حدیث ۶۱ کتابوں میں مذکور ہے۔

۳۔’’من حج فزار قبری بعد وفاتی کان کمن زارنی فی حیاتی۔‘‘اس حدیث کو اہل سنت کی ۵۲ کتابوں میں نقل کیا گیا ہے۔

۴۔’’ من حج البیت ولم یزرنی فقد جفانی۔‘‘۹ کتابوں میں۔

۵۔ ’’من زارنی بعد موتی فکانما زارنی فی حیاتی۔‘‘۳۱ کتابوں میں ۔

۶۔ ’’من زارنی بالمدینۃ محتسباً کنت لہ شفیعاً۔ ‘‘اسی کے مشابہ الفاظ میں ۱۲ کتابوں میں۔

۷۔’’ من زارنی میتاً فکانما زارنی حیاً و من زار قبری وجبت لہ شفاعتی یوم القیامۃ و ما من احد من امتی لہ سعۃ ثم لم یزرنی فلیس لہ عذر۔‘‘ ۶ کتابوں میں۔﴿الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب،ج۵،ص۶۸تا۸۰۱﴾

۳﴾ زیارت نبوی(ص) کے استحباب پر مذاہب اسلامی کا اجماع

شیعہ علمائ کے نزدیک زیارت نبوی(ص) کا مستحب ہوناایک متفق علیہ مسئلہ اور مسلمات مذہب میں سے ہے، جس میں شک و شبہہ کی کوئی گنجایش ہی نہیں ہے۔محقق حلی ، شرائع الاسلام میں فرماتے ہیں:

’’ یستحب زیارۃ النبی للحاج مستحباً مؤکداً۔‘‘ 

’’حاجی کے لئے رسول خدا کی زیارت کرنا مستحب موکد ہے۔‘‘ ﴿شرائع الاسلام،ج۲،ص۸۷۲﴾

علامہ حلی ، تذکرۃ الفقہائ میں تحریر فرماتے ہی: 

رسول خدا کی زیارت کرنا مستحب ہے ۔ رسول اکرم (ص) نے ارشاد فرمایا ہے: 

’’جس نے میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی، وہ اس شخص کے مانند ہے، جس نے میری حیات میں میری زیارت کی ہو ۔ اگر تم خود میری زیارت کو نہیں آسکتے تو کسی کے ذریعہ مجھے سلام بھیجو، وہ مجھ تک پہونچے گا۔‘‘﴿تذکرۃ الفقہائ ،ج۸ ،ص۹۴۴﴾

اسی طرح دیگر مذاہب اسلامی کی نظر میں بھی زیارت نبوی(ص) کا مستحب ہو نا ،ایک واضح اور متفق علیہ مسئلہ ہے۔ کتاب شفائ السقام فی زیارۃ خیر الانام میں’’ تقی الدین سبکی شافعی ‘‘نے زیارت نبوی(ص) کے سلسلہ میں وارد ہونے والی روایات کو ذکر کرنے کے بعد اہل سنت کے مذاہب اربعہ کے علمائ اور فقہائ کے اقوال نقل کرنے کے لئے ایک خاص باب قرار دیا ہے اور زیارت نبوی(ص) کے مستحب ہونے کو ایک اجماعی اور متفق علیہ مسئلہ قرار دینے کے بعد وہ کہتے ہیں:’’اس سلسلہ میں سارے علمائ اور فقہائ کے کلام کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس مسئلہ پر سارے علمائ کا اجماع ہے۔ ‘‘حنفی علمائ کہتے ہیں:مرقد نبوی(ص) کی زیارت کرنا مستحبات میں سے سب سے افضل ، بلکہ واجبات کے نزدیک ہے۔ ﴿شفائ السقام،ص۸۴﴾

عبد الرحمٰن جزیری تحریر کرتے ہیں:

’’ رسول خدا کے مرقد مطہر کی زیارت کرنا پروردگار سے نزدیک کرنے والے اعمال میں سب سے برتراوربالاہے۔‘‘﴿الفقہ علی المذاہب الاربعہ،ج۱،ص۴۹۵﴾

ابن قدامہ حنبلی نے اپنی کتاب کافی میں تحریر کیا ہے:

’’ رسول خدا کی قبر کی زیارت مستحب ہے ،اس لئے کہ آنحضرت(ص) سے مروی ہے کہ آپ(ص) نے ارشاد فرمایا:’’جو شخص میری یا میرے قبر کی زیارت کرے گا میں اس کا شفیع یا گواہ بنوں گا۔‘‘    ﴿المصادر الفقہیہ،ج۱۱،ص۴۹۵﴾

