اردو
Tuesday 21st of May 2024
0
نفر 0

کیا مرد اور عورت کے درمیان عقل کے لحاظ سے کوئی فرق ہے؟

اول یہ کہ:روایتوں میں یہ مذمت عورت کے اصل وجود سے متعلق نہیں ہے اس لئے کہ قرآن کریم کی نظر میں مرد اور عورت دونوں کا وجود ،کامل ہے ،مرد اور عورت ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے بلکہ یہ مذمت فقط بعض عورتوں سے متعلق ہے ۔در حقیقت یہ مذمت مردوں کے لئے ایک یاددہانی ہے کہ وہ بے تقویٰ اور گنہگار عورتوں کے فریب سے بچیں، اس بناء پر یہ مذمت صرف عورتوں سے مخصوص نہیں بلکہ مردوں سے بھی مربوط ہے ، جیسا کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ منافق، شریر، بدمعاش، احمق، حاسد، بخیل، جھوٹے اور فاسد لوگوں کی ہمنشینی اختیار نہ کی جائے اور ان سے مشورہ نہ لیا جائے یہ ایک ایسا عقلی قانون ہے کہ جسے دنیا میں تمام عقلمند انسان قبول کرتے ہیں کہ اگر کوئی سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہے تو اس طرح کے لوگوں سے دوری اختیار کرے۔
 لہٰذا مرداور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اگر چہ مرد کی بہ نسبت عورت کے اندر کشش اور جاذبہ زیادہ پایاجاتا ہے ،مگر اسلام سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے بعض لوگ صرف ان روایتوں کو پیش کرتے ہیں جو عورت کی مذمت میں آئی ہے پھر بھی سوال کا جواب دینا ضروری ہے۔


source : http://www.ahlulbaytportal.ir
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

قرآن مجید میں آیا ہے کہ انسان کا رزق حلال ھونے کے ...
غیبت میں امام زمانہ عج کا مسکن کہاں ہے؟
کتنے غلے کی پیداوار پر زکواۃ واجب ہے؟
بچپن میں نبوت یا امامت ملنا کس طرح ممکن ہے؟
بلی اگر کپڑوں سے لگ جائے تو کیا ان کپڑوں میں نماز ...
کیا صدقات کو مساجد کے امور میں خرچ کیا جا سکتا ہے؟
"موعظہ" اور " نصیحت" کے درمیان کیا فرق ...
حدیث میں آیا ہے کہ دو افراد کے درمیان صلح کرانا، ...
مجتہدین کے درمیان اختلاف کیوں پایا جاتا ہے؟
کیا اسلام میں گالی دینا، برا بھلا کہنا، دشنام ...

 
user comment