عراق میں امریکا پر نائن الیون حملوں کی طرز پر طیارے کے حملے کے ذریعے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے روضے کو شہید کرنے کی سازش ناکام بنا دی گئی ہے۔
ایک ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عراقی حکام کو یہ اطلاع ملی تھی کہ دہشت گرد جنوبی شہرنجف کے ہوائی اڈے سے اڑنے والے کسی طیارے کو روضے پر حملے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں جس کے بعد بدھ کو ہوائی اڈا مکمل طور پر بند کردیا گیا۔
ایک عربی ٹی وی چینل کی رپورٹر زینب بلال نے اطلاع دی ہے کہ عراقی حکام اس ناکام سازش کے بارے میں ایک نیوز کانفرنس کرنے والے ہیں جس میں اس کی مکمل تفصیل بیان کی جائے گی۔
ادھر دارالحکومت بغداد کے وسطی تجارتی علاقے الرشید میں ایک بم دھماکا ہوا ہے جس میں تین افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ایک غیر ملکی خبررساں ادارے کے رپورٹر کی اطلاع کے مطابق بم دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئی ہیں۔عراق کی وزارت داخلہ کے حکام نے اس بم دھماکے کی تصدیق کردی ہے۔
بغداد میں سات مارچ کو منعقدہ عام انتخابات کے بعد متعدد بم دھماکے ہوچکے ہیں جن میں بیسیوں افراد مارے گئے ہیں۔4اپریل کو عراق میں غیرملکی سفارت خانوں کے باہر تین خودکش بم دھماکے ہوئے تھے جن میں تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔القاعدہ سے وابستہ ایک تنظیم اسلامی ریاست عراق نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
source : http://alqamar.info/2010/2010/04/14/hazrat-ali.html