قاضی عیاض مالکی نے کتاب شفائ میں تحریر کیا ہے:

’’و زیارۃ قبرہ سنۃ مجمع علیھا ۔‘‘

’’ رسول خدا کی قبر کی زیارت کرنا ایک متفق علیہ سنت ہے۔‘‘

ابن ہبیرہ ﴿متوفیٰ ۰۶۵  ÷ھ ﴾اپنی کتاب ’’اتفاق الائمہ ‘‘میں کہتے ہیں:

’’اتفق مالک و الشافعی و ابو حنیفہ و احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علی ان زیارۃ النبی(ص) مستحبۃ۔‘‘

’’امام مالک ، شافعی ، ابو حنیفہ اور احمد بن حنبل نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ رسول خدا کی زیارت مستحب ہے۔‘‘﴿الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب،ج۵،ص ۹۰۱تا۵۲۱﴾

۴﴾ زیارت نبوی(ص) اور حکم عقل

نبی رحمت (ص) کی زیارت کی فضیلت اوراس کی اہمیت ایک ایسا مسئلہ ہے، جسے مندرجہ ذیل مقدمات کی روشنی میں ایک عقلی حکم قرار دیا جا سکتا ہے:

الف: زیارت نبوی(ص) (ص)، زیارت قبور کا ایک مصداق ہے، جس کے مستحب ہونے پر بہت سی شرعی دلیلیں موجو دہیں ۔

ب۔ جس نے انسان کی ترقی اور سربلندی کے لئے زحمتیں برداشت کی ہوں اور اس کی نجات کے لئے سعی و کوشش کی ہو ،اس کا شکریہ ادا کرنا ،اس کی تعظیم و تکریم کا وجوب ،انسان کے فطری بلکہ حیوانی خواہشات میں سے ہے ۔انسانی عقل و فطرت کا یہ حکم کہ استاد ، معلم اور والدین کے احترام کا وجوب اسی بنیاد پر قائم ہے۔ انسان کے لئے انجام پانے والے امور کی اہمیت جتنی زیادہ ہوگی، اس کو انجام دینے والے کا احترام اور شکریہ اتنا ہی زیادہ لازم ہوجائے گا۔ اسی لئے علمائے علم کلام نے توحید اور معرفت خدا کی بحثوں میں شکر منعم کے وجوب کے قاعدہ سے استفادہ کیا ہے۔عقل، ناشکری کو جفا اوربین ظلم قرار دیتی ہے۔ جوشخص اپنے معلم کی بے حرمتی کرے، ماں باپ پر جفا کرے ،عقل اس کے اس عمل کو ظلم اور مذموم سمجھتی ہے ۔

اس مقدمہ کی روشنی میں کون ایسا معلم اور مربی ہے جو رسول خدا  ö سے بلندوبالا اور برتر ہو؟!جنھوں نے عالم انسانیت میںمکارم اخلاق ، شریعت الہٰی اور عقائد حقہ کو پھیلانے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ کی ۔یہاں تک کہ قرآن کریم کو آپ(ص) سے یہ کہنا پڑا:

لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْْسَکَ ٲَلاَّ یَکُونُوا مُؤْْمِنِینَ .﴿سورۂ شعرائ،آیت۳﴾

کیا عقل اس نورانی شخصیت اور معلم بشریت کی تعظیم و تکریم کا حکم نہیں دیتی ؟!

بے شک رسول خدا کی شان میں گستاخی اور جفا کرنا ، عقل کی نظر میں ایک ناقابل معافی جرم ہے اور آنحضرت(ص) کا احترام و اکرام ، مسلمانوں بلکہ تمام نوع بشر پر ایک واجب عقلی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت (ص) کی زیارت کو جانا،آپ(ص) کے مرقد مطہر کا احترام بجا لانا اور آپ(ص) کے الہٰی اور آسمانی پیغامات اور تعلیمات کو زندہ رکھنا،آپ(ص) کی تعظیم و تکریم کے نمایاں مصادیق میں سے ہے ۔ آنحضرت(ص)کو اور آپ(ع) کے آثار اور یاد کو دلوں سے مٹا دینا،آپ(ص) پر ظلم و جفا کے بین مصادیق ہیں۔جیسا کہ آنحضرت (ص) نے خود ارشاد فرمایا : 

