اردو
Friday 19th of April 2024
0
نفر 0

امام حسن مجتبی (ع) کی شہادت کے بعد اسلامی معاشرے میں امام حسین (ع) کا کردار

پیغمبر اسلام (ص) کی الہی تحریک کے حقیقی وارث کے عنوان سے حضرت علی ابن ابی طالب اور امام حسن علیہما السلام نے جس تحریک کو آگے بڑھایاتھا نواسۂ رسول اسلام (ص) حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے خون میں ڈوب کراسی تحریک کی حفاظت و پاسبانی کی ہے مرسل اعظم (ص) کی رحلت کے بعد ابھی نصف صدی بھی نہیں گزری تھی کہ بنی امیہ تمام دینی معاشرتی اور سیاسی اور فوجی چھاؤزیوں پر قابض و مسلط ہوگئے اور الہی نبوت و رسالت کے تمام آثار و اقدار کو پامال کرکے "نئی جاہلیت " کی ترویج و اشاعت شروع کردی۔نواسۂ رسول امام حسین (ع) کو ایک ایسے تیرہ و تاریک دور کا سامنا تھا کہ جس میں فرزندان اسلام یعنی نبی اکرم (ص) کا کلمہ پڑھنےوالے واضح طور پر تین گروہوں میں تقسیم ہوچکے تھے ۔کچھ وہ تھے جو اس صورت حال کو برداشت نہ کرسکے آواز اٹھائی اور قتل کردئے گئے ،کچھ وہ تھے جنہوں نے حالات سے سمجھوتا کرکے گوشۂ تنہائي میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت میں اپنا وقت گزارنا اور حق و باطل کی معرکہ آرائی سے بے پروا ہوکر تقدس کی چہار دیواری کھڑی کرکے امن و امان کی زندگي پسند کرلی اور ایک بڑا گروہ وہ تھا جس نے اپنی صحابیت کو دنیا آباد کرنے کا وسیلہ بنایا اور جو افتخارات جمع کئے تھے امیر شام کے سبز محل میں جاکران کا سودا کرلیا اور درہم و دینار کی تھیلیوں کے بدلے جعلی حدیثوں کے انبار لگانا شروع کردئے ایسے میں ،امام حسین (ع) کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی تھیں ،اسلام اور اسلامی اقدار و معیارات کا تحفظ سب سے اہم مسئلہ تھا ، جلد بازی کا کوئي بھی اقدام ، ملت اسلامیہ کی یکجہتی کے بقاؤ تحفظ کی راہ میں مرسل اعظم کے وارث کےطور پر حضرت علی (ع) اور امام حسن (ع) کی تمام کوششوں کو خاک میں ملاسکتاتھا تاریخ اسلام کا کوئی ادنی طالبعلم بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ امیر شام کے ساتھ امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد تقریبا" دس سال تک سیاسی گھٹن کے باوجود لوگ جنگ و خوں ریزی سے محفوظ امن و سکون کی زندگي گزاررہے تھے امام حسن (ع) کی زندگی میں ان سے یا ان کے دوستوں سے شام کی حکومت کھلے عام کسی بھی قسم کے تعارض اور مقابلہ آرائي کی جرات نہیں کرسکی ، حتی جس وقت ملوکیت کے بانی امیر شام نے خوارج کے خلاف جنگ کے سلسلے میں امام حسن (ع) کو اپنا ہم نوا بنانا چاہا تو امام (ع) نے جواب میں لکھا تھا : " اگر مجھ کو کسی بھی اہل قبلہ مسلمان سے جنگ کرنی ہوتی تو سب سے پہلے تم سے جنگ کرتا مگر لوگوں کی بھلائي اور خوں ریزی سے بچنے کے لئے میں نے تمہارے ساتھ جنگ سے پرہیز کیا ہے چنانچہ امام حسین علیہ السلام نے بھی امام حسن (ع) کی حیات میں اور ان کی شہادت کے بعد بھی جب تک امیر شام زندہ رہے امن و صلح کی پالیسی پر عمل کیا اور مسلحانہ جنگ کے سلسلے میں کسی بھی مشورہ دینے والے کی بات قبول نہیں کی اور اس دوران حجرابن عدی کی مانند کئي بڑی شخصیتوں کے قتل کے باوجود امیر شام کے خلاف تلوار نہیں اٹھائي ۔البتہ اپنے آئندہ انقلاب کے لئے زمین فراہم کرتے رہے چنانچہ سنہ 57 یا اٹھاون ہجری میں امام حسین (ع) نے مکہ کا سفر کیا ،عبداللہ ابن جعفر اور عبداللہ ابن عباس بھی بنی ہاشم کی عورتوں اور مردوں کے ساتھ آپ کے ہمراہ تھے منا میں تقریبا" دوسو سے لے کر سات سو تک اصحاب کے مجمع میں آپ نے خطبہ دیا اور مسلمانوں کے درمیان انحرافات کی ترویج و اشاعت سے خبردار کرتے ہوئے بہت سے حقائق بیان کئے اور لوگوں کو تاکید کی کہ ان کا پیغام اپنے اپنے علاقوں اور شہروں میں بھی پہنچادیں آّ نے فرمایا کہ " آج منبروں سے اور نمازوں اور دعاؤں میں جس شخص پر لعنت کی جارہی ہے وہ خدا کے رسول کا بھائي اور دنیائے اسلام کی دوسری بڑی شخصیت ہے جس کے فضائل و کمالات بہت سی آیات و روایات میں موجود ہیں ۔"اور جب امیر شام کی موت کی خبر کے ساتھ یزید پلید کی بیعت کا مطالبہ آپ کے سامنے پیش کیا گيا تو آپ نے سردربار، مدینہ کے دارالامارہ میں اعلان کردیا : ہم خاندان نبوت اور وحی و رسالت کا مرکز ہیں ہمارے گھر میں خدا کے فرشتے آتے جاتے ہیں الہی ہدایت کا ہم ہی آغاز و انجام ہیں یزید ایک فاسق و فاجر شخص ہے جو شراب پیتا ہے اور بے گناہوں کا قتل کرتا ہے کھلے ہوئے فسق و فجور میں مبتلا ہے ۔میرا جیسا شخص یزید پلید کی مانند ظلمت و تاریکی کی ہرگز بیعت نہیں کرسکتا ۔اس اعلان کے ساتھ آپ نے مدینہ چھوڑدیا اور مکہ  ہوتے ہوئے اپنی شہادت گاہ کربلا پہنچ کر ایک عظیم انقلاب برپا کردیا۔ 


source : http://urdu.irib.ir
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

حضرت فا طمہ زھرا (س) بحیثیت آئیڈیل شخصیت
حضرت علی اور حضرت فاطمہ (س) کی شادی
محشر اور فاطمہ کی شفاعت
اقوال حضرت امام جواد علیہ السلام
کتاب’’جنت البقیع کی تخریب‘‘ اردو زبان میں شائع
حادثات زندگی میں ائمہ (ع) کا بنیادی موقف
پیغام شہادت امام حسین علیہ السلام
سنت رسول ۔ اہل سنت او راہل تشیع کی نظر میں
انبیاءکرام اور غم حسین علیہ السلام
حضرت فاطمہ زہراء

 
user comment