’’جو شخص حج بجالائے اور وہ میری زیارت کونہ آے اس نے مجھ پر جفا کی ہے ۔‘‘

یعنی آنحضرت (ص) کی زیارت نہ کرنا،آپ (ص) کے حق کو پامال کرنے اور آپ(ص) پر جفا کرنے کے مترادف ہے۔

ج۔رسول خدا کی زیارت اور آثار نبوت و وحی کا مشاہدہ ، لوگوں کے لئے عبرت اور موعظہ کا بہترین ذریعہ ہے ۔ اس بات کا باعث ہے کہ انسان آنحضرت(ص) کی قبر مطہر کی زیارت کے ذریعہ حق کو قبول کرنے اور اس کی راہ میں پائیداری میں ذرہ برابر بھی کوتاہی نہ کرے اور راہ حق پر گامزن رہنے میںکسی کی ملامت کی کوئی پرواہ نہ کرے، یہاں تک کہ سعادت کی منزلوں پر فائز ہوجائے اور شیطان و ہوائے نفسانی سے دور ہوجائے۔

۵﴾ زیارت نبوی(ص) اور سیرت عقلائ 

عقلائے عالم کی ایک اہم سیرت جو تاریخ بشریت میں ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے ۔ وہ رسول اکرم (ص)کا احترام و اکرام ہے ،جنھوں نے مختلف میدانوں میں بشریت کی خدمت کی ۔ بشریت کے خادمین اور عالم انسانیت کے محسنوںکو بھلا دینے کو صاحبان عقل و خرد ایک ناقابل بخشش گناہ سمجھتے ہیں۔

انبیائ،اولیائے خدا اور راہ خدا میں جام شہادت نوش کرنے والے ﴿جن میں سر فہرست رسول خدا (ص)کی ذات اقدس ہے﴾کا احترام و اکرام اور ان کی یادوں کو زندہ رکھنا اسی سیرت عقلائ کا ایک واضح نمونہ ہے۔ اس تعظیم و تکریم کا ایک واضح مصداق ،جو صاحبان عقل و خرد کے درمیان آج بھی رائج ہے، وہ آنحضرت (ص) کی زیارت کو جانا اور ان کی بے لوث زحمتوں کا احترام ہے۔

۶﴾ زیارت نبوی(ص) اور سیرت مسلمین

رحلت ختمی مرتبت (ص) کے زمانہ سے ہی مسلمانوں کی یہ ایک سیرت رہی ہے کہ وہ شوق ورغبت کے ساتھ آنحضرت (ص) کی زیارت کو جاتے تھے ۔ہر دور و زمانہ میں مسلمانوں کی سیرت رہی ہے کہ حج اور عمرہ کرنے والے صرف مکہ مکرمہ کی زیارت پر اکتفائ نہیں کرتے تھے ،بلکہ وہ اپنے اوپر واجب جانتے تھے کہ رسول رحمت(ص) کی زیارت کو فراموش نہ کریںاور اس طرح آثار نبوت و رسالت کو زندہ و پائندہ رکھیں۔یہ سیرت ائمہ، اہل بیت (ع) ، اصحاب، تابعین اور مختلف مذاہب اسلامی کے علمائ اور فقہائ کے زمانہ میں رائج تھی اور یہ کہیں بھی نقل نہیں ہوا ہے کہ ان حضرات نے مسلمانوں کو اس عمل سے منع کیا ہو ۔ بلکہ زیارت نبوی(ص) کا ذوق و شوق کو ایک ایسا شعلہ تھا ،جو گردش ایام کے ساتھ ساتھ مزیدبھڑکتا گیااور مسلمانوں کی شمع محفل بنا رہا۔

 

 


source : http://www.fazael.com
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

قرآن مجید میں آیا ہے کہ انسان کا رزق حلال ھونے کے ...
غیبت میں امام زمانہ عج کا مسکن کہاں ہے؟
کتنے غلے کی پیداوار پر زکواۃ واجب ہے؟
بچپن میں نبوت یا امامت ملنا کس طرح ممکن ہے؟
بلی اگر کپڑوں سے لگ جائے تو کیا ان کپڑوں میں نماز ...
کیا صدقات کو مساجد کے امور میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟
"موعظہ" اور " نصیحت" کے درمیان کیا فرق ...
حدیث میں آیا ہے کہ دو افراد کے درمیان صلح کرانا، ...
مجتہدین کے درمیان اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟
کیا اسلام میں گالی دینا، برا بھلا کہنا، دشنام ...

 
user